مصالحت کی سعودی پیشکش اور ایرانی رویہ

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے بتایا کہ ریاض اس شرط پر ایران کی مذاکرات کی پیشکش قبول کرے گا کہ تہران خطے میں اپنی فوجی اور بیلسٹک میزائل سرگرمیاں معطل کرے۔

سعودی فرمانروا شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز ایرانی صدر محمود احمدی نژاد کا 3 مارچ 2007 کو ریاض کے ہوائی اڈے پر پہنچنے پر استقبال کر رہے ہیں۔ احمدی نژاد شاہ عبداللہ کے ساتھ عراق میں فرقہ وارانہ خونریزی، لبنان کے بحران اور مغرب کے ساتھ تہران کی جوہری تنازعہ پر بات چیت کے لیے سعودی عرب پہنچے تھے۔ اس وقت تہران سے روانگی سے قبل احمدی نژاد نے کہا تھا کہ وہ سعودی عرب کے ساتھ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کو کم کرنے کے لیے کس طرح مل کر کام کر سکتے ہیں اس پر بات کریں گے (فائل ۔ اے ایف پی)

عالمی طاقتوں اور امریکہ کے ایران کے ساتھ معطل جوہری معاہدے کو دو طرفہ رعایتوں کے ساتھ بحال کرنے پر تہران میں خوشی کے شادیانے بجائے جا رہے ہیں۔ یہ خوشیاں اس بات سے قطع نظر منائی جا رہی ہیں کہ جس معاہدے کی بحالی کی کوششوں میں دن رات کھپایا جا رہا ہے، اس میں کتنی خامیاں ہیں۔

خوشی کا اندازہ اس امر سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ایران، نطنز میں اپنی جوہری تنصیب پر اسرائیلی حملے کا غم بھی بھول گیا۔ مبارک سلامت کے اس ماحول میں تہران کے سرکاری حلقوں کو گذشتہ مہینے وزیر خارجہ جواد ظریف کی افشا ہونے والی آڈیو ٹیپ سے پیدا ہونے والے بحران پر بھی تبادلہ خیال کا موقع نہ مل سکا جس میں انہوں نے 15 ماہ قبل امریکی حملے میں مارے جانے والے القدس فورس کے کمانڈر قاسم سلیمانی پر شدید تنقید کی تھی۔

آڈیو ٹیپ کے تمام مندرجات کو درست تسلیم کرنے کے بعد جواد ظریف کے ناقدین کو اسے ’سازش‘ تسلیم کرنا اور بھی مشکل ہو گیا۔ اگرچہ جواد ظریف نے قاسم سلیمانی پر تنقید کے جو نشتر چلائے وہ بند کمرے میں ہونے والی گفتگو میں سامنے آئے تاہم اس کے باوجود ’میدان جنگ‘ میں مارے جانے والے فوجی کمانڈر کی ایسی بے توقیری کا کوئی جواز نہیں۔

صدر حسن روحانی نے جس چابک دستی سے اپنے وزیر خارجہ کا دفاع کیا، وہ کوشش بھی کارگر ثابت نہ ہو سکی۔ انہوں نے ناقدین کی زبانیں بند کروانے کے لیے یہ شوشہ چھوڑا کہ آڈیو ٹیپ افشا کرنے کا مقصد قومی اتحاد کو گزند پہنچانا تھا۔ ان کے بقول یہ اتحاد بالواسطہ حکومت کی مضبوطی کا مظہر ہے۔

یہ بات انتہائی اہمیت کی حامل ہے کہ اس لڑائی کو ایران کے اندر لڑنا معاملات کو زیادہ پیچیدہ بنا سکتا ہے۔ اگر ایسا ہوا تو لڑائی میں اسرائیل کا پلہ سب سے بھاری رہے گا، جو اب تک ایران کی نطنز میں جوہری تنصیبات کو نشانہ بنا چکا ہے۔

نیز کھلے سمندر میں ایران کے جہازوں پر اسرائیلی میزائل حملوں کا فخریہ اعتراف شہہ سرخیوں میں کیا جا رہا ہے۔ ایرانی تنصیبات کے خلاف سائبر حملے اور ایران نواز ملیشیاؤں پر شام اور عراق۔ایران سرحد پر اسرائیلی بمباری سے صورت حال کی سنگینی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ گذشتہ چار دہائیوں سے جاری ایرانی تنازع کو کٹھ پتلیوں [پراکسی] کے ذریعے لڑی جانے والی جنگ سے حل کرانے کی کوششیں ہوتی رہی ہیں۔ ان پراکسیز میں حزب اللہ اور حماس سرفہرست رہے ہیں۔ بعد میں عراق کے اندر تشکیل پانے والے مسلح جتھوں کے ذریعے یہ لڑائی لڑی جاتی رہی۔ پھر افغان اور پاکستان سے کرائے کے جنگجوؤں کو شام میں دھکیل کر اس محاذ کو گرم رکھا گیا۔ آخر میں ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا نے یمن میں اس تنازع کو زندہ رکھنے میں مدد دی۔ آخری حربہ استعمال کر کے ایران، یمن کے اندر نصف علاقے کو حوثی فرنٹ مین کے ذریعے اپنے زیر نگیں لا چکا ہے۔

براہ راست تصادم سے بچنے کے لیے ایران کے وضع کردہ اصولوں کو امریکہ اور اسرائیل نے تسلیم کر لیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت پراکسیوں کے ذریعے جنگ لڑنا طے پایا۔ حزب اللہ کو لبنان میں ایرانی پراکسی بنایا گیا جب کہ ڈرامے کے اصل کردار تہران میں مقیم رہے۔

عراق میں ایران کے سرکردہ فوجی کمانڈر قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد حالات یکسر تبدیل ہو گئے۔ بعد ازاں ایران کے سینیئر ترین جوہری سائنس دان محسن فخری زادہ کو تہران میں دن دیہاڑے قتل کر دیا گیا۔ انہیں ملک کے خفیہ جوہری پروگرام کا ماسٹر مائنڈ سمجھا جاتا تھا۔

اس کے بعد دور بیٹھ کر ہدف کو نشانہ بنانے کی حکمت عملی میں تبدیلی لائی گئی اور نتیجتاً کھلے پانیوں میں ایرانی بحری جہازوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں کا جواب ایران نے دیمونہ میں اسرائیل کی جوہری تنصیبات پر میزائل داغ کر دیا۔ ایران اب ماضی کی طرح حماس اور حزب اللہ پر تکیہ نہیں کر رہا۔ اسرائیل بھی شام اور عراق میں ایران کی مسلح کٹھ پتلیوں کو نشانہ بنانے پر اکتفا نہیں کر رہا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تیزی سے بدلتی ہوئی صورت حال اور مشکوک پس منظر میں جوہری معاہدے کی بحالی کا مقصد ایران پر عائد پابندیاں غیر مؤثر کرتے ہوئے اسے [تہران] تمام دنیا اور مارکیٹوں کے ساتھ آزادانہ رابطے کی سہولت فراہم کرنا ہے۔

یمن، عراق اور شام میں جارحیت روکے بغیر اور لبنان کی طرف سے خلیجی ملکوں کو درپیش خطرے کو فراموش کرتے ہوئے تہران سے جوہری معاہدے پر مغربی دنیا تو شاید سکھ کا سانس لے لیکن اس کا منطقی نتیجہ فوجی کشیدگی میں اضافے کی صورت سامنے آئے گا۔

اس صورت حال سے علاقائی مداخلت کو ہوا ملے گی جبکہ اس سے روس اور چین کو علاقے میں اپنی موجودگی بڑھانے کا موقع ملے گا۔ ایرانی حکومت معاہدے کے تحت اپنی کمٹمنٹس پوری کیے بغیر کھل کھیلنے کے خواب دیکھ رہی ہے۔ علاقائی طاقتیں، یورپ اور امریکہ اس ہی اس کھیل سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔

ایسے میں کشیدگی کو ہوا دینا ایران کے حق میں بہتر نہیں۔ تہران، عراق میں جاری اپنی کارروائیاں اگر ختم نہیں کرتا تو انہیں برقرار رکھنے کے لیے بین الاقوامی مداخلت ناگزیر ہو جائے گی۔ یہی صورت حال یمن اور شام میں برقرار رہے گی۔

ایران کے صدر حسن روحانی کی حکومت نے سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کی میز سجانے کا عندیہ ظاہر کیا ہے۔ ایک حالیہ ٹی وی انٹرویو میں سوال کے جواب میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے بتایا کہ ریاض اس شرط پر ایران کی مذاکرات کی پیشکش قبول کرے گا کہ تہران خطے میں اپنی فوجی اور بیلسٹک میزائل سرگرمیاں معطل کرے۔

ایران کے حالیہ مثبت اور دوستانہ اقدامات اگر امریکی پابندیوں سے نکلنے کی ایک چال ثابت ہوئے تو جان لیجئے یہ انتہائی خطرناک صورت حال کا پیش خیمہ ثابت ہو گی۔ یہ حقیقت بھی ماضی کی طرح آج بھی ہمارا منہ چڑا رہی ہے کہ خطے میں کوئی فوجی کامیابی تادیر برقرار نہیں رکھی جا سکتی۔

امریکہ کا عراق اور افغانستان سے انخلا اس حقیقت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ فاعبتروا يا اولي الابصار ۔۔۔!

نوٹ: یہ مضمون مصنف کی ذاتی رائے ہے اور ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ