امن کی آشا؟

یہ کیسی ایٹمی طاقتیں ہیں جن میں سے ایک تو اپنی عوام کے لیے ہسپتالوں میں آکسیجن کا بندوبست نہیں کر پاتی اور دوسری کرونا ویکسین خریدنے کی قوت نہیں رکھتی۔

پاکستان اور بھارت میں کشیدگی میں کمی سے دفاعی اخراجات میں کمی کا امکان بڑھ گیا ہے (اے ایف پی فائل فوٹو)

 

یہ تحریر آپ مصنف کی آواز میں یہاں کلک کرنے سے سن بھی سکتے ہیں


بھارت سے ہمارے جارحانہ تعلقات کی وجہ سے پچھلے 73 سالوں میں ہم اربوں ڈالر جو کہ عوام کی فلاح و بہبود کے منصوبوں اور ملک کی معاشی ترقی پر خرچ کرسکتے تھے، اپنی دفاعی ضرورتوں پر خرچ کیے جا رہے ہیں۔

اس کے باوجود کہ ہم اپنے عوام کو کرونا (کورونا) ویکسین فراہم کرنے سے قاصر ہیں، ہم بھارتی جارحانہ رویے کی وجہ سے دفاعی اخراجات میں کسی صورت بھی کمی کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ تقریباً ایسی ہی صورت حال بھارت میں ہے جہاں عام عوام غربت کی چکی میں پس رہے ہیں اور جاری کرونا بحران میں ہزاروں جانیں گنوا چکے ہیں۔ لیکن علاقائی بالادستی کے جنون میں مبتلا بھارتی قیادت قیمتی وسائل اپنے عوام کی فلاح کے منصوبوں پر خرچ کرنے کی بجائے دفاعی اخراجات میں جھونکے جا رہی ہے۔

کرونا بحران نے دونوں ملکوں میں صحت کے شعبے پر انتہائی کم سرمایہ کاری کرنے کی وجہ سے عوام کی ایک بڑی تعداد کی جانوں کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ یہ کیسی ایٹمی طاقتیں ہیں جن میں سے ایک تو اپنی عوام کے لیے ہسپتالوں میں آکسیجن کا بندوبست نہیں کر پاتی اور دوسری کرونا ویکسین خریدنے کی قوت نہیں رکھتی اور اس کوشش میں مصروف ہیں کہ ویکسین مفت میں یا تو دوست ممالک سے یا بین الاقوامی ایجنسیوں سے مل پائے۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان اور بھارت کھربوں روپے اپنی آزادی کے بعد دفاع کے شعبے میں جھونک چکے ہیں۔ اس وقت بھی دونوں ممالک تقریبا سالانہ سو ارب ڈالر (تقریباً 150 کھرب پاکستانی روپے) دفاعی ضرورتوں کے لیے استعمال کرتے ہیں جبکہ دونوں ممالک میں غربت کی وجہ سے کروڑوں لوگ روزانہ بھوک کی نیند سوتے ہیں۔ کئی تو بھوک کے ہاتھوں جانوں سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔

کروڑوں لوگوں کے سر پر چھت نہیں ہے اور اسی طرح کروڑوں مریض صحت کی سہولتیں نہ ہونے کے باعث ہسپتال پہنچنے سے پہلے ایڑیاں رگڑ رگڑ  کر اپنے خالق حقیقی کے پاس پہنچ جاتے ہیں۔ پینے کے محفوظ پانی کی کمیابی سے ان ایٹمی ممالک کے بےشمار شہری بیماریوں کا شکار ہو کر اس جہان فانی سے کوچ کر جاتے ہیں۔

کروڑوں بچے تعلیم کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے عملی زندگی میں ایک بےہنر غیرتعلیم یافتہ انسان کے طور پر قدم رکھتے ہیں۔ ان غریب اور لاچار عوام کے لیے ان دونوں ممالک نے خوشحال زندگی گزارنے کے لیے بہت کم مواقع فراہم کیے ہیں۔

اس افلاس سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ دونوں ممالک اپنے تنازعات میں کمی لاتے ہوئے بیش بہا قومی وسائل دفاعی اخراجات میں جھونکنے کی بجائے غریب عوام کی فلاح کے لیے استعمال کریں۔ وقتاً فوقتاً دونوں ممالک نے تنازعات کو کم کرنے کے لیے کافی مرتبہ مذاکرات کیے مگر ان بےنتیجہ مذاکرات نے مخاصمت میں مزید اضافہ کیا ہے اور بتدریج دفاعی اخراجات میں کثیر اضافہ ہوتا گیا ہے۔

پاکستان میں سیاسی اور عسکری قیادتوں کے درمیان بھارت کے ساتھ تعلقات کی سمت کے بارے میں اختلافات کی وجہ سے بھی مذاکرات کے متعدد دور نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوئے۔ بھارت میں بھی ایک انتہا پسند جنگجوانہ لابی کی موجودگی کی وجہ سے تعلقات میں ہمیشہ کشیدگی ہی رہی ہے۔

پاکستان میں بھارت کے ساتھ دوستانہ تعلقات کی سیاسی قیادت کی کوششوں کو عموما عسکری قیادت نے شک کی نگاہ سے دیکھا ہے اور منتخب وزرائےاعظم کے خلاف منفی مہمیں چلاتے ہوئے یا تو انہیں ’سکیورٹی رسک‘ قرار دیا یا انہیں ’مودی کا یار‘ جیسے القابات سے نوازا گیا۔ دوستانہ میڈیا کو استعمال کرتے ہوئے ان کی حب الوطنی پر شکوک کے اظہار کیے گئے۔

ایک وزیر اعظم کی بھارت سے دوستانہ تعلقات بہتر کرنے کی کوششوں کو ادارہ جاتی مخالفت کا سامنا کرتے ہوئے کارگل جیسی مہم جوئی کا راستہ اختیار کیا گیا۔ اور یہ مہم جوئی اس وقت ہو رہی تھی جب بھارتی وزیر اعظم خیرسگالی کے دورے پر لاہور میں موجود تھے۔ اسی طرح قومی میڈیا میں بھی جاری ’امن کی آشا‘ کی کوششوں کو شک کی نگاہ سے دیکھا گیا اور ان کوششوں کو ریاستی جبر کے ذریعے ختم کرایا گیا۔

مختلف سیاسی حکومتوں کے دور اقتدار میں یہ عسکری ردعمل ظاہر کرتا ہے کہ عسکری اور سیاسی قیادتیں بھارت کے ساتھ تعلقات کے معاملے میں کبھی بھی ایک صفحے پر نہیں رہیں اور نہ ہی رہنے کے امکانات ہیں۔ بھارت کے سلسلے میں عسکری قیادت اپنی سوچ کو عوام کے منتخب نمائندوں کی سوچ سے ہمیشہ مختلف پاتی رہی۔ ان تمام جمہوری ادوار میں عسکری قیادت اپنی سوچ کو حاوی رکھنے کی ہر ممکن کوشش کرتی رہی اور اس میں کامیاب بھی رہی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بھارت کے ساتھ ہمارے تعلقات کے اتار چڑھاؤ کو دیکھتے ہوئے اور اس میں عسکری قیادت کی دلچسپی اور غالب کردار سے یہ آسانی سے کہا جا سکتا ہے کہ ان تعلقات میں بہتری اور کشیدگی میں کمی صرف اسی وقت ہو سکتی ہے اگر عسکری قیادت اس کی ضرورت محسوس کرے۔ پچھلے کچھ دنوں کے واقعات سے ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ عسکری قیادت نے یا تو بین الاقوامی دباؤ یا زمینی حقائق کا بےلاگ تجزیہ کرتے ہوئے یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ بھارت سے تعلقات میں بہتری لانے کی ضرورت ہے اور اس سلسلے میں میں نہ صرف کچھ دوست ممالک کوششیں کر رہے ہیں بلکہ ہمارے سلامتی کے ادارے بھی بھارتی اداروں سے بیک چینل رابطے میں ہیں۔

یہ ایک خوش آئند قدم ہے اور امید کی جاتی ہے کہ اس سے پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں بہتری آئے گی اور دونوں ممالک ممکنہ امن کی وجہ سے اپنے بیش بہا قومی وسائل متناسب اور ذمہ دارانہ انداز میں عسکری قوت بڑھانے کے ساتھ ساتھ  عوام کی فلاح و بہبود اور ان کی زندگیاں آسان بنانے پر بھی صرف کریں گے۔

اس نئے راستے پر چلتے ہوئے عسکری قیادت کو اس کی بھی تیاری کرنی ہو گی کہ اس نئی پالیسی کو پاکستانی عوام کے آگے کیسے پیش کیا جائے گا۔ کیا پاکستانی عوام جسے پچھلے 73 سالوں میں ہر وقت یہ بتایا گیا ہے کہ بھارت ہمارا ازلی دشمن ہے اور پاکستان کو ختم کرنے کے درپے ہے، کیا وہ بھارت کے ساتھ مسئلہ کشمیر حل کیے بغیر بہتر تعلقات کے بیانیے کو آسانی سے قبول کریں گے؟

کیا یہ بیانیہ ہماری پہلے سے سیاسی بنیادوں پر منقسم قوم کو مزید تقسیم ہونے سے بچا سکے گا اور کسی قسم کی عوامی بے چینی اور سیاسی عدم استحکام کا سبب تو نہیں بنے گا۔

ان مذاکرات کا اثر یقینا ہماری کشمیر پالیسی اور چین کے ساتھ تعلقات پر بھی پڑ سکتا ہے اور کیا اس پر خطر راستے کا انتخاب ان اہم شریک کاروں کے مشورے کے ساتھ کیا گیا ہے۔ کیا ہمارے عسکری فیصلہ ساز بظاہر ایسے غیر مقبول فیصلے ہماری عوام کو بیچ سکیں گے؟

بھارت سے تعلقات بہتر کرنے کی کوشش ایک انتہائی مشکل اور کٹھن راستہ ہے جسے پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کے پیچیدہ تعلقات کی تاریخ کے پیش نظر صرف عسکری قیادت ہی حل کر سکتی ہے۔ ایسی پہل اگر سیاسی قیادت کی طرف سے ہو تو اس کو فوراً ملک دشمنی کا قصور وار ٹھہرایا جا سکتا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون مصنف کی ذاتی رائے ہے اور ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ