عیدی کا مزا، عید پر ہی

عید کے پرمسرت تہوار میں جہاں نئے زرق برق کلف دار اجلے نئے نئے کپڑوں کو زیب تن کرنے کا احساس پنہاں ہے، وہیں عیدی ملنے کی آس اور امید تو جیسے چاند رات سے ہی دل ہی دل میں کئی لڈو پھوڑنے لگتی۔

 سستا دور تھا، ساتھ ساتھ رشتوں اور تعلق کی پر خلوص مٹھاس بھی، اسی لیے صرف خون کے رشتے ہی نہیں بلکہ آس پڑوس کے محلے دار بھی عیدی دے دیتے تھے (اے ایف پی فائل)

اگر آپ ابھی بھی ’عیدی‘ وصول کرنے والوں کی فہرست میں شامل ہیں تو یقین جانیں کہ آپ خوش قسمت ہی ہیں۔

اور اگر دینے والوں میں آپ کا شمار ہوتا ہے تو اس مہنگائی کے طوفان کو دیکھتے ہوئے آپ سے دلی ہمدردی ہی کی جاسکتی ہے کیونکہ ہماری طرح آپ نے بھی وہ سہانا اور خوبصورت بچپن ضرور دیکھا ہوگا جب عیدی کے کڑک نوٹ جیب میں آتے ہی خود کو شہنشاہ تصور کیا جاتا تھا۔ منصوبہ بندی ہونے لگتی تھی کہ اس ’قارون کے خزانے‘ کا استعمال کیسے اور کس طرح کیا جائے گا۔

عید کے پرمسرت تہوار میں جہاں نئے زرق برق کلف دار اجلے نئے نئے کپڑوں کو زیب تن کرنے کا احساس پنہاں ہے، وہیں عیدی ملنے کی آس اور امید تو جیسے چاند رات سے ہی دل ہی دل میں کئی لڈو پھوڑنے لگتی۔ رات گئے ذہن اسی تگڑم میں ہوتا کہ کس کس سے عیدی مل سکتی ہے، جس کے لیے ان کے در پر جایا جاسکتا ہے۔ عالم یہ ہوتا کہ عید کی نماز کی ادائیگی کرتے ہوئے بس یہی انتظار کیا جاتا کہ کب گھر واپسی ہوگی اور نانا، نانی، دادا، دادی، اماں ابا، چاچا، ماموں، خالہ اور دوسرے رشتے داروں پر عیدی کے لیے دھاوا بولا جائے گا۔

 سستا دور تھا، ساتھ ساتھ رشتوں اور تعلق کی پر خلوص مٹھاس بھی، اسی لیے صرف خون کے رشتے ہی نہیں بلکہ آس پڑوس کے محلے دار بھی اپنی بزرگی کے رتبے کی عظمت کو قبول کرتے ہوئے عیدی دینے میں کسی بھی طرح کنجوسی کا مظاہرہ نہیں کرتے۔ سر پر شفقت کا ہاتھ پھیرتے اور جیب سے چاہے پانچ روپے کا ہی نوٹ نکالتے لیکن عیدی سمجھ کر ہم جیسے بچوں کے آگے کردیتے، کبھی تو خود بزرگ پڑوسیوں سے عیدی کا تقاضہ کرنے میں کوئی شرمندگی نہیں ہوتی۔

راز کی بات یہ ہے کہ ان سے ملنے والی ’عیدی‘ درحقیقت ہماری ’آف شور کمپنی‘ کی کمائی ہوتی۔ جسے اماں سے پوشیدہ رکھا جاتا۔ اس کی وجہ یہ ہوتی کہ ہم اماں کو محکمہ انکم ٹیکس یا نیب کی طرح سمجھتے، جن کی عقابی نگاہیں ان ’زائد اثاثہ جات‘ سے اوجھل نہیں رہتیں۔ کیونکہ کئی بار ہم اس آمدن سے اس لیے محروم ہوچکے تھے کہ اماں کے علم میں آتا تو وہ یہی کہتیں کہ ’ارے میں بھی ان کے بچے کو عیدی دے دیتی ہوں۔ یہاں ’میں‘ سے مراد ہماری ملنے والی عیدی کی تصور کی جائے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اگر یہ کہیں ناں کہ ’عیدی‘ کے ’جوڑ توڑ‘ کے معاملے میں اماں کو جہانگیر ترین جیسی خصوصیت حاصل تھی تو بے جا نہ ہوگا۔ بعض دفعہ تو وہ زیرک اور باصلاحیت ماہر معیشت یا وزیر خزانہ بن کر عیدی کے ہندسوں کا بجٹ پہلے ہی تیار کر بیٹھتیں۔ عید پر رشتے داروں کے گھر جانے یا آنے سے پہلے ہی اماں لفافے بناکر تیار رکھتیں۔

عام طور پر جو گھرانے خاندانی منصوبہ بندی کے قائل نہیں  تھے، وہاں عیدی کی رقم، افراد کی تعداد کو دیکھتے ہوئے کم ہوتی۔ ہم سب کو تاکید کی جاتی کہ مہمان یا میزبان عیدی دیں تو سلام کرنے کے بعد گھر آکر پہلا کام یہ کرنا کہ یہ ’غیر ملکی تحفے‘ سیدھی شرافت سے ’توشہ خانہ‘ میں جمع کرا دینا تاکہ اس میں کمی بیشی کرکے متعلقہ فرد کے بچے کو دی جاسکے۔

ہم ٹھہرے ہمیشہ سے اپوزیشن کی راہ پر چلنے والے۔ جبھی احتجاج کیا جاتا کہ عیدی ہماری ہے تو پھر ایسی ناانصافی کیوں؟ تو ایک جواب جو ہم شعور میں آنے کے بعد بار بار سن چکے تھے، وہ گوش گزار کیا جاتا کہ ’گھر کے خزانے پر بوجھ تو نہ ڈالو۔‘  یوں ہماری کیفیت وہ ہوتی کہ ’ہاتھ تو آیا منہ کو نہ لگا۔‘ جب کبھی سودا سلف کے لیے اماں ’قومی خزانے‘ سے کڑک کڑک نوٹ نکالتیں تو ہم بے ساختہ ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے کہتے ’ہائے ہماری عیدی۔‘ جس پر اماں کی معنی خیز مسکراہٹ آج تک ذہن میں نقش ہے۔

اب اسے ہماری خوش قسمتی ہی کہیے جناب کہ اگر اماں ابا کی دی ہوئی عیدی کی ادائیگی سے اضافی رقم  کوئی رشتے دار ادا کردیتا تو اماں واقعی اسے ہمارا حق سمجھ کر چھوتی تک نہیں تھیں۔ عید پر مہمان آنے کے بعد ہمیں وہ چلتی پھرتی اپنی عیدی نظر آتے، جن کے سامنے سے اُس وقت تک نہیں ہٹتے، جب تک وہ عیدی دے کر ہماری ندیدی آنکھوں سے خود کو محفوظ نہ بنالے۔

ہم بچوں کی عیدی کے لیے ابا ہی عمر و عیار کے اپنے اُس زنبیل نما بیگ سے رقم نکالتے جو خاص طور پر عیدی کے لیے اس تہوار میں جلوہ افروز ہوتا۔ سچ پوچھیں تو ابا کی عیدی ہمیں دنیا کی سب سے بڑی اور قیمتی چیز محسوس ہوتی، جس میں باپ اور اولاد کی مہک، کرنسی نوٹ کی خوشبو کو بھی ماند کردیتی۔ عیدی کا یہ نوٹ بٹوے میں رکھے دیگر نوٹوں کے درمیان بادشاہ محسوس ہوتا۔ اکثرو بیشتر اماں سے ہم یہ سوال کرتے کہ آپ کب عیدی دیں گی؟  تو ان کا ایک ہی سفارتی پالیسی بیان ہوتا کہ ’تمہارے ابا نے دے دی ناں، ہم اور وہ کوئی الگ الگ تھوڑی ہیں۔‘

کزن اور یار دوست اکٹھے ہوتے تو یہی جوڑ توڑ کیا جاتا کہ کس کی عیدی کتنی ہوئی ہے۔ یہ بھی اُس سستے زمانے کا حسن تھا کہ عام طور پر یہ عیدی ایک سے ڈیڑھ ماہ تک خوب چلتی۔ بعض اوقات تو اماں ہم سے ’قرض حسنہ‘ سمجھ کر اسے لے لیتیں جو مقررہ وقت پر واپس بھی مل جاتا۔

 جوں جوں جوانی کی دہلیز پر قدم رکھا تو یقین جانیں جب بھی کسی بڑے سے عیدی ملتی تو اس کرنسی نوٹ کو تھامنے کے بعد عجیب سی خوشی سے پورا تن بدن سرشار ہوجاتا، لگتا کہ واقعی اب تک ہم چھوٹے ہی ہیں۔

پھر کسی کے نام  کے ساتھ جڑنے کے بعد  ’عیدی‘  کے نام پر چیزوں کے آنے اور جانے کی رسم سے بھی ہمکنار ہوئے اور پھر وہ وقت بھی آیا جب ہم خود عیدی دینے کے قابل ہوئے تو یہ تگ و دو ہونے لگی کہ عید آنے والی کڑک چمچماتے ہوئے نوٹ کہاں سے اور کون دوست دلواسکتا ہے۔ اب ہمارے بچے فخریہ بتاتے ہیں کہ ان کی عیدی  ہزاروں میں ہوئی تو پلک جھپکتے میں اپنا دور یاد آجاتا ہے جب ہزار کے انکڑے کو چھونا ہی ایسا تھا، جیسا کسی ہیمالے کو پار کرنا۔

 فی زمانہ تو آس پڑوس کے پڑوسیوں سے میل میلاپ محدود سے محدود  تر ہوتا جارہا ہے،  بچوں کے حوالے سے رونگٹے کھڑے کردینے والے دو تین ایسے واقعات ہوئے ہیں کہ ان پھولوں کے سر پر شفقت سے ہاتھ رکھتے ہوئے بھی ڈر لگتا ہے، پھر بچے بھی یہ جان چکے ہیں کہ بلا مقصد کسی سے بات بھی نہیں کرنی جبھی تو عید کے دن اب چوکیدار، جمعدار، ملازم یا دفتر کا چپڑاسی یا پھر پٹرول پمپ والا تو عیدی مانگتا ہے، لیکن پڑوس کا کوئی بچہ نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ