غزہ پر اسرائیلی فضائی حملے میں بین الاقوامی میڈیا کے دفاتر تباہ

اسرائیل کی جانب سے غزہ پر بمباری کا سلسلہ چھٹے روز بھی جاری ہے اور ایک تازہ فضائی حملے میں غزہ میں واقع عمارت تباہ ہو گئی ہے جس میں قطر اور امریکی میڈیا کے دفاتر قائم تھے۔

فضائی حملے میں تباہ ہونے والی 13 منزلہ عمارت کا نام جلال ٹاور تھا (اے ایف پی)

اسرائیل کی جانب سے غزہ پر بمباری کا سلسلہ چھٹے روز بھی جاری ہے اور ایک تازہ فضائی حملے میں غزہ میں واقع عمارت تباہ ہو گئی ہے جس میں قطر اور امریکی میڈیا کے دفاتر قائم تھے۔

فضائی حملے میں تباہ ہونے والی 13 منزلہ عمارت کا نام جلال ٹاور تھا جس میں قطر کے الجزیرہ ٹیلی ویژن اور امریکی خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کے دفاتر قائم تھے جبکہ اس کےعلاوہ  دیگر بین الاقوامی تنظیموں کے دفاتر موجود ہیں۔

اسرائیلی فضائی حملے کے بعد عمارت کو گرتے ہوئے دیکھا گیا جس کے بعد دھول اور ملبے کے بادل بلند ہوئے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق الجزیرہ یروشلم بیورو کے سربراہ ولید العمری نے اسرائیل کی اس اشتعال انگیز کارروائی کے بعد اس عزم کا اظہار کیا کہ اس نیٹ ورک کو خاموش نہیں کیا جا سکتا۔

جلال ٹاور کے مالک جواد مہدی نے بتایا کہ اسرائیلی انٹلیجنس آفیسر نے انہیں متنبہ کیا کہ اس نے عمارت کو خالی کرانے کے لیے ایک گھنٹے کا وقت دیا جاتا ہے۔

اسرائیلی آفیسر کے ساتھ ایک فون کال میں انہوں نے مزید دس منٹ کی مہلت کی التجا کی تاکہ وہ صحافیوں کو جانے سے پہلے اپنے سامان کو نکالنے میں مدد دے سکیں۔

اس سے قبل فلسطینی میڈیکل حکام نے بتایا تھا کہ اسرائیل نے ہفتے کی صبح غزہ کی پٹی کے مغربی حصے میں فضائی حملہ کیا جس کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے دس افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

پیر سے غزہ پر ہونے والے اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد کم از کم 132 ہو گئی ہے جن میں 32 بچے اور 21 خواتین شامل ہیں۔ حملوں میں 950 فلسطینی شہری زخمی ہوئے ہیں۔

خبر رساں اداے ایف پی اور روئٹرز کے مطابق ہفتے کو اسرائیلی طیاروں کے تازہ حملوں کے جواب میں حماس کے جنگجوؤں نے اسرائیل پر راکٹوں سے حملہ کیا ہے۔

پیر سے فریقین کے درمیان جاری لڑائی کو آج چھٹا روز ہوگیا ہے، جبکہ امریکہ اور عرب سفارت کار تشدد بند کروانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

فلسطین کے میڈیکل حکام نے بتایا ہے کہ گذشتہ رات کئے جانے والے اسرائیلی فضائی حملوں میں پورے غزہ میں12 لوگ مارے گئے۔ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ مہاجرین کے ایک کیمپ میں گھر حملے کی زد میں آنے سے ایک خاتون اور ان کے تین بچے بھی ہلاک ہونے والوں میں شامل ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دوسری جانب اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے شمالی غزہ میں حماس کی فوجی انٹیلی جنس کی تنصیب اور راکٹ داغنے کے متعدد اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔

فلسطینی وزارت مذہبی امور کے مطابق اسرائیلی طیاروں کے حملے میں ایک مسجد تباہ ہو گئی ہے۔ تاہم اسرائیلی فوجی ترجمان کا کہنا ہے کہ وہ اس رپورٹ کی جانچ پڑتال کر رہے ہیں۔

دوسری طرف سرحد پار پورے جنوبی اسرائیل میں سائرن بجائے گئے جس کے بعد علاقے کے لوگ محفوظ مقامات پر منتقل ہو گئے۔ بیر شیبا اور اشود کے شہروں میں عمارتیں راکٹ حملوں کی زد میں آئیں تاہم فوری طور پر کسی کے زخمی ہونے کی اطلاعات نہیں ملیں۔

ابھی تک لڑائی بند ہونے کے آثار دکھائی نہیں دیے اور جانی نقصان میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ فلسطینی حکام کے مطابق جمعے کو مقبوضہ مغربی کنارے میں مظاہرین اور اسرائیلی فورسز کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں بھی 11 لوگ مارے گئے تھے۔

اسرائیلی حکام نے کہا ہے کہ اسرائیل پر حملوں میں مرنے والوں کی تعداد آٹھ ہے جن میں غزہ کی سرحد پر گشت کرنے والا فوجی بھی شامل ہے۔

ہلاک ہونے والے دوسرے افراد میں چھ شہری اور دو بچے شامل ہیں۔ صورت حال پر غور کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس کل اتوار کو ہو رہا ہے۔

اس سے قبل بائیڈن انتظامیہ کے نمائندے اور اسرائیل اور فلسطینی امور کے لیے امریکی معاون نائب وزیر خارجہ ہادی عمرو جمعے کو اسرائیل پہنچ گئے ہیں۔

اسرائیل میں امریکی سفارت خانے نے کہا ہے کہ ان کی آمد کا مقصد پائیدار امن کے لیے کوششوں میں بہتری لانا ہے۔

اسرائیل نے جمعے کو دن بھر غزہ پر حملے جاری رکھے۔ اس کے مطابق ان حملوں کا مقصد کئی کلومیٹر طویل سرنگیں، عسکریت پسندوں کی طرف سے میزائل داغنے اور ہتھیار تیار کرنے کے مقامات کو تباہ کرنا تھا تاکہ اسرائیل پر ہونے والے راکٹ حملوں کو روکا جا سکے۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا