پاکستان کا فلسطین کے لیے طبی امداد بھیجنے کا فیصلہ

وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جانب سے فلسطین کے لیے موجودہ حالات سے نمٹنے کے لیے طبی امداد بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں اب تک دو سو سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں (اے ایف پی)

وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جانب سے فلسطین کے لیے موجودہ حالات سے نمٹنے کے لیے طبی امداد بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ کے دوران فواد چوہدری نے بتایا کہ پاکستان وہ پہلا ملک ہے جس نے فلسطین کے مسئلے پر سخت موقف اختیار کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ پاکستان فلسطین کے لیے کرونا سے نمٹنے کے ساتھ ساتھ موجودہ صورتحال سے بھی نمٹنے کے لیے طبی امداد بھیجے گا۔

اس حوالے انہوں نے مزید بتایا کہ فلسطین کے مسئلے پر بات کرنے کے لیے اس وقت پاکستان، فلسطین، ترکی اور سوڈان کے وزرا خارجہ اس وقت انقرہ میں موجود ہیں جو وہاں سے نیو یارک کے لیے روانہ ہوں گے۔

خیال رہے کہ گذشتہ اتوار کو اسلامی تعاون تنظیم کے ایک ہنگامی اجلاس کے دوران پاکستان کی جانب سے فلسطین کے مسئلے پر سخت موقف اختیار کرتے ہوئے عالمی براردی کے سامنے چند مطالبات بھی رکھے گئے تھے۔

اسرائیل کی جانب سے فلسطین پر گذشتہ ایک ہفتے سے شدید بمباری کا سلسلہ جاری ہے جس کے نتیجے میں اب تک دو سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں بچوں کی بڑی تعداد بھی شامل ہے۔

دوسری جانب وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے راولپنڈی رنگ روڈ منصوبے کی تحقیقات اور زلفی بخاری کے مستعفی ہونے پر بھی بات کی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس حوالے سے انہوں نے کہا کہ راولپنڈی رنگ روذ منصوبے میں حکومت نے اربوں روپے بچائے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے میں حکومت نے 23 ارب روپے کی رقم بچائی ہے۔

وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ ’وزیراعظم کو ایک پیغام موصول ہوا جس میں ایک نامعلوم شخص کی جانب سے کہا گیا کہ رنگ روڈ کی الائنمنٹ کو تبدیل کیا گیا ہے اور سنگجانی کے مقام پر سڑک کو تنگ کر دیا گیا ہے۔‘

فواد چوہدری کے مطابق اس پیغام کے بعد وزیراعظم نے ابتدائی تحقیقات کا حکم دیا اور معلوم ہوا کہ نہ صرف الائنمنٹ بدلی گئی بلکہ اسے اٹک کی طرف 29 کلومیٹر بڑھا دیا گیا ’تاکہ ہاؤسنگ سوسائٹیز کو شامل کیا جا سکے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ انسداد بدعنوانی اور دیگر متعلقہ ادارے اس بارے میں تحقیقات کر رہے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان