کیا ترین گروپ کو صرف بجٹ پاس کرانے کے لیے راضی کیا گیا؟

حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کے اراکین پر مشتمل ہم خیال ترین گروپ نے وزیر اعلیٰ پنجاب سے ملاقات کے بعد معاملات طے پا گئے۔

ملاقات میں جہانگیر ترین کے خلاف ’انتقامی کارروائی‘ بند کرنے اور اراکین کو فنڈز جاری کرنے کا مطالبہ کیا گیا (وزیر اعلی ٰپنجاب سیکرٹریٹ)

حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کے اراکین پر مشتمل ہم خیال ترین گروپ نے وزیر اعلیٰ پنجاب سے ملاقات کے بعد معاملات طے پا گئے۔

ملاقات میں جہانگیر ترین کے خلاف ’انتقامی کارروائی‘ بند کرنے اور اراکین کو فنڈز جاری کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

اس دوران وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے اراکین کو جہانگیر ترین کا ساتھ دینے پر ناراض نہ ہونے کی یقین دہانی کرائی اور ان کے مسائل حل کرنے سے متعلق تحفظات بھی دور کیے جس کے بعد گروپ نے پارلیمنٹ اور پنجاب اسمبلی میں علیحدہ بینچوں پر بیٹھنے اور الگ پارلیمانی لیڈرز بنانے کا فیصلہ واپس لے لیا۔

ہم خیال گروپ کے سعید اکبر نوانی کا کہنا ہے کہ صرف بجٹ پاس کرانے کے لیے اگر حکومت نے ان کے تحفظات دور کیے تو وہ ساتھ ہی رہیں گے کیونکہ حکومت کو ہماری اور ہمیں حکومت کی ضرورت ہے۔

وزیر اعلیٰ سے ہم خیال گروپ نے کن تحفظات کا اظہار کیا؟

اس سوال کا جواب پنجاب میں ہم خیال گروپ کے لیڈر سعید اکبر نوانی سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ ’ہم نے وزیراعلیٰ کو بتایا ہے کہ انہوں نے پارٹی یا قیادت کے خلاف گروپ نہیں بنایا بلکہ پی ٹی آئی کے لیے خدمات پیش کرنے والے رہنما جہانگیر ترین کے خلاف انتقامی کارروائیوں کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔‘

انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ ’ہم نے حلقوں اور پارلیمان سے متعلق تحفظات وزیر اعلیٰ کے سامنے پیش کیے۔ انہوں نے اتفاق کرتے ہوئے جہانگیر ترین کو انصاف کی فراہمی میں تعاون کی یقین دہانی کرائی اور اراکین کے تحفظات بھی دور کرنے کی بات کی ہے۔‘

سعید اکبر کے مطابق ’ان کے گروپ کو بیرسٹر علی ظفر کی جانب سے کی جانے والی انکوائری پر مکمل اعتماد ہے۔ جہانگیر ترین کے معاملہ پر وہ جو بھی رپورٹ پیش کریں گے ہمارے حق میں ہو یا خلاف ہم اسے تسلیم کریں گے۔‘

’ہمیں یقین ہے کہ وہ میرٹ پر انکوائری کریں گے ہمارا مطالبہ ہے کہ ان کی رپورٹ کو منظر عام پر لایا جائے تاکہ یہ تاثر زائل ہو جائے کہ ہمارے پریشر پر ترین صاحب کو کوئی خلاف میرٹ حمایت دی گئی ہے یا حکومت نے کوئی انتقامی کارروائی کی تھی۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان سے پوچھا گیا کہ کیا ہم خیال گروپ کو بجٹ پاس کرانے کے لیے راضی کیا گیا ہے؟ تو انہوں نے کچھ دیر سوچنے کے بعد جواب دیا کہ یہ تاثر اس لیے غلط ہے کہ کیا حکومت بجٹ کے بعد نہیں ہوگی؟

’جس طرح حکومت کو ان کی مقررہ مدت تک ضرورت ہے اسی طرح انہیں بھی حکومت کی ضرورت ہے لہذا اگر بجٹ پاس ہونے کے بعد بھی کسی رہنما کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہم پھر یہیں موجود ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ہم نے وزیر اعلیٰ سے ملاقات کے بعد الگ پارلیمانی لیڈر بنانے کا فیصلہ موخر کر دیا ہے اور الگ بینچوں پر بھی بیٹھنے کی درخواست سپیکر کو نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

ہم خیال گروپ کے رکن نذیر چوہان کے مطابق وزیر اعلیٰ نے ان کے تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے لیکن اگر مسائل حل نہ ہوئے تو دوبارہ اپنا لائحہ عمل بنانے کا آپشن موجود ہے۔

’ہمیں یقین ہے کہ جس طرح وزیراعظم اور وزیر اعلیٰ نے ان کی شکایات سنی ہیں وہ ضرور دور ہو جائیں گی۔‘

بزدار کی مصالحتی پالیسی اور پارٹی گروپنگ

پنجاب میں جب سے پی ٹی آئی نے اقتدار سنبھالا ہے پہلے بھی کئی بار اراکین اسمبلی کے گروپ سامنے آئے مگر عثمان بزدار نے ان سے ملاقاتیں کر کے شکایات کا ازالہ کیا۔ اس بار بھی وہ فی الحال کامیاب ہو گئے ہیں۔

وزیر اعلی پنجاب کے ترجمان کی جانب سے جاری ہینڈ آؤٹ کے مطابق ملاقات کے دوران رکن پنجاب اسمبلی سعید اکبر نوانی نے کہا کہ ’ہم ایک تھے، ایک ہیں اور ایک رہیں گے۔ آپ (عثمان بزدار) کی قیادت پر پورا اعتماد ہے۔ آپ ہمارے وزیراعلیٰ ہیں اور آپ کے پاس اپنے ایشوز کے حل کے لیے آئے ہیں۔‘

وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے اس موقع پر کہا کہ ’میرے دروازے آپ سب کے لیے کھلے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں متحد ہیں۔ کبھی کسی سے ناانصافی کی نہ کریں گے، انتقام کی سیاست ہمارا شیوہ نہیں۔‘

دوسری جانب تجزیہ کار مظہر عباس نے اپنے تجزیہ میں کہا کہ اگرچہ پنجاب میں پی ٹی آئی حکومت ناراض گروپوں کے وقتی طور پر تو تحفظات دور کرنے میں کامیاب ہو گئی لیکن آنے والے انتخابات میں یہ سب گروپ اہمیت اختیار کریں گے۔

’پہلا سوال تو یہ ہوگا کہ ترین کی قیادت میں بننے والے گروپ کو تحریک انصاف آئندہ انتخاب میں ٹکٹ دے گی یا نہیں دوسرا یہ کہ ان اراکین میں سے کتنے ایسے ہوں گے کہ جو اپنی وفاداریاں آنے والے انتخابات میں بھی پی ٹی آئی کے ساتھ رکھتے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’اسی طرح ان گروپوں پر دوسری جماعتوں کا بھی اثر بڑھے گا کیونکہ ان میں سے بیشتر دوسری جماعتوں سے ہی پی ٹی آئی میں آئے ہیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست