میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی آرڈیننس ایک ظالمانہ قانون ہے: صحافیوں کی تنظیم

پی ایف یو جے کے صدر شہزادہ ذوالفقار نے کہا: ’پروفیشنل صحافیوں کو تو پہلے ہی پریشر میں رکھا ہوا تھا، مگر اب نئے قانون میں تو اخبارات اور میڈیا مالکان کو بھی نہیں بخشا گیا۔‘

اس نئے آرڈنینس کے تحت پرنٹ اور ڈیجیٹل میڈیا کے قیام اور ملک میں چلانے کے لیے باقاعدہ حکومت سے لائسنس لینا ضروری ہوگا (فائل تصویر: روئٹرز)

پاکستانی صحافیوں کی نمائندہ تنظیم پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) نے وفاقی حکومت کے ڈرافٹ کردہ پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی آرڈیننس 2021 کے تحت مجوزہ میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو مسترد کرتے ہوئے اس قانون کو ’میڈیا مارشل لا‘ قرار دیا ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے پی ایف یو جے کے صدر شہزادہ ذوالفقار نے کہا: ’پروفیشنل صحافیوں کو تو پہلے ہی پریشر میں رکھا ہوا تھا، مگر اب نئے قانون میں تو اخبارات اور میڈیا مالکان کو بھی نہیں بخشا گیا۔‘

شہزادہ ذوالفقار نے کہا: ’یہ مجوزہ قانون اپنی نوعیت میں ظالمانہ ہے، جو آزادی اظہار، میڈیا کی آزادی، جاننے کے حق سمیت صحافت کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے، جس سے پاکستان کی میڈیا انڈسٹری مکمل طور پر تباہ ہو جائے گی۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس قانون سے حکومت کی گرفت ہر قسم کے میڈیا بشمول اخبارات، الیکٹرانک میڈیا، سوشل میڈیا اور حتیٰ کہ ڈراموں اور فلموں پر بھی سخت ہو جائے گی۔‘

شہزادہ ذوالفقار کے مطابق اس نئے قانون کے نافذ ہونے کے بعد پہلے سے موجود تمام قوانین منسوخ ہو جائیں گے، جن میں پریس کونسل آرڈنینس 2002، دی پریس، نیوز پیپرز، نیوز ایجنسیز اینڈ بُکس رجسٹریشن آرڈیننس 2002، دی نیوز پیپرز ایمپلائیز (کنڈیشنز آف سروسز ایکٹ) 1973، پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی آرڈیننس 2002 اور دی موشن پکچرز آرڈیننس  1979 شامل ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ’اس نئے قانون کے بعد یہ سب کے سب قوانین منسوخ ہو جائیں گے اور یہ سب پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی آرڈیننس 2021 کا حصہ بن کر ایک ہی اتھارٹی کے پاس چلے جائیں گے۔‘

پاکستان کے اخباری مالکان کی تنظیم کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز (سی پی این ای) نے بھی پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی آرڈیننس 2021 کو مسترد کر دیا ہے۔

سی پی این ای کے جنرل سیکریٹری ڈاکٹر جبار خٹک نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس قانون کے تحت میڈیا کے لیے کوئی ریگولیٹری اتھارٹی نہیں بلکہ ایک کنٹرولنگ اتھارٹی بنائی جا رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا: ’یہ اتھارٹی غیر منطقی اور غیر آئینی ہے۔ اٹھارویں ترمیم کے بعد وفاقی حکومت ایسا قانون لا ہی نہیں سکتی۔ جس طرح آئین میں جینے کا حق، کھانے، پانی اور علاج تک رسائی کا حق ہے ویسے ہی اظہار رائے کی آزادی کا بھی آئین میں حق دیا گیا ہے اور حکومت یہ حق کیسے چھین سکتی ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ڈاکٹر جبار خٹک نے کہا: ’میڈیا بھی دیگر صنعتوں کی طرح ایک صعنت ہے تو میڈیا کو بھی عام قوانین کے تحت چلانا چاہیے۔ اس صعنت کے لیے کوئی خاص قانون کیوں؟ اخبار کے لیے ڈکلیریشن دیا جاتا ہے، یعنی کوئی بھی فرد صرف یہ ڈکلیئر کرتا ہے کہ وہ ایک اخبار کا اجرا کر رہا ہے، مگر پاکستان میں ٹی وی چینل کو لائسنس دیا جاتا ہے جو غیر آئینی ہے۔ جس کا مطلب کہ انہیں لائسنس کی شرائط پر عمل کرنا ہو گا۔ ٹی وی چینلوں کو بھی ڈکلیریشن کے تحت کھولنے کا حق دیا جائے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا: ’میرا ذاتی خیال ہے کہ نیا قانون ڈیجیٹل میڈیا کو کنٹرول کرنے کے لیے لایا جارہا ہے، ویسے پیمرا تو پہلے ہی میڈیا کو کنٹرول کر رہا ہے۔‘

پاکستان کے مقامی اور علاقائی اخبارات کے ناشرین کی ملک گیر نمائندہ تنظیم آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی (اے پی این ایس) کے صدر سرمد علی کے مطابق وفاقی حکومت ایسا قانون لانے کی مجاز ہی نہیں، جس میں اخبارات کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی جائے۔

انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں سرمد علی کا کہنا تھا کہ ’اٹھارویں ترمیم کے بعد ٹی وی چینلز کے برعکس اخبارات کنکرنٹ لسٹ کا حصہ نہیں، اس لیے ایسا کوئی قانون جس میں اخبارات کو شامل کیا جائے۔ آئینی طور پر وفاقی حکومت مجاز ہی نہیں ہے۔ اٹھارویں ترمیم کے بعد ایسا کوئی قانون صرف صوبے ہی لا سکتے ہیں نہ کہ وفاق۔ مجھے سمجھ میں نہیں آ رہا کہ وفاقی حکومت ایسا قانون کیوں لانا چاہتی ہے؟‘

سرمد علی کے مطابق صرف یہ نیا قانون ہی نہیں بلکہ حکومت پہلے بھی اخبارات کو کنٹرول کرنے کئی اقدامات کر چکی ہے، جیسا کہ آڈٹ بیورو آف سرکولیشن (اے بی سی) دنیا بھر میں نجی شعبے کا حصہ ہوتا ہے، مگر یہاں اخبارات کو کنٹرول کرنے کے لیے اے بی سی وزرات اطلاعات کا ذیلی ادارہ بنا دیا گیا ہے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ حکومت پاکستان یہ نیا قانون کیوں لانا چاہتی ہے؟ تو سرمد علی نے کہا: ’جب بھی کوئی نئی حکومت آتی ہے تو بیوروکریٹ انہیں سمجھاتے ہیں کہ میڈیا کو کنٹرول کرنے کے لیے قانون ہونا چاہیے۔ مسلم لیگ ن حکومت کے آخری سال میں بھی ایسا قانون لانے کی کوشش کی گئی تھی، مگر بعد میں انہوں نے یہ کہہ کر قانون واپس لے لیا کہ انہیں مس گائیڈ کیا گیا تھا۔ پی ٹی آئی حکومت دوسری بار ایسا قانون لائی ہے، اس سے پہلے انہیں ایسا قانون واپس لینا پڑا تھا۔‘

دوسری جانب حزب اختلاف کی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی آرڈیننس 2021 کو مسترد کردیا ہے۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں پاکستان پیپلزپارٹی کی نائب صدر سینیٹر شیری رحمان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی آرڈیننس کے تحت بننے والی اتھارٹی کے ذریعے میڈیا کی سخت نگرانی کا منصوبہ بن رہا ہے اور اس کے ذریعے معطلیاں اور جرمانے لاگو کیے جائیں گے۔‘

شیری رحمان نے کہا کہ ’اس آرڈیننس سے حکومت کی میڈیا کو وضاحت فراہم کرنے کی کوئی ذمہ داری نہیں ہوگی۔ اس قانون کو ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر قابو پانے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ سینسر شپ کو ادارتی اور قانونی تحفظ دینے کا منصوبہ ہے۔ اس کے بعد میڈیا ادارے یا تو ریاستی ترجمان بن جائے گے یا بند ہو جائیں گے۔‘

پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کیا ہے؟

اس نئے آرڈنینس میں تجویز کردہ پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی ڈرافٹ کے مطابق ’ایک آزاد، موثر اور شفاف‘ اتھارٹی ہوگی جو ہر قسم کے ذرائع ابلاغ بشمول ڈیجیٹل میڈیا کو ریگولیٹ کرے گی۔

اس نئے آرڈنینس کے تحت پرنٹ اور ڈیجیٹل میڈیا کے قیام اور ملک میں چلانے کے لیے باقاعدہ حکومت سے لائسنس لینا ضروری ہوگا۔ واضح رہے کہ اس مجوزہ آرڈیننس سے پہلے اخبارات صرف ڈکلیریشن لیتے تھے، جس میں حکومت کی جانب سے کوئی خاص شرائط نہیں تھیں جبکہ لائسنس میں شرائط کی ایک فہرست دی جاتی ہے کہ اگر ان پر عمل نہ کیا گیا تو لائسنس منسوخ کیا جائے گا۔

آرڈیننس  کے ڈرافٹ میں کہا گیا ہے کہ کوئی بھی آن لائن اخبار، ویب ٹی وی چینل، آن لائن نیوز چینل، کسی بھی قسم کا ویڈیو لاگ، یو ٹیوب چینل، حتیٰ کہ نیٹ فلکس اور ایمازون پرائم بھی ڈیجیٹل میڈیا کا حصہ ہیں، جن کے لیے لائسنس لینا ضروری ہوگا۔

آرڈنینس  کے ڈرافٹ کے مطابق پاکستان میں میڈیا چلانے کے لیے یہ لازم ہوگا کہ وہ ریاست کے سربراہ، مسلح افواج، ریاست کے قانون ساز اداروں اور عدالت کے خلاف نفرت انگیز مواد نہ چلائیں۔ یہ اتھارٹی میڈیا کے اداروں سے مالی معاملات کی معلومات یا دیگر دستاویز بھی مانگ سکتی ہے۔

اس کے علاوہ ڈرافٹ کے مطابق اتھارٹی سے لائسنس لینے والے اتھارٹی سے لکھا ہوا اجازت نامہ لیے بغیر کسی بھی غیر ملکی براڈکاسٹر کو اپنا ایئر ٹائم نہیں بھیج سکتے اور ان تمام قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں پر تین سال تک کی سزا اور ڈھائی کروڑ روپے تک کا جرمانہ عائد کیا جاسکتا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان