امریکہ بگرام ایئربیس 20 دن میں افغان حکومت کو دینے کو تیار

ایک امریکی دفاعی عہدیدار نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا: ’میں اس بات کی تصدیق کر سکتا ہوں کہ ہم بگرام ایئر بیس کو (افغان حکومت)کے حوالے کر رہے ہیں‘، تاہم انہوں نے حوالگی کی حتمی تاریخ نہیں بتائی۔

10 اگست 2009 کی اس تصویر میں امریکا کا ایک ایف 15 ای  فائٹر جیٹ طیارہ  افغانستان میں واقع بگرام ایئربیس پر لینڈ کر رہا ہے (فائل تصویر: اے ایف پی)

امریکی فوج کے افغانستان سے جاری انخلا کے آخری مرحلے میں امریکہ دہائیوں سے اپنے زیر استعمال ملک کے سب سے اہم اڈے بگرام ایئر بیس کو چند روز میں افغان حکومت کے حوالے کر دے گا۔

امریکی اور افغان عہدیداروں نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف کو بتایا کہ امریکہ اگلے 20 روز کے دوران بگرام ایئر بیس کا کنٹرول کابل حکومت کو دے دے گا۔

1980 کی دہائی میں روس کی جانب سے تعمیر کیا گیا یہ وسیع اڈہ امریکی اور نیٹو افواج کی جانب سے افغانستان میں استعمال ہونے والی سب سے بڑی فوجی تنصیب رہی ہے اور 2001 میں افغانستان پر امریکی جارحیت کے بعد سے اس کے ہزاروں فوجی یہاں تعینات رہے ہیں۔

ایک امریکی دفاعی عہدیدار نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو حوالگی کی حتمی تاریخ بتائے بغیر بتایا: ’میں اس بات کی تصدیق کر سکتا ہوں کہ ہم بگرام ایئر بیس کو (افغان حکومت)کے حوالے کر رہے ہیں‘۔

دوسری جانب ایک افغان سکیورٹی عہدیدار نے بتایا کہ ایئربیس کی حوالگی کا یہ عمل لگ بھگ 20 دن میں متوقع ہے اور افغان وزارت دفاع نے اس کا انتظام سنبھالنے کے لیے خصوصی کمیٹیاں تشکیل دی ہیں۔

ادھر واشنگٹن میں پینٹاگون نے اشارہ دیا ہے کہ امریکہ افغانستان سے انخلا کی رفتار بڑھا رہا ہے۔ پیر تک امریکی سینٹرل کمانڈ نے اندازہ لگایا کہ اس نے انخلا کا 30 سے 44 فیصد عمل مکمل کرلیا ہے۔

امریکہ پہلے ہی 300 سی 17 ٹرانسپورٹ طیاروں کے ذریعے اپنا فوجی ساز و سامان افغانستان سے نکال چکا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اپریل میں صدر جو بائیڈن نے انخلا کے لیے ستمبر کا ہدف مقرر کیا تھا۔ اس دوران افغانستان میں مقیم تمام 2500 امریکی فوجیوں اور 16 ہزار کے قریب سویلین کنٹریکٹرز کو ملک سے باہر نکالنا ہے تاکہ امریکی فوج کو دو دہائیوں پر مشتمل اس جنگ سے نکالا جا سکے۔

بگرام ایئربیس گذشتہ دو دہائیوں سے امریکی فوج کے لیے زمینی اور فضائی کارروائیوں کا مرکز تھا۔ اس اڈے میں ایک جیل بھی قائم کی گئی تھی جس میں ہزاروں طالبان اور دیگر قیدی گذشتہ کئی برسوں سے قید ہیں۔

واشنگٹن نے یکم مئی سے پہلے ہی اس وقت چھ فوجی اڈے افغان افواج کے حوالے کردیئے تھے، جب اس نے اپنے فوجیوں کی واپسی میں تیزی لانا شروع کردی تھی۔

گذشتہ ماہ امریکہ نے جنوبی افغانستان میں قندھار ایئر فیلڈ سے انخلا کو بھی مکمل کیا جو اس وقت ملک کا دوسرا سب سے بڑا غیر ملکی فوجی اڈہ تھا۔

’نیٹو کا افغانستان سے انخلا درست سمت میں جاری‘

دوسری جانب نیٹو کے سکریٹری جنرل جینز سٹولٹن برگ نے کہا ہے کہ فوجی تنظیم کے افغانستان سے انخلا کا عمل درست سمت میں جاری ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق نیٹو چیف کا کہنا ہے کہ اس فوجی اتحاد نے تقریباً دو دہائیوں سے افغانستان میں سلامتی کے حوالے سے مدد فراہم کی ہے لیکن ان کا خیال ہے کہ اب نسبتاً تربیت یافتہ افغان حکومت اور اس کی مسلح افواج اتنی مضبوط ہیں کہ وہ بین الاقوامی فوج کی مدد کے بغیر تنازع سے متاثرہ ملک کو اپنے طور پر کھڑا کر سکتے ہیں۔

سٹولٹن برگ نے تنظیم کے وزرائے خارجہ اور دفاع کے ورچوئل اجلاس کی صدارت کرنے کے بعد صحافیوں کو بتایا: ’ہماری افواج کا انخلا منظم اور مربوط طریقے سے جاری ہے، تاہم ہر مرحلے میں ہمارے اہلکاروں کی حفاظت ہماری اولین ترجیح ہے۔‘

نیٹو چیف نے کہا کہ اگرچہ اتحادی فوجیں اب افغانستان میں نہیں رہیں گی، تاہم 30 ممالک کا اتحاد اور اس کے شراکت دار افغانستان کی ’قابل اور مضبوط سکیورٹی فورس‘ کی فنڈنگ جاری رکھیں گے۔

امریکی انخلا میں تیزی کے باوجود طالبان اور افغان افواج کے مابین ملک بھر میں خونی جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔

پولیس نے بتایا کہ دارالحکومت کابل میں منگل کو تشدد کے تازہ ترین واقعے میں مسافر بسوں کو نشانہ بنایا گیا، جس میں کم از کم 10 شہری ہلاک اور 12 زخمی ہوگئے۔ اسی طرح ایک اور دھماکے کے نتیجے میں بجلی کے بند ہونے سے کابل کے کئی حصے تاریکی میں ڈوب گئے۔

قطر میں طالبان اور افغان حکومت کے مابین امن مذاکرات کا سلسلہ بھی تعطل کا شکار ہے۔ منگل کے روز افغان حکومت کے مذاکرات کاروں کا ایک گروپ تعطل کے شکار مذاکرات میں شرکت کے لیے دوحہ پہنچا ہے۔

افغان وزارت امن کی ترجمان نجیہ انوری نے اے ایف پی کو بتایا: ’ہماری ٹیم سنجیدہ مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ اس تنازع کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔‘ تاہم انہوں نے کہا کہ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے کوئی تاریخ طے نہیں کی گئی ہے۔

گذشتہ ماہ دونوں فریقوں نے مذاکرات میں تیزی لانے پر اتفاق کیا تھا جب کہ طالبان نے عید الفطر کے موقعے پر عارضی جنگ بندی کا اعلان بھی کیا تھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا