کیا لکشدیپ بھی کشمیر بن رہا ہے

کیرالہ کے بغل میں دلکش جزیرے لکشدیپ پر ہندوتوا نے نشانہ باندھا ہے جس کا مقصد بظاہر 65 ہزار مسلمانوں کی وہ آبادی ہے جو اب تک بھارت کی سیاسی، اقتصادی یا معاشی اعتبار سے کبھی کوئی مسئلہ نہیں بنی لیکن مسلمان ہونے کے باعث بی جے پی کے راڈار پر ہے۔

لکشدیپ کے فنکار 22 جنوری 2018 کو نئی دہلی میں یوم جمہوریہ پریڈ میں شرکت سے قبل پریکٹس کر رہے ہیں (فائل فوٹو:اے ایف پی )

 

یہ تحریر آپ مصنفہ کی آواز میں یہاں سن بھی سکتے ہیں


یہ بات واضح ہوتی جا رہی ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے بھارت کے ایسے تمام علاقوں کی جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے ہیئت، تناسب، تاریخ اور جغرافیہ تبدیل کرنے کا تہیہ کیا ہوا ہے۔

پہلے اتر پردیش میں سینکڑوں مسلمان خاندانوں کو جو ذبح خانوں اور چمڑے کی صنعت سے اپنی گر ہستی چلاتے تھے، گاؤکشی کے خلاف چلائے جانے والی تحریک کی زد میں لا کر دوسرے علاقوں میں ہجرت پر مجبور کر دیا۔ میڈیا نے اس پر خاموشی اختیار کی۔

کیرالہ میں عوام کی سیکولر سوچ کو توڑنے کے لیے ’لو جہاد‘ کے نام سے ایک بڑی مہم چلائی گئی اور مسلمانوں کو ہندو لڑکیوں کو ورغلانے کے الزام میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ میڈیا نے اس کو نظر انداز نہیں کیا بلکہ اسے بطور ہتھیار مسلمانوں پر آزمایا۔

کیرالہ واحد ریاست ہے جہاں سو فیصد شرح خواندگی کے پیش نظر لوگ مذہبی رواداری کے پابند رہے ہیں اور ہندوتوا سوچ کے سخت مخالف۔ حالیہ ریاستی انتخابات میں بی جے پی کو زبردست شکست دے کر کیرالہ کے عوام نے بی جے پی کو یہ پیغام دیا کہ وہاں کی مٹی ہندوتوا کے لیے زرخیز نہیں۔

اب کیرالہ کے بغل میں دلکش جزیرے لکشدیپ پر ہندوتوا نے نشانہ باندھا ہے جس کا مقصد 65 ہزار مسلمانوں کی وہ آبادی ہے جو اب تک بھارت کی سیاسی، اقتصادی یا معاشی اعتبار سے نہ کبھی کوئی مسئلہ بنی ہے اور نہ کسی تناؤ کا حصہ رہی ہے۔ لیکن مسلمان ہونے کے باعث بظاہر بی جے پی کے راڈار پر کشمیر کے بعد دوسرے نمبر پر ہے۔

بی جے پی کی مرکزی حکومت نے جب سے گذشتہ برس 5 دسمبر کو گجرات کے سرکردہ سیاست دان پرفل کھوڑا پٹیل کو لکشدیپ کے ایڈمنسٹریٹر کے طور پر مقرر کیا ہے تب سے یہ علاقہ نہ صرف عالمی میڈیا کی سرخیوں میں آنے لگا ہے بلکہ یہاں کے عوام پر زور زبردستی کا ایک نیا سلسلہ بھی شروع ہوچکا ہے۔

پٹیل نے چارج سنبھالنے کے فوراً بعد اس جزیرے میں کئی نئے قوانین کا اطلاق کیا جن میں نئی ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے قیام کے ساتھ ساتھ شراب کی فروخت کی آزادی اور گاؤکشی پر پابندی شامل ہے۔

لکشدیپ کے بزرگ شہری رحمانی نور نے بعض رپورٹروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’نئی ترقیاتی اتھارٹی کے پیچھے یہاں کے مقامی باشندوں کے حقوق جائیداد پر شب خون مارنا ہے اور انہیں اپنی زمینوں سے بے دخل کر کے ہندوؤں کو بسانا ہے، خاص طور پر انہیں، جو مودی کے شہریت کے ترامیمی قانون کے تحت دوسرے ممالک سے بھارت واپس آ کر بسنا چاہتے ہیں۔‘

لکشدیپ کے امور کے ماہر ڈاکٹر رٹولا ٹھاکر کہتے ہیں کہ ’اس علاقے میں 99 فیصد مسلمان سکون سے رہتے آئے ہیں۔ بی جے پی نے جہاں بھارت کو غیرمستحکم کیا ہے وہیں ان کے ایڈمنسٹریٹر نے لکشدیپ کے لوگوں کا سکون چھین لیا ہے، وہ اس علاقے میں ترقی نہیں بلکہ مسلمانوں کی بربادی چاہتے ہیں۔ اگر مان بھی لیں کہ سرکار مالدیپ کی طرز پر اس علاقے کو سیاحت کے نقشے پر لانا چاہتی ہے تو کیا مالدیپ نے بھی مقامی لوگوں کی جائیدادیں ہڑپ کر لی ہیں؟ بی جے پی کے پاس اگر یہی ترقی کا معیار ہے تو بھارت کے 22 کروڑ مسلمانوں کو ترجیحی طور پر اپنے بچاؤ کا راستہ تلاش کرنا پڑے گا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

حکومت کا موقف ہے کہ وہ اس علاقے کو سیاحت کا مرکز بنانا چاہتی ہے جس کی وجہ سے شراب نوشی پر کوئی پابندی نہیں ہوگی حالانکہ پٹیل نے گجرات میں جہاں وہ مودی کے دور حکومت اور ان کے بعد کی حکومتوں میں کئی بار وزیر رہے ہیں، شراب نوشی پر پابندی اٹھانے کی کبھی بات تک نہیں کی۔

مقامی آبادی نے سوال اٹھایا ہے کہ شراب پینے کی آزادی صرف مسلمان علاقوں تک محدود کیوں جبکہ گجرات، بہار اور دوسری بڑی ریاستوں میں اس پر پابندی عائد ہے۔ اصل مقصد مسلمانوں کو نہ صرف ذہنی طور پر ہراساں کرنا ہے بلکہ انہیں اپنے مذہب کی آزادی سے محروم کرنے کا ایک اوچھا ہتھکنڈا بھی ہے۔

اس علاقے کے مسلمان اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں، ان کی شرح خواندگی 95 فیصد سے زائد ہے اور جرائم کی شرح صفر کے مانند رہی ہے۔ اس علاقے کی افادیت اس وقت سے مزید بڑھ گئی جب سے بحیرہ بنگال میں امریکی بحری بیڑا ڈیسٹرایر لنگر انداز ہوا ہے اور امریکہ، جاپان، آسٹریلیا اور بھارت کے درمیان چارطرفہ سلامتی مکالمہ (جسے کواڈ بھی کہا جاتا ہے) کے تحت سٹریٹجک ڈائیلاگ کی بنیاد ڈالی گئی ہے۔

لکشدیپ کے آس پاس تقریباً 36 جزیرے ہیں۔ ان میں بھارت کے زیر انتظام لکشدیپ کی زمین 36 سکوائر میٹر پر پھیلی ہوئی ہے۔ یہاں صدیوں سے وہ مسلمان آباد ہوئے ہیں جو کوچی اور مالابار کے ساحلی علاقوں سے ہجرت کر کے آئے ہیں۔

بی جے پی کی حکومت نے جہاں پورے بھارت میں انسداد دہشت گردی سے متعلق نیا قانون یو اے پی اے نافذ کر کے شہریت کے ترمیمی بل کے خلاف، کسانوں کی احتجاج کے خلاف یا جموں وکشمیر میں تحریک آزادی کے حامیوں کے خلاف استعمال کیا ہے بالکل اسی طرح کا ایک قانون لکشدیپ میں نافذ کر کے مقامی آبادی کو حکومت کی نئی حکمت عملی پر بات کرنے سے روکا جا رہا ہے۔ بیشتر افراد کو نئے قوانین کے خلاف بولنے پر جیل بھیج دیا گیا ہے جس کا کیرالہ ہائی کورٹ نے سخت نوٹس لیا ہے۔

ان قوانین کے خلاف کیرالہ کے ساحلی علاقوں اور لکشدیپ میں احتجاجی لہر کے ساتھ ساتھ کافی غصہ پایا جا رہا ہے۔ کیرالہ کی مقامی حکومت پر زور بڑھتا جا رہا ہے کہ لکشدیپ کو ہڑپ کرنے کی بی جے پی کی پالیسیوں کو روکنے کے لیے سامنے آ جائے تاکہ اس پرامن علاقے کو دوسرا جموں و کشمیر بننے سے روکا جاسکے جہاں سو سے زائد قوانین لاگو کر کے ایک کروڑ سے زائد افراد کو بےگھر، بےاختیار اور بےروز گار بنانے کا عمل جاری و ساری ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ