اٹلی میں لاپتہ ہونے والی ثمن عباس کو چچا نے قتل کیا: بھائی کا دعویٰ

اطالوی پولیس کے مطابق اٹلی میں ایک ماہ قبل لاپتہ ہونے والے 18 سالہ پاکستانی نژاد ثمن عباس کے بھائی نے بتایا ہے کہ ثمن کو ان کے چچا نے قتل کر کے لاش چھپا دی ہے۔

ایک رات تین افراد شبّر عباس کے گھر سے بیلچے اور بالٹیاں لیے کہاں جا رہے تھے؟(فائل تصویر: پکسابے)

اٹلی میں لاپتہ ہونے والی ثمن عباس کی گمشدگی کا معمہ حل ہونے کے قریب ہے۔

اطالوی پولیس کو خدشہ ہے کہ ثمن عباس کو اس کے خاندان والوں کے قتل کر کے لاش چھپا دی ہے اور خود پاکستان چلے گئے ہیں۔

اٹلی میں ایک ماہ قبل لاپتہ ہونے والی 18 سالہ ثمن عباس کی گمشدگی کا معمہ حل ہونے کے قریب پہنچ گیا ہے۔ ثمن کے 16 سالہ بھائی نے بدھ کے روز اطالوی پولیس کو بتایا ہے کہ ان کی بہن کو قتل کیا گیا ہے۔

اطالوی میڈیا نے قیاس ظاہر کیا ہے کہ 30 اپریل اور یکم مئی کی رات ثمن عباس اور ان کے والدین کے درمیان تکرار ہوئی کیوں کہ والدین ثمن کی شادی ان کے پاکستان میں مقیم کزن سے کروانا چاہتے تھے اور ثمن اس پر آمادہ نہیں تھیں۔

اٹلی کے اخبار کوریریئے دیلا سیرا کے مطابق 30 اپریل کی ایک ویڈیو میں ثمن کو اپنے والدین کے ہمراہ چلتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ بعد میں والدین اکیلے واپس آ رہے ہیں۔

پراسیکیوٹر کے مطابق ثمن کو ان کے چچا دانش حسین کے حوالے کر دیا گیا تھا جنہوں نے نے ثمن کو قتل کیا۔ دانش حسین کے خلاف قتل اور لاش چھپانے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

اس واقعے کے بعد اٹلی کی پاکستانی کمیونٹی خود کو نشانے پر محسوس کر رہی ہے، کیوں کہ یہ پہلا واقعہ نہیں ہے کہ اٹلی میں کسی پاکستانی خاتون کو خود اس کے گھر والوں نے قتل کیا ہو۔

ثمن کی کمی محسوس ہی نہیں ہوئی

اٹلی کے ایک چھوٹے سے شہر نوویلارا سے ایک 18 سالہ پاکستانی لڑکی غائب ہو جاتی ہے تو کیا ہوتا ہے؟ ایک ایسی لڑکی جس کا نہ کوئی دوست، نہ کہیں آنا جانا، نہ سکول نہ کالج۔ اس حد تک کہ کئی دن گزر جانے کے بعد بھی اس کی کمی کسی کو محسوس نہ ہوئی، اور اگر پانچ مئی کو پولیس اس کے گھر کچھ کاغذات پر دستخط کرانے نہ پہنچتی اور گھر خالی پاکر حیران نہ ہوتی تو شاید کسی کو پتہ ہی نہ چلتا کہ ثمن غائب ہو گئی ہیں۔

مقامی پولیس کے مطابق ثمن کے والد شبّر عباس ایک فارم پر کھیتی باڑی کا کام کرتے ہیں۔ وہاں کے اطالوی مالک کا کہنا ہے کہ شبّر عباس اور ان کا خاندان کسی عزیز کی علالت کی وجہ سے پاکستان گیا ہوا ہے۔ پولیس نے یہ خبر سن کر ثمن کی تلاش مزید تیز کر دی۔

اس بات کی کیا بنیاد بنی کہ اطالوی حکومت ایک خالی گھر پا کر اور یہ سن کر کہ سارا خاندان پاکستان گیا ہوا ہے، یوں چونک جائے؟ شاید اس کی وجہ ماضی کہ ایک واقعے سے جڑی ہوئی ہے۔ 2018 میں 26 سالہ ثنا چیمہ نامی ایک پاکستانی نژاد لڑکی کو ان کے خاندان والوں نے اپنے رشتے داروں سے ملوانے کے بہانے پاکستان لے جا کر انہیں قتل کر دیا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

گھر والوں کے ساتھ اختلاف

پولیس کے مطابق نوویلارا کے سوشل ورکر اور پولیس اس بات سے واقف تھے کہ ثمن کے والد ان کی مرضی کے خلاف ان کی شادی ان کے کزن سے کرنا چاہتے تھے۔ گھر والوں کا اختلاف اس حد تک پہنچ چکا تھا کہ پچھلے سال اکتوبر میں ثمن نے سوشل ورکروں سے مدد مانگی اور جب انہیں پتہ چلا کہ والدین اس مقصد کے لیے پاکستان کے ٹکٹ بھی خرید چکے ہیں تو انہوں نے پولیس میں ان کے خلاف شکایت درج کروا دی۔ ثمن کو تب بلونیا شہر کے پاس تحفظ دینے کے لیے منتقل کر دیا گیا تھا۔ وہ وہاں چھ مہینے حفاظت سے رہیں اور اس کے بعد گھر واپس چلی گئیں۔

اس پس منظر میں پولیس کا ثمن کی تلاش میں فوری طور پر سرگرمِ عمل ہونا سمجھ میں آتا ہے۔ انہیں اصل پریشانی کا تب اندازہ ہوا جب میلان ایئرپورٹ کے ریکارڈ کے مطابق ثمن کے والدین کے سفر کی تصدیق تو ہو گئی لیکن ثمن کے نام سے کوئی ٹکٹ نہیں کٹا۔

اب اطالوی حکومت کے سامنے ثمن کی طرف سے ایک خوفناک امکان سامنے رکھا تھا۔ ثمن کی تلاش جلد ہی لاش کی تلاش میں تبدیل ہو گئی۔ ایک درجن پولیس افسران کے ساتھ سراغ لگانے والے کتے بھی ٹیم کا حصہ بن گئے۔ فارم کے پورے علاقے میں، ساتھ میں بہتی نہروں اور کنال میں، کنویں کے اندر، گرین ہاؤسز میں، سرویلینس وڈیو اور ڈرون کی مددسے ثمن کی تلاش جاری رہی اور مقامی اور قومی میڈیا لمحے لمحے کی خبر کا تعاقب کرتا گیا۔

سوال یہ اٹھے کہ کیا خاندان والوں نے ثمن کو قتل کر کے ان کی لاش کو آس پاس کے کسی علاقے میں گاڑ دیا ہے۔ ایک رات تین افراد شبّر عباس کے گھر سے بیلچے اور بالٹیاں لیے کہاں جا رہے تھے؟ ایک کلومیٹر دور ثمن کے کزنز کے گھر کے پیچھے کے دروازے سے کس قسم کی مشکوک حرکت دکھائی گئی تھی؟ ایک کزن کچھ دن بعد جنوبی فرانس میں پیرس سے بارسلونا جانے والی بس میں بغیر کاغذات کے پایا گیا اور پھر سوال اور بھی زیادہ یقینی شکل اختیار کرتا گیا کہ یہ سب لوگ کہاں بھاگ کر جا رہے ہیں۔ پراسیکیوٹر نے ماں، باپ، چچا، اور دو کزن پر قتل کی انکوائری شروع کر دی۔

’ثمن تو بیلجیئم میں ہے‘

نوویلارا کی میئر نے امید باندھے رکھی کہ ثمن زندہ ہیں اور ایک شام انہوں نے شہر کے لوگوں کو دعوت دی کہ وہ جمع ہوں اور ثمن کے لیے شمع جلائیں اور امید اور دعا کریں کہ وہ خیریت سے لوٹ آئے۔ کئی سو لوگ ثمن عباس کے لیے اس شہر کے مرکز میں جمع ہوئے۔

اطالوی میڈیا نظریں جمائے ہر قدم سے ہم کو آگاہ کرتا گیا۔ کہانی میں نیا موڑ تب آیا جب شبّر عباس کا پاکستان میں پتہ لگایا گیا اور ان سے فون پر بات ٹی وی پر نشر کی گئی۔ شبّر عباس کا کہنا تھا کہ یہ قتل کا الزام بے معنی ہے اور وہ ان ساری خبروں سے حیران ہیں۔ وہ پاکستان سے دس جون کو واپس اٹلی پہنچ جائیں گے اور خود پولیس کو پوری داستان سمجھا دیں گے۔ بیلچے اور بالٹیاں گھر سے لے کر وہ فارم پر ٹیوب ٹھیک کرنے جا رہے تھے جیسے کہ ان کا کام ہے۔ ثمن کہاں ہے؟ انہوں نے بتایا، ’ثمن تو بیلجیئم میں ہے۔‘

’پانچ عورتوں کو تو ہم مار چکے ہیں‘

اٹلی میں تین دہائیوں سے مقیم صحافی اعجاز احمد کا کہنا ہے کہ انہیں امید ہے کہ ثمن زندہ ہے۔ لیکن انہیں بالکل اس بات پر کوئی حیرانی نہیں کہ مقامی میڈیا اور پولیس کو اتنی جلدی یہ شک ہوا کہ اسے اس کے خاندان نے قتل کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا، ’ہم پانچ عورتوں کو تو مار چکے ہیں۔‘ انہوں نے ان پاکستانی خواتین کا حوالہ دیا جو اٹلی کے مختلف شہروں میں اپنے باپ اور شوہروں کے ہاتھ ماری گئیں۔ ’شہناز بیگم اور نسیم بٹ دونوں کارپی کے شہر میں۔ عذرا ریاض ماکیراتا میں، ثنا چیمہ پاکستان لے جا کر اور حنا سلیم بریشیا میں۔‘

ساتھ ساتھ اعجاز احمد کا یہ بھی کہنا ہے کہ میڈیا کا بغیر تحقیق مکمل ہوئے اس نتیجے پر پہنچ جانا ان کے تعصب کی بھی علامت ہے۔ آئے دن اعجاز احمد مختلف ٹی وہ چینلوں اور ریڈیو سٹیشنوں کو سوالوں کے جواب میں پاکستانی تہذیب، ارینجڈ میریج اور جبری شادی میں فرق اور ایک روایتی خاندان کے مختلف ارکان کے کردار کے بارے میں سمجھا رہے ہوتے ہیں۔ یہ کام وہ 30 سال سے کرتے آئے ہیں لیکن تھکتے نہیں۔

’ایسے تمام واقعات میں یہاں رہنے والے پاکستانوں کو اپنا موقف بیان کرنا چاہیئے اور آپس میں اس معاملے پر کھل کر گفتگو بھی کرنی چاہیے۔ اگر ہم آپس میں نہیں بولیں گے اور پریس میں اپنا بیان نہیں دیں گے تو یہاں کی اینٹی امیگریشن سیاسی جماعتیں یہاں کے نفرت پھیلانے والے اخبارات اور ٹی وی چینل، وہ سب پھر ہماری کہانی خود لکھیں گے۔‘

جبران فضل نے مجھ سے کہا، ’یہ بہت ضروری ہے کہ ہماری آواز میڈیا تک پہنچے۔‘ وہ اٹلی میں ’پاک آواز‘ کے نام سے آن لائن میڈیا ویب سائٹ چلاتے ہیں اور ان کی یہاں کی خبروں پر گہری نظر رہتی ہے۔ ان کا تعلق بریشیا سے ہے جہاں اٹلی کے ڈیڑھ لاکھ پاکستانیوں کی سب سی بڑی تعداد رہتی ہے۔ وہ کہتے ہیں: ’جب ایسے واقعات ہوتے ہیں اور ہم خاموش رہتے ہیں تو اس کا مطلب یہ سمجھیں کہ ہم ساتھ دے رہے ہیں۔ یا یہ کہ ہمیں کوئی پروا نہیں ہے۔

’اس وقت ہم یہ نہیں جانتے کہ ثمن زندہ ہیں کہ قتل کر دی گئیں۔ دونوں طرف سے ابھی ہمیں کوئی ثبوت نہیں ملا۔ لیکن ہم جو بات جانتے ہیں وہ یہ ہے کہ یہ زبردستی کی شادی کا معاملہ تھا، اور یہ ہی ایک ایسی بات ہے جس کی ہمیں مذّمت کرنی چاہیے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

26 سالہ نتاشہ نورین 12 سال پہلے اپنے خاندان کے ساتھ اٹلی منتقل ہوئیں۔ وہ یورپی یونین میں مائیگرنٹ خواتین کے حقوق کے لیے کام کرتی ہیں اور ان کوثمن کے زندہ ہونے کی امید نظر نہیں آتی۔ اپنی کیفیت بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا ” مجھے شدید غصہ ہے۔ اداسی ہے۔ دکھ ہے۔ میں آج پورے دن آنسوؤں سے ایک ایسی لڑکی کے لیے روئی ہوں جس کو میں جانتی بھی نہیں۔“ نتاشہ کہتی ہیں کہ ان کے جذبات کی سب سے بڑی وجہ پاکستانی کمیونٹی کی خاموشی ہے۔

اس خاموشی کی دھمک اس سے پہلے بھی سنی جاچکی ہے۔ مجھے ان تالیوں کی گونج کی آواز آج تین سال بعد بھی یاد ہے جو ایک کانفرنس ہال میں سنی گئی جب اس وقت کے میلان کے کونسل جنرل ندیم خان صاحب نے بھرے مجمعے کو یہ تسلی بخش خبر دی کہ پاکستان میں تحقیق کے مطابق ثنا چیمہ کی موت کسی باپ یا بھائی کے ہاتھوں نہیں بلکہ دل کا دورہ پڑنے سے ہوئی۔ یہ بات بعد میں غلط ثابت ہوئی لیکن اس وقت مجمع میں موجود تمام مرد حضرات نے یہ خبر سن کر تالیاں بجائیں کیونکہ اس لمحے یہ اہم نہیں تھا کہ ایک لڑکی کی جان چلی گئی ہے۔ اس وقت یہ بات اہم تھی کہ موت کی وجہ طبعی بتائی گئی تھی اور پاکستانی مرد اور ان کی شناخت اس بربریت سے بری الذمہ تھے۔

ثنا اور ثمن میں صرف ایک مماثلت تھی کہ دونوں پاکستانی والدین کی بیٹیاں ہیں۔ دوسرے ہر لحاظ سے ان کی زندگیوں کے تجربے اور واقعات بالکل مختلف تھے۔ جہاں ثمن صرف مڈل سکول تک پڑھی ہوئی تھیں اور گھر سے باہر کی دنیا سے زیادہ رابطہ بھی نہیں تھا، وہاں ثنا اپنی ایک ڈرائیونگ سکول کا بزنس چلاتی تھیں اور بہت سے لوگ انہیں جانتے تھے۔ ان کو پوچھنے والے، انہیں ڈھونڈنے والے بھی کئی تھے۔ یہ ان کے دوست ہی تھے جنہوں نے مقامی پولیس کو ان کے لاپتہ ہونے کی اطلاع دی اور ان کے خاندان پر انگلیاں اٹھائی۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا