ایک فلمی نغمے سے ہر دلعزیز گلوکار بننے والے ایس بی جون

کئی یادگار گانے دینے والے سنی بینجمن جون کی گلوکاری کا سفر آسان نہیں تھا۔ انہیں ابتدا میں ہر جگہ سے انکار کا سامنا کرنا پڑا۔

 ایس بی جون گلوکاری کے ساتھ ساتھ  مختلف آلات موسیقی بھی کمال مہارت سے بجا لیتے تھے (پی ٹی وی یوٹیوب چینل/ سکرین گریب)

پاکستان کے نامور گلوکار سنی بینجمن جون ہفتے کو 87 سال کی عمر میں کراچی میں علالت کی وجہ سے انتقال کر گئے۔

کئی یادگار گانے دینے والے سنی بینجمن جون کا گلوکاری کا سفر تاہم آسان نہیں تھا۔

نوجوان سنی بینجمن جون یہ جملہ سن سن کر بے زار ہوگئے تھے کہ ان کی آواز فلمی گیتوں کے لیے مناسب نہیں۔

کئی بار کوشش کی کہ کسی طرح فلم میں نغمہ سرائی کا موقع مل جائے لیکن ہر بار رد کیے جاتے اور وجہ یہی ہوتی کہ موسیقار کسی لگی لپٹی کی بجائے یہ کہہ کر جان چھڑا لیتے کہ فلمی گیتوں کے لیے جو آواز درکار ہوتی ہے، اس کے معیار پر سنی بینجمن جون کسی طرح بھی پورے نہیں اترتے۔

حالانکہ سنی بینجمن جون، جو بعد میں ایس بی جون کے نام سے مشہور ہوئے، موسیقی کے سُر اور تال کی خاصی مہارت رکھتے تھے۔

والد اور والدہ کی جانب سے فن موسیقی وراثت میں ملی تھی۔ اسی لیے انہیں معلوم تھا کہ کب اور کس طرح کی گلوکاری کرنی ہے۔ سُریلا گلا ہونے کے باوجود موسیقاروں کے مسلسل انکار سے  ایس بی جون اس قدر دل برداشتہ ہوچکے تھے کہ انہوں نے سوچ لیا کہ اب فلموں کی بجائے صرف ریڈیو کے لیے نغمہ سرائی کریں گے۔

یہ 1958 کے آخری مہینوں کی بات ہے کہ جب کراچی میں موسیقار ماسٹر منظور اپنی فلم کے گانوں کے لیے نئے گلوکاروں کا آڈیشن لے رہے تھے۔

ایس بی جون کے علم میں بھی یہ بات تھی لیکن اس ڈر کے ساتھ کہ ایک بار پھر انہیں مسترد نہ کردیا جائے، انہوں نے از خود اس آڈیشن میں قسمت نہ آزمانے کا فیصلہ کیا۔

اس دوران کراچی کے ایسٹرن سٹوڈیو کے ساؤنڈ ریکارڈسٹ، جو ایس بی جون کے دوست بھی تھے، کے اصرار پر وہ ماسٹر منظور کو متاثر کرنے کی کوشش میں ان کے مقابل آبیٹھے۔

اُس دن انہیں زکام بھی تھا۔ ماسٹر منظور نے جب اُن سے کچھ سنانے کی فرمائش کی تو انہوں نے بتایا کہ زکام کی وجہ سے وہ بہتر پرفارم نہیں کرسکیں گے، لیکن ماسٹر منظور نے ان کی ہمت بڑھائی اور پھر ایس بی جون نے رفیع، طلعت محمود اور ہیمنت کمار کے وہ گانے پیش کیے جو وہ عام طور پر نجی تقریبات میں گا کر داد وصول کرتے تھے۔

ایس بی جون کو پورا یقین تھا کہ اس مرتبہ بھی ’نہ‘ ہی سننے کو ملے گی لیکن خلاف توقع ماسٹر منظور ان کی گلوکاری سے خوش ہوگئے اور اسی وقت فیصلہ کر لیا کہ ان کی فلم ’سویرا‘ کے لیے ایس بی جون سے گانا ریکارڈ کرایا جائے گا۔

’ سویرا‘ میں ایس بی جون نے دو گیت گائے۔ فیاض ہاشمی کے لکھے ہوئے ایک گیت ’تو جو نہیں ہے تو کچھ بھی نہیں‘ کو غیر معمولی پذیرائی ملی۔

اداکار کمال پر فلمائے گئے اس گانے نے فلم کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔ بیشتر سننے والوں کو ایسا لگا جیسے اس رومانی گانے کو بھارتی گلوکار طلعت محمود نے گایا ہو۔

اس ایک گیت نے ایس بی جون کو پلک جھپکتے مستند گلوکاروں کی صف میں لاکھڑا کیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ انہیں اس گانے کا معاوضہ 150 روپے ملا۔

اس گیت کی مقبولیت کے بعد پاکستانی فلموں کے کئی موسیقاروں نے ان کی طرف توجہ دینا شروع کی۔

ایس بی جون کا کہنا تھا کہ گھر کے علاوہ انہوں نے موسیقی کے  بنیادی اسرار و رموز پنڈت رام چندر ترویدی سے سیکھے، جنہوں نے ان کی آواز میں نکھار لانے میں اپنی تمام تر توانائی استعمال کی۔ فلمی دنیا میں قدم رکھنے سے پہلے ایس بی جون جہاں نجی تقریبات میں گلوکاری کرتے تھے وہیں ریڈیو پاکستان کے لیے بھی نغمے ریکارڈ کراتے تھے۔

ابتدا میں ریڈیو پر کئی آڈیشنز میں ناکامی کے بعد بھی انہوں نے کبھی ہمت نہ ہاری۔ کئی بار انہیں یہ طعنہ سننے کو ملتا کہ ان کی آواز میں پختگی نہیں اور یہ کہ انہیں مزید ریاض کی ضرورت ہے۔

اس پر مایوس قدم واپس لوٹنے کے بعد وہ دن و رات ریاض کرتے اور اپنی گلوکاری کو بہتر سے بہتر بنانے کی جستجو میں مصروف ہوجاتے۔

کراچی میں جنم لینے والے ایس بی جون اس اعتبار سے منفرد رہے کہ وہ  ناصرف گلوکاری کرتے بلکہ مختلف آلات موسیقی کو بھی کمال مہارت سے بجا لیتے تھے۔

ایک دوست نے ان کی رسائی ریڈیو پاکستان کے سٹیشن ڈائریکٹر تک کرائی، جنہوں نے  پروڈیوسر، نغمہ نگار، گلوکار اور موسیقار مہدی ظہیر سے کہا کہ وہ 20 برس کے اس نوجوان کو ضرور موقع دیں۔ جبھی مہدی ظہیر نے انہیں اپنے اُس شو کے لیے چن لیا، جس میں فلمی طرز پر غزلیں پیش کی جاتیں۔

1950 میں نشر ہونے والے اس پروگرام کے لیے ایس بی جون کو 15 روپے معاوضہ ملتا، رقم سے زیادہ انہیں اس بات کی خوشی تھی کہ جس موقعے کی تلاش میں تھے، وہ انہیں مل گیا اور یوں باقاعدہ طور پر ایس بی جون کے فنی سفر کا آغاز ہوا۔

ایس بی جون نے ’سویرا‘  کے بعد 1960 میں ’رات کے راہی‘  میں زبیدہ خانم اور احمد رشدی کے ساتھ ’بات چھوٹی سی ہے، مانو یا نہ مانو‘ گا کر خود کو منوایا۔

اسی طرح اگلے برس ’انسان بدلتا ہے‘ میں ’ہم تم اور یہ کھوئی کھوئی رات‘ گایا۔ جب کہ فلم ’لاکھوں فسانے‘ میں ان کے تین گانے شامل کیے گئے اور پھر 1964میں ریلیز ہونے والی ’پیار کی سزا‘ میں بھی ان کی گلوکاری کا معیار عروج پر رہا۔

ایسے وقت میں جب 60 کی دہائی میں پاکستانی فلموں کا مرکز دھیرے دھیرے لاہور منتقل ہونے لگا۔ وہ محض اپنی ملازمت کی بنا پر کراچی چھوڑنے پر آمادہ نہیں ہوئے۔

وہ یہ بات بھی تسلیم کرتے تھے کہ درحقیقت گلوکاری ’ہوائی روزی‘ ہے جس پر لگی لگائی ملازمت کو ترجیح نہیں دی جاسکتی۔ اسی لیے جب موسیقاروں کو ضرورت ہوتی، لاہور کا رخ کرکے گانے ریکارڈ کرا لیتے لیکن یہ سلسلہ بھی زیادہ عرصے تک قائم نہیں رہا۔

جب ہی انہوں نے کراچی میں رہ کر نجی تقریبات اور ریڈیو پاکستان کے پروگراموں میں شرکت کی اور گلوکاری کو اپنی مرضی کے مطابق اختیار کیا۔

ٹیلی ویژن آنے کے بعد ان کا یہ سفر نئے دور میں داخل ہوا۔ ایس بی جون کے مطابق ذوالفقار علی بھٹو صاحب کے دور اقتدار میں اقلیتوں کی کانفرنس کا اہتمام کیا گیا۔

وزیراعظم بھٹو اور اُس وقت کے وزیراطلاعات کوثر نیازی نے خاص طور پر اس میں شرکت کی۔ کانفرنس میں ان کو بھی پرفارم کرنے کی دعوت دی گئی۔

انہوں نے جب اپنا مشہور ملی نغمہ ’اے ارض وطن تو ہی بتا تری صدا پر کیا ہم نے کبھی فرض سے انکار کیا ہے‘ گایا تو ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔ ہر بول پر انہیں پذیرائی ملی خود بھٹو صاحب نے بڑے  اشتیاق سے اس گانے کو سنا۔

نغمہ ختم ہونے کے بعد انہیں بھٹو صاحب سے ملاقات کا موقع ملا۔ جنہوں نے دریافت کیا کہ اس نغمے کی دھن کس نے بنائی اور کس نے لکھا ہے؟

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایس بی جون کا کہنا تھا کہ دھن اُن کی اپنی ہے جبکہ اس ملی نغمے کو ساقی جاوید نے لکھا، جس پر بھٹو صاحب نے خوش ہو کر کہا ’بہترین نغمہ نگاری، موسیقی اور گلوکاری ہے، اب اسے گیت کو شام کے سیشن میں بھی ایس بی جون گائیں۔‘

ایس بی جون کے ایک انٹرویو کے مطابق بھارتی ہدایت کار مہیش بھٹ کی والدہ کو ان کا گایا ہوا گیت ’تو جو نہیں ہے تو کچھ بھی نہیں‘  بہت زیادہ پسند تھا۔

مہیش بھٹ نے جب 2006 میں عمران ہاشمی اور کنگنا کے ساتھ فلم ’وہ لمحے‘ پروڈیوس کی تو خصوصی طور پر انہیں بھارت مدعو کیا۔

خواہش تو ان کی یہ تھی کہ فلم میں اس مشہور گانے کو ایس بی جون ہی گائیں لیکن یہ بھی عجیب اتفاق ہے کہ اس رومانی گیت کی نغمہ سرائی ایس بی جون کے بیٹے گلین جون نے کی۔

ایس بی جون کے چار میں سے تین بیٹے فن موسیقی سے وابستہ ہیں۔ دو سال پہلے وہ موسیقی کی دنیا  سے کم و بیش کنارہ کشی اختیار کرگئے تھے۔

ایس بی جون کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ مسیحی برادری کے پہلے فنکار ہیں جنہیں 2011 میں پرائیڈ آف پرفارمنس سے نوازا گیا۔

زیادہ پڑھی جانے والی موسیقی