بلوچستان: مسافر کوچوں میں ٹریکر لگا کر حادثات روکنے کی کوشش 

سیکرٹری صوبائی ٹرانسپورٹ اتھارٹی کے مطابق: ’یہ کام انتہائی مشکل تھا۔ ہمیں مسافر کوچوں کے مالکان کو قائل کرنے میں بہت عرصہ لگا جن کا اعتراض تھا کہ ٹریکر اور کیمرے خواتین کی ویڈیوز ریکارڈ کریں گے جس سے قبائلی معاشرے میں مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔‘

ٹریکنگ کے ذریعے گاڑیوں کو مقررہ رفتار سے تیز چلانے سے روکنے کے علاوہ ڈرائیوروں پر بھی نظر رکھی جارہی ہے (تصویر: نجیب زہری)

بلوچستان حکومت کی جانب سے قومی شاہراہوں پر ٹریفک حادثات روکنے کے لیے مسافر کوچوں میں ٹریکر لگانے کا کام شروع کردیا گیا۔

ٹریکنگ کے ذریعے گاڑیوں کو مقررہ رفتار سے تیز چلانے سے روکنے کے علاوہ ڈرائیوروں پر بھی نظر رکھی جارہی ہے۔ 

 حکومت بلوچستان کی طرف سے صوبائی ٹرانسپورٹ اتھارٹی کے حکام مسافر کوچوں میں ٹریکر لگانے کا کام کررہے ہیں۔  

غیرسرکاری تنظیم بلوچستان یوتھ اینڈ سول سوسائٹی کے مطابق: ’صوبے میں اتنے لوگ بم دھماکوں میں نہیں مرے جتنے قومی شاہراہوں پر ٹریفک حادثات کا شکار ہورہے ہیں۔‘ 

سیکرٹری صوبائی ٹرانسپورٹ اتھارٹی ظفر کبدانی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’بلوچستان میں ٹریفک حادثات کی ایک وجہ مسافر کوچوں کی طرف سےتیز رفتاری کو بھی قراردیا جاتا ہے، جس کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا کہ مسافر کوچوں پر نظر رکھنے کے علاوہ ان کی رفتار بھی کنٹرول کی جائے۔ چونکہ بلوچستان ایک پسماندہ صوبہ ہے اور ٹرانسپورٹ مالکان ٹریکر کا خرچہ برداشت کرنے سے قاصر تھے اس لیے حکومت نے انہیں مفت لگانے کا فیصلہ کیا جس پر باقاعدہ عمل درآمد شروع کردیا گیا ہے۔‘ 

 صوبائی ٹرانسپورٹ اتھارٹی کے حکام کے مطابق اب تک 215 مسافر کوچوں میں ٹریکر لگائے جاچکے ہیں۔ 

 ظفر کبدانی نے مزید بتایا کہ ’اس وقت صرف کوئٹہ، کراچی، پشین اور چمن  سے کراچی جانے والے روٹ کی مسافر کوچوں میں ٹریکر لگائے جارہے ہیں۔ دوسرے مرحلے میں بلوچستان کے تمام روٹس پر جانے والی کوچوں میں ٹریکر لگائے جائیں گے۔ اس وقت صوبے میں ٹرانسپورٹ اتھارٹی کی جانب سے مذکورہ روٹس پر 316 پرمٹ جاری ہوئے ہیں۔ فی گاڑی ٹریکر خرچہ 80 ہزار روپے ہے اور یہ مکمل منصوبہ دو کروڑ 52 لاکھ روپے کا ہے۔‘ 

 واضح رہے کہ ٹریکر لگانے کے بعد مسافرکوچوں کو مانیٹر کرنے کے لیے کنٹرول روم بھی قائم کیا گیا ہے جس میں ہر گاڑی کی جگہ، رفتار اور ڈرائیور کو مانیٹر کیا جاتا ہے۔ اس دوران اگر کوئی ڈرائیور مقررہ رفتار سے تیز سفر کرتا ہے تو اس کی کمپنی کو وارننگ دی جاتی ہے، جرمانہ کیا جاتا ہے اور دوبارہ یہی غلطی دہرانے پر کمپنی کے خلاف مزید سخت کارروائی کی جاتی ہے۔

 ٹریکر کی ٹمپرنگ کو کیسے روکا جائے گا؟

 ظفر کبدانی نے بتایا کہ ’ٹریکر ٹمپرنگ کرنے کا خدشہ ہمیں تھا۔ اسے مدنظر رکھتے ہوئے ہم نے کنٹرول روم  قائم کیا۔ مانیٹرنگ کے دوران ہم نے دیکھا کہ دو کمپنیوں کے ڈرائیوروں نے ٹریکروں کو ٹمپر کرنے کی کوشش کی، جس پر پہلے کارروائی کرتے ہوئے کمپنیوں کو نوٹسز دیئے گئے۔ جن پر عمل نہ کرنے پر ان کے دفاتر کو سیل کیا گیا۔ دوسرا یہ الزام بھی لگایا جاتا ہے کہ مسافر کوچوں میں کم عمر ڈرائیور لگائے جاتے ہیں، جس کے لیے ہم نے کمپنیوں کے ذمہ داران کو طلب کرکے ان کو ہدایت کی کہ وہ ایسے ڈرائیور بھرتی کریں جو کم عمر نہ ہوں اور وہ باقاعدہ تربیت یافتہ ہوں۔‘

ٹریکر سے مسافر کوچوں کو کیا فائدہ ہوا؟

سیکرٹری صوبائی ٹرانسپورٹ اتھارٹی کے مطابق: ’یہ کام انتہائی مشکل تھا۔ ہمیں مسافر کوچوں کے مالکان کو قائل کرنے میں بہت عرصہ لگا جن کا اعتراض تھا کہ ٹریکر اور کیمرے خواتین کی ویڈیوز ریکارڈ کریں گے جس سے قبائلی معاشرے میں مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔ جب ہم نے انہیں بتایا کہ یہ ٹریکر ان کے فائدے اور کیمرے ان کی حفاظت کے لیے ہیں تو انہوں نے بہت حیل وحجت کے بعد رضامندی ظاہر کی۔‘ 

انہوں نے بتایا کہ ’حال ہی میں ایک کوچ کے ساتھ حادثہ پیش آیا جس میں مسافر کوچ نے موٹرسائیکل کو ٹکر ماردی جو سکیورٹی فورسزکے اہلکار تھے۔ انہوں نے کوچ کو تحویل میں لےلیا۔ جب ہم نے اس کوچ پر لگی ویڈیو کی ریکارڈنگ نکالی تو اس میں یہ واضح سامنے آیا کہ اس حادثے کا ذمہ مسافر کوچ کا ڈرائیور نہیں تھا بلکہ غلطی موٹر سائیکل سوار کی تھی جو ایک دم ان کے سامنے آ گیا۔ اس واقعہ کے بعد نہ صرف معاملہ واضح ہوگیا بلکہ سکیورٹی فورسز نے اپنی غلطی تسلیم کرکے مسافر کوچ کو مالکان کے حوالے کردیا۔‘ 

اس کیس کے سامنے آنے کے بعد نہ صرف اس کمپنی نے بلکہ دیگر نے بھی ٹریکر کے لیے تمام گاڑیاں پیش کردیں۔ 

بلوچستان میں ٹریفک حادثات کے اعداد وشمار جمع کرنے والی غیر سرکاری تنظیم بلوچستان یوتھ اینڈ سول سوسائٹی کے سربراہ سمجھتے ہیں کہ ٹریکر اچھا اقدام ہے تاہم اس سے ٹریفک حادثات کو مکمل روکا نہیں جاسکتا، کسی حد تک کمی ہو سکتی ہے۔ 

تنظیم کے اعداد وشمار کے مطابق بلوچستان میں صرف جنوری 2021 کے دوران 995 ٹریفک حادثات رونما ہوئے۔ جن میں 1446 افراد لقمہ اجل بنے۔ 

تنظیم کے سربراہ نجیب زہری نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ مسافر کوچوں کی تیز رفتاری کےعلاوہ قومی شاہراہوں کی خستہ حالی ، ٹرالرٹرک سمیت دیگر بڑی گاڑیاں بھی ٹریفک حادثات کا باعث بن رہی ہیں۔ اس کےعلاوہ موٹروے پولیس کے اہلکاروں کی تعداد بھی کم ہے۔ قومی شاہراہوں پر جب کبھی مرمت کے لیے سڑک کی کٹائی کی جاتی ہے تو ٹھیک کرتے کرتے چھ ماہ لگ جاتے ہیں ہم جب ٹریفک حادثات کے اعداد وشمار جمع کررہے تھے تو ہم نے کچھ حادثات کی وجوہات میں سڑک کی تاخیر سے مرمت کو پایا ہے۔ ‘

نجیب کے مطابق نہ صرف مسافر کوچوں بلکہ کار کمپنیوں میں کام کرنے والے ڈرائیور بھی اکثر ڈبل شفٹ میں کام کرتے ہیں جن کی وجہ سے اکثر حادثات رونما ہوتے ہیں۔ 

مسافر کوچوں کی تنظیم کا ردعمل  

آل بلوچستان ٹرانسپورٹ ایکشن کمیٹی مسافر کوچوں میں ٹریکر لگانے سے مطمئن نظر آتی ہے۔  

آل بلوچستان ٹرانسپورٹ ایکشن کمیٹی کے جنرل سیکرٹری اکبر لہڑی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ اس سے کچھ معاملات بہتر ہوئے ہیں۔ ہم تو پہلے سے اس حق میں ہیں کہ یہاں پر تیز رفتاری سے گریز کیا جائے۔ 

 انہوں نے بتایا کہ ٹریفک حادثات میں صرف مسافر کوچ وجہ نہیں بلکہ بڑی گاڑیاں جن میں ٹرالر اور پتھر لانے والے ٹرک شامل ہیں وہ بھی مسائل کا باعث بن رہے ہیں۔ 

اکبر لہڑی نے بتایا کہ ’ٹریکر لگانے سے ہمیں کچھ فائدہ ہوا جس کی وجہ سے ہمارے ڈرائیور اب تیز رفتاری سے ڈرتے ہیں۔‘ 

انہوں نے اس الزام کی تردید کی کہ مسافر کوچوں میں غیر تربیت یافتہ ڈرائیور کام کررہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہماری ایک گاڑی کی قیمت ڈھائی کروڑ روپےتک ہے تو ہم کس طرح اس کو اناڑی کے ہاتھ میں دے سکتے ہیں۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اکبر نے بتایا ’ہمارے پاس اس وقت 15 سال سے لے کر 20 سال تک تجربہ کار ڈرائیونگ کرنے والے موجود ہیں جو بعد میں اپنے شاگردوں کو تربیت دیتے ہیں۔ جب وہ مکمل ڈرائیور بن جاتے ہیں تو ہم ان کو چلانے کی اجازت دیتے ہیں۔‘  

ٹریکر نصب کرنے والی کمپنی کے جنرل مینیجر یاسر خان نے بتایا کہ ’مسافرکوچوں میں ٹریکر لگانے میں آدھے گھنٹے یا اس کچھ زیادہ وقت لگتا ہے۔ اگر کسی ڈرائیور نے تیزرفتاری کی تو اس کو تین دفعہ تنبیہ کی جائے گی اور اس کے باوجود خلاف ورزی پر اس کمپنی کا لائسنس منسوخ کیا جاسکتا ہے۔ ابتدائی طور پر ایک بار مقررہ رفتار سے تجاوز کرنے پر دس ہزار جرمانہ کیا جائے گا۔ اس سسٹم کے ذریعے نہ صرف ہم ڈرائیور کو مانیٹر کرتے ہیں کہ وہ کس طرح گاڑی چلارہا ہے، وہ خود ہے یا گاڑی کسی ہیپلر کے ہاتھ میں ہے، اس کے علاوہ وہ کسی اور کام میں تو مشغول نہیں ہے۔‘ 

انہوں نے بتایا کہ اگر کوئی ٹریکر کےساتھ چھیڑ چھاڑ کرتا ہے تو ہمارے سسٹم میں اس کی نشاندہی ہوجائے گی۔ جس پر اس کے خلاف کارروائی ہوگی۔ 

مسافر کوچوں میں ٹریکر لگانے والے صوبائی ٹرانسپورٹ اتھارٹی کے حکام کا کہنا ہے کہ مستقبل میں وہ مانیٹرنگ کے نظام کو نیشنل ہائی وے اتھارٹی اور ریسکیو کے ادارے کے ساتھ بھی منسلک کریں گے تاکہ حادثات کی صورت میں زخمیوں کو بروقت ہسپتال پہنچانے اور علاج معالجے میں آسانی ہوسکے۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان