دوبارہ چیئرمین نادرا نامزد ہونے والے طارق ملک کون ہیں؟

طارق ملک نے 2013 میں سابق حکومت سے تناؤ بڑھ جانے پر چیئرمین نادرا کے عہدے سے استعفیٰ دیا تھا، جس کے بعد وہ امریکہ چلے گئے تھے، تاہم اب انہیں دوبارہ اس عہدے کے لیے نامزد کرلیا گیا ہے۔

ترجمان نادرا کا کہنا ہے  کہ طارق ملک کی تعیناتی کے حوالے سے اطلاعات تو ہیں مگر تاحال انہوں نے چارج نہیں سنبھالا ہے (تصویر: طارق ملک ٹوئٹر اکاؤنٹ)

پاکستان کی نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کے آٹھ سال قبل مستعفی ہونے والے چیئرمین طارق ملک کو اسی عہدے کے لیے دوبارہ نامزد کردیا گیا ہے، جس کی وفاقی کابینہ نے منظوری بھی دے دی ہے۔

وفاقی کابینہ کی جانب سے منگل کو منظوری کے بعد امکان ہے کہ طارق ملک چند روز میں ایک مرتبہ پھر بطور چیئرمین نادرا اپنی ذمہ داریاں سنبھال لیں گے۔

طارق ملک نے 2013 میں سابق حکومت سے تناؤ بڑھ جانے پر عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا، جس کے بعد وہ امریکہ چلے گئے تھے۔

انہیں اس وقت سابق حکومت کی ناپسندیدگی کا سامنا کرنا پڑا تھا جب انہوں نے 2013 کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف انتخابی عذرداریوں میں کئی حلقوں سے ووٹرز کے انگوٹھوں کی نشاندہی نہ ہونے کی رپورٹس عدالتوں میں دی تھیں۔

دوسری جانب ترجمان نادرا کا کہنا ہے طارق ملک کی تعیناتی کے حوالے سے اطلاعات تو ہیں مگر تاحال انہوں نے چارج نہیں سنبھالا ہے۔

دوسری جانب طارق ملک نے اپنی دوبارہ نامزدگی کے لیے ٹوئٹر پر وزیراعظم عمران خان کا شکریہ ادا کیا۔

طارق ملک کی دوبارہ تعیناتی کیسے ہوئی؟

اسلام آباد کے سینیئر صحافی شکیل انجم نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ طارق ملک نے 14-2013 میں اس وقت کے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار کو اپنا استعفیٰ بھجوایا تھا، جس کے بعد وہ ادارے کے ساتھ ساتھ ملک بھی چھوڑ کر چلے گئے تھے۔

انہوں نے بتایا کے اس دوران وہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ایڈوائزر کی حیثیت سے کام کر رہے تھے۔ ’موجودہ حکومت کی طرف سے چیئرمین نادرا کی تقرری کی اطلاع کے بعد طارق ملک نے سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ سے کہا ہے کہ انہیں ذمہ داریوں سے فارغ کیا جائے۔‘

شکیل انجم کے مطابق: ’حکومت پاکستان نے نادرا کے نئے چیئرمین کے لیے ایک اشتہار دیا تھا، جس کے جواب میں 109 افراد نے کاغذات جمع کروائے تھے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے بتایا: ’حکومت نے ان میں سے پانچ آئی ٹی لیڈرز کا انٹرویو کیا اور شارٹ لسٹ کیا، جن میں طارق ملک کا نام سر فہرست رہا لہذا یہ کہا جاسکتا ہے کہ ان کی تعیناتی بظاہر تو میرٹ پر ہی ہوئی ہے مگر دیکھنا یہ ہے کہ موجودہ حکومت کس طرح ان کے کام پر اپنا ردعمل ظاہر کرے گی۔‘

ان کے مطابق پانچ سال قبل اقوام متحدہ نے طارق ملک کو بین الاقوامی مقابلے میں 178 آئی ٹی ماہرین میں سے منتخب کیا تھا، وہ اس وقت 130 سے زائد ممالک کو ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے حکومتی کارکردگی بہتر بنانے میں مدد فراہم کر رہے ہیں۔

شکیل انجم کہتے ہیں کہ طارق ملک کا تعلق اسلام آباد سے ہی ہے، وہ معروف دانشور اور ماہر تعلیم پروفیسر فتح محمد ملک کے صاحبزادے ہیں، جو اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کے پروفیسر بھی رہے ہیں۔

دوسری جانب ترجمان نادرا فائق احمد نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ابھی تک نادرا چیئرمین کا چارج بریگیڈیئر خالد کے پاس ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا: ’کابینہ نے طارق ملک کو تعینات کرنے کی منظوری تو دے دی ہے لیکن ان کی تقرری کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری ہونا باقی ہے، جیسے ہی نوٹیفکیشن ہوگا تو وہ اپنے عہدے کا چارج سنبھال لیں گے۔‘

نواز شریف حکومت طارق ملک سے خوش کیوں نہیں تھی؟

اس سوال کا جواب کچھ عرصہ قبل ایک انٹرویو میں طارق ملک نے دیا تھا۔

ان کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ ’2013 کے انتخابات سے متعلق عدالتوں میں معاملہ اٹھایا گیا اور کئی حلقوں سے شکست کھانے والے امیدواروں نے عدالتوں سے رجوع کیا تو عدالتی ہدایات پر نادرا نے ووٹرز کے انگوٹھوں کے نشانات کی نشاندہی کرنی تھی کہ وہ اصلی ہیں یا جعلی۔‘

بقول طارق ملک: ’کافی حلقوں میں ہزاروں ووٹرز کے انگوٹھوں کے نشانات میچ نہ کیے، جس کی بنیاد پر انہوں نے حقیقت پر مبنی رپورٹ عدالت میں جمع کرا دی، اس پر سابق حکومت کے وزرا نے ناگواری کا اظہار کیا اور ان سے ناراض ہوگئے تھے۔‘

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر ’وہ عہدے پر موجود ہوتے اور 2018 میں آر ٹی ایس سسٹم بیٹھنے سے متعلق جو معاملہ آیا تو وہ کسی کے کہنے پر سسٹم بند نہ کرتے، ہاں کوئی فنی خرابی ہوتی تو وہ بھی سب کے سامنے لے کر آتے۔‘

شکیل انجم اس بارے میں کہتے ہیں کہ ’نواز شریف حکومت چیئرمین نادرا سے ناخوش تھی اور جب سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار نے طارق ملک کو عہدے سے ہٹایا تو سپریم کورٹ نے اگلے ہی روز انہیں بحال کر دیا۔‘

’بعد میں چوہدری نثار نے میڈیا کو بیان دیا کہ طارق ملک من مانی کر رہے ہیں اور اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے کابینہ اور وزارت داخلہ کو اعتماد میں لیے بغیر اقدامات اٹھا رہے ہیں، جیسے وہ کسی کو جواب دہ ہی نہیں۔‘

ان کے مطابق ایک ماہ کے دوران ہی طارق ملک کو سپریم کورٹ سے بحالی کے باوجود عہدے سے مستعفی ہونا پڑا تھا، تب بھی یہ معاملہ کافی اچھالا گیا تھا۔

شکیل انجم کے مطابق: ’خاص طور پر موجودہ حکمران جماعت پی ٹی آئی جب اپوزیشن میں تھی تو طارق ملک کے حق میں عمران خان خود بیان دیتے رہے اور انہیں ہٹانے اور پھر دباؤ ڈال کر استعفی لینے کی بھی شدید مخالفت کی گئی تھی، جس سے یہ تاثر ابھرا کہ شاید پی ٹی آئی حکومت انہیں ماضی کے کردار کی وجہ سے تعینات کرنا چاہتی ہے، لیکن حیران کن بات ہے کہ اب ان کی تقرری پر مسلم لیگ ن کی جانب سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔‘

نامزد چیئرمین نادرا طارق ملک سے اس معاملے پر بات کرنے کے لیے رابطہ کیا گیا لیکن انہوں نے تاحال کوئی جواب نہیں دیا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان