رہائش کے اعتبار سے آکلینڈ دنیا کا پہلا اور دمشق آخری شہر

کرونا وبا سے نمٹنے کی بھرپور کوششوں کی بدولت اس سروے میں ایشیا پیسیفک کے شہروں نے 10 پوزیشنیں حاصل کی ہیں۔

آکلینڈ شہر کی ایک خوبصورت رات۔نیوزی لینڈ کو وبا پر قابو پانے کی کامیاب کوششوں پر سراہا گیا (پکسابے)

دی اکانومسٹ انٹیلی جنس یونٹ(ای آئی یو) کے زیراہتمام قابل رہائش شہروں کی سالانہ عالمی درجہ بندی میں نیوزی لینڈ کے شہر آکلینڈ کو دنیا بھر میں رہائش کے لیے بہترین قرار دیا گیا ہے۔

اس سروے میں ایشیا پیسیفک ممالک نے 10 پوزیشنیں حاصل کی ہیں۔ ایسا ان کی طرف سے کرونا (کورونا) وائرس کی وبا سے نمٹنے کی بھرپور کوششوں کی بدولت ہوا۔

نیوزی لینڈ کو وبا پر قابو پانے کی کامیاب کوششوں پر سراہا گیا۔ کووڈ پر قابو پانے میں بڑا کردار سرحدوں کے حوالے سے سخت پالیسیوں اور لاک ڈاؤن کا ہے۔

ای آئی یو نے کہا کہ آکلینڈ پہلے نمبر پر اس لیے رہا کیونکہ یہ شہر کھلا رہا اور اس نے تعلیم، ثقافت اور ماحول سمیت مختلف شعبوں میں زیادہ نمبر حاصل کیے۔

چوٹی کی پہلی پانچ پوزیشنیں اوساکا، ایڈیلیڈ، ٹوکیو اور ویلنگٹن کے حصے میں آئیں۔ پرتھ، میلبرن اور برسبین بھی چوٹی کے 10شہروں میں شامل ہیں۔

چوٹی کے10 دیگر نان ایشیا پیسیفک  شہروں میں سوئٹزر لینڈ کے شہر زیورخ اور جنیوا شامل ہیں جو معیارزندگی کے اعتبار سے روائتی طور پر زیادہ نمبر لیتے ہیں۔

فہرست مرتب کرنے کے لیے ہر شہر کے قابل رہائش ہونے کے حوالے سے درجہ بندی کی گئی تھی جس میں پانچ کیٹگریز میں 30 عوامل کو مدنظررکھا گیا۔

ان عوامل میں استحکام، صحت کی سہولتیں، ثقافت، تعلیم اور بنیادی ڈھانچہ شامل تھے۔ ای آئی یو کا کہنا ہے کہ شہروں کی درجہ بندی میں کرونا وبا کے اثرات کو بھی پیش نظر رکھا گیا۔

سخت لاک ڈاؤن کی وجہ سے مجموعی طور پر یورپ اور کینیڈا کے شہر درجہ بندی میں نیچے رہے۔

گذشتہ سال کا فاتح ویانا12 ویں نمبر پر چلا گیا جب کہ ہیمبرگ سب سے زیادہ متاثر ہوا اور وہ 34ویں سے 47 ویں نمبر پر چلا گیا۔

سب سے بڑا فاتح ہوائی کا شہر ہونولولو ہے، جو کرونا وبا پر قابو پانے میں 'بہترین کارکردگی' کے مظاہرے اور تیزی سے ویکسین متعارف کروا کے 46 ویں نمبر سے 14 پر آ گیا۔

درجہ بندی کے دوسرے سرے پر شام کا دارالحکومت دمشق ہے جو ملک میں جاری خانہ جنگی کی وجہ سے دنیا میں رہائش کے لائق شہروں میں سب سے نچلے درجے پر ہے۔

ای آئی یو نے اعتراف کیا کہ مجموعی طور پر کرونا وبا اور اس سے جڑے لاک ڈاؤن کی وجہ سے دنیا بھر میں معیار زندگی پست ہوا ہے۔

دی اکانومسٹ انٹیلی جنس یونٹ میں عالمی سطح پر شہروں کے قابل رہائش ہونے کے حوالے سے درجہ بندی کرنے والے شعبے کی سربراہ اوپاسادت کے بقول: ’کووڈ19 کی وبا نے عالمی سطح پر شہروں کے رہائش کے قابل ہونے کو بری متاثر کیا۔

’اس وقت دنیا بھر میں شہر کہیں کم قابل رہائش گئے ہیں اس وقت کے مقابلے میں کہ جب وبا شروع ہوئی تھی اور ہم نے دیکھا کہ یورپ جیسے علاقے خاص طور پر بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔

’اس سال جو شہر درجہ بندی میں سب سے اوپر آئے ان میں سے زیادہ تر ایسے شہر ہیں جنہوں نے وبا پر قابو پانے کے لیے سخت اقدامات کیے۔

’نیوزی لینڈ میں سخت لاک ڈاؤن نے معاشرے میں زندگی معمول پر آنے کا موقع فراہم کیا اور آکلینڈ اور ویلنگٹن جیسے شہروں کے مکین اس قابل ہو سکے کہ وہ پھر اسی زندگی کا لطف اٹھا سکیں جو وبا سے پہلے تھی۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے مزید کہا کہ ’افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے ایک علاقہ جہاں بہت کم تبدیلی ہوئی وہ ہماری درجہ بندی میں سب سے نیچے ہے۔

’دمشق وہ شہر ہے جو قابل رہائش ہونے کے اعتبار سے سب سے نچلے درجے پر ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ شام میں جاری خانہ جنگ کے اثرات مسلسل سامنے آ رہے ہیں۔

’حقیقت میں ماضی کے وہ 10 شہر جو قابل رہائش کے لحاظ سے کم ترین درجے پر تھے ان میں اکثر اس سال بھی نیچے کے 10 ویں درجے پر ہیں۔‘

ای آئی یو کے مطابق قابل رہائش ہونے کے اعتبار سے چوٹی کے 10 شہروں میں آکلینڈ، نیوزی لینڈ پہلے، اوساکا، جاپان دوسرے، ایڈیلیڈ، آسٹریلیا تیسرے، ویلنگٹن، نیوزی لینڈ چوتھے، ٹوکیو،جاپان پانچویں، پرتھ ،آسٹریلیا چھٹے، زیورخ، سوئٹزرلینڈ ساتویں، جنیوا، سوئٹزرلینڈ آٹھویں، میلبرن، آسٹریلیا نویں اور برسبین ،آسٹریلیا 10 ویں نمبر پر ہے۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا