ٹیکس اور ڈیوٹی میں کمی: کون کون سی گاڑیاں سستی ہوں گی؟

وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال کے دوران بعض گاڑیوں پر ٹیکس اور ڈیوٹی میں کمی کی تجویز پیش کی ہے، جس کی منظوری کی صورت میں پاکستان میں ان گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی واقع ہوگی۔  

21 فروری 2010 کی اس تصویر میں اسلام آباد کے ایک کار بازار میں  کھڑی گاڑیوں کا لوگ معائنہ کر رہے ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)

پاکستان تحریک انصاف کی وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال کے دوران بعض گاڑیوں پر ٹیکس اور ڈیوٹی میں کمی کی تجویز پیش کی ہے، جس کی منظوری کی صورت میں پاکستان میں ان گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی واقع ہوگی۔  

آئندہ مالی سال کے بجٹ کا منی بل جمعے (11 جون) کو وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے قومی اسمبلی میں پیش کیا، جس میں 850 سی سی اور اس سے کم کی گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی) ختم اور جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) 17 سے کم کر کے 12.5 فیصد کرنے کی تجویز رکھی گئی ہے۔

پاکستان میں گاڑیوں کی خریدو فروخت کے سب سے بڑے آن لائن بازار پاک وہیلز کے سربراہ سنیل منج نے گاڑیوں پر ٹیکسز اور ڈیوٹیز میں کمی کی تجویز کو غیر متوقع اور احسن قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے آٹو موبیل کی صنعت کو فروغ ملے گا۔

واضح رہے کہ مجوزہ ایف ای ڈی کا خاتمہ اور جی ایس ٹی میں کمی صرف پاکستان میں تیار ہونے والی گاڑیوں پر لاگو ہوں گے، جبکہ غیر ملکی موٹر کاروں (کمپلیٹ بلٹ اپ یونٹ یا سی بی یو) کی درآمد پر صرف ود ہولڈنگ ٹیکس (ڈبلیو ایچ ٹی) ختم کرنے کی تجویز بجٹ میں رکھی گئی ہے۔

آئندہ مالی سال کے منی بل میں پیش کی جانے والی مذکورہ تجاویز کی قومی اسمبلی سے منظوری کی صورت میں 850 سی سی تک پاکستان میں بننے اور در آمد ہونے والی گاڑیوں کی قیمتیں اس سال یکم جولائی سے کم ہوں گی اور 30 جون 2022 تک برقرار رہیں گی۔

کون کون سی گاڑی سستی ہوگی؟

پاکستان میں 850 سی سی کی تین گاڑیاں تیار ہوتی ہیں اور ٹیکسوں اور ڈیوٹیوں میں مجوزہ بڑی کٹوتیوں سے مندرجہ ذیل گاڑیوں کی قیمتوں میں ہی کمی واقع ہوگی۔

1۔ آلٹو (Alto)

 پاکستان میں چھوٹی گاڑیوں کی کیٹیگری میں جاپانی کمپنی سوزوکی کی تیار کردہ آلٹو موٹر کار سب سے زیادہ معروف ہے، جو 660 سی سی طاقت کے انجن کے ساتھ آتی ہے۔

2۔ پرنس (Prince)

 موٹر سائیکل بنانے والی پاکستانی کمپنی روڈ پرنس نے چینی کمپنی کے اشتراک سے 800 سی سی کی پرنس پرل نامی گاڑی حال ہی میں پاکستان میں متعارف کرائی ہے۔

3۔ براوو (Bravo)

گاڑیاں بنانے والی پاکستانی کمپنی یونائیٹڈ کی تیار کردہ براوو 796 سی سی گاڑی ہے۔

یہ تینوں گاڑیاں مکمل طور پر پاکستان میں تیار ہوتی ہیں اور بجٹ تجاویز کے مطابق ان پر ایف ای ڈی بالکل ختم جبکہ سیلز ٹیکس 12.5 فیصد ہو جائے گا۔

بیرون ملک سے برآمد ہونے والی 850 سی سی تک کی گاڑیوں میں جاپان  سے آنے والی چھوٹی گاڑیاں شامل ہیں، جنہیں پاکستان میں جاپانی آلٹو کے نام سے جانا جاتا ہے اور یہ تمام گاڑیاں 660 سی سی ہیں۔

ایسی امپورٹڈ گاڑیوں پر ودہولڈنگ ٹیکس ختم کر دیا گیا ہے۔

قیمتوں میں کتنی کمی؟

وفاقی وزیر شوکت ترین نے پاکستان میں تیار ہونے والی گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی بالکل ختم کرنے اور جنرل سیلز ٹیکس 4.5 فیصد کم کرنے کی تجاویز دی ہیں۔

واضح رہے کہ ملکی کارخانوں میں تیار ہونے والی ہر گاڑی کے پیداواری خرچ پر 2.5 فیصد ایف ای ڈی عائد کی جاتی ہے، جو قومی اسمبلی سے منظوری کی صورت میں ختم ہو جائے گی۔

دونوں تجاویز کی منظوری کی صورت میں پاکستان میں تیار ہونے والی 850 سی سی اور اس سے کم طاقت کی گاڑیوں کی قیمتوں میں سات فیصد کمی کے امکانات روشن ہیں۔  

سوزوکی آلٹو کی قیمت اس وقت 12 سے 16 لاکھ روپے کے درمیان ہے اور بجٹ تجاویز کی منظوری کی صورت میں آلٹو کی قیمت میں 84 ہزار سے ایک لاکھ 32 ہزار روپے تک کی کمی واقع ہونے کا امکان ہے۔

اسی طرح پرنس کی اوسط قیمت 11 لاکھ 49 ہزار ہے، جو سات فیصد کمی کے بعد تقریباً 80 ہزار کم ہو گی۔

یونائیٹڈ کمپنی کی تیار کردہ براوو کی پاکستان میں قیمت تقریباً 11 لاکھ روپے ہے، جس میں تقریباً 80 ہزار روپے کمی کا امکان ہے۔

درآمد شدہ چھوٹی گاڑیوں پر چھ فیصد ودہولڈنگ ٹیکس کی چھوٹ کی تجویز ہے، جو عبدالمجید کے مطابق چھوٹی امپورٹڈ گاڑیوں کی قیمتوں میں کوئی زیادہ فرق نہیں ڈالے گا۔

ان کے خیال میں ’اکثر امپورٹرز یہ کہہ کر پرانی قیمت چارج کریں گے کہ ان کے پاس پرانا سٹاک پڑا ہے۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ ’اس وقت پاکستان میں امپورٹڈ گاڑیاں بہت بڑی تعداد میں شو رومز میں موجود ہیں، جنہیں مالکان پرانی قیمتوں پر ہی بیچیں گے۔‘

گاڑیوں کی فروخت میں اضافہ

آٹو موبیل کے شعبے سے تعلق رکھنے والے ماہرین کے خیال میں ٹیکسز اور ڈیوٹیوں میں کمی کے باعث گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی واقع ہو گی، جو اس سیکٹر کے لیے مزید تقویت کا باعث بنے گی۔

گذشتہ 30 سال سے گاڑیاں بنانے کی صنعت سے منسلک عبدالمجید کا کہنا تھا: ’کووڈ کی وجہ سے ہماری انڈسٹری نے جن مسائل کا سامنا کیا شاید اب ان کا ازالہ ہو جائے گا۔‘

انہوں نے کہا کہ قیمتوں کی کمی سے گاڑیوں کی خرید و فروخت بڑھے گی اور کارخانہ داروں کو اپنی پیداوار میں بھی اضافہ کرنا پڑے گا۔ ’اور یہ اس صنعت کے لیے بہت ہی اچھے اشارے ہیں۔‘

کرونا (کورونا) وائرس کی وبا اور لاک ڈاؤنز کے باعث 2019 اور 2020 کے دوران دنیا بھر میں ہر قسم کے کاروبار متاثر ہوئے اور اس صورت حال نے پاکستان کی معاشی و کاروباری سرگرمیوں کو متاثر کیا ہے۔

ان غیر معمولی حالات میں پاکستان میں گاڑیاں تیار کرنے والے کارخانے بھی متاثر ہوئے اور کاروں کی پیداوار اور فروخت کم رہی۔ 

تاہم سال رواں کے شروع ہوتے ہی اس شعبے میں بھی ہل چل دیکھنے کو ملی، جس کے باعث گاڑیوں کی پیداوار اور خرید و فروخت میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جو ایک ہزار سی سی سے کم طاقت کی موٹر کاروں کی صورت میں زیادہ رہا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پاکستان میں گاڑیاں تیار کرنے والی کمپنیوں کی نمائندہ تنظیم پاکستان آٹو موٹیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پی اے ایم اے) کی ویب سائٹ پر موجود اعداد و شمار کے مطابق جولائی 2020 سے مئی 2021 کے دوران ملک میں 1300 سی سی، 1000 سی سی اور ایک ہزار سی سی سے کم طاقت کی مجموعی طور پر ایک لاکھ 33 ہزار کاریں تیار (مینوفیکچر) کی گئیں، جبکہ اس عرصے میں ان ہی کیٹیگریز کی تقریباً ایک لاکھ 40 ہزار گاڑیاں فروخت ہوئیں۔ 

اس کے برعکس جولائی 2020 سے مئی 2021 کے دوران 1300 سی سی تک طاقت کی ہر قسم کی گاڑیوں کی مجموعی پیداوار ایک لاکھ یونٹس سے کم رہی تھی۔

دوسری طرٖف ایک ہزار سی سی اور اس سے کم طاقت کی گاڑیوں کی اسی عرصے کے دوران مجموعی پیداوار  40 ہزار یونٹس سے کچھ زیادہ رہی، جبکہ ساڑھے 44 ہزار یونٹس فروخت ہو چکے ہیں اور یہ تعداد گذشتہ پورے مالی سال کے مقابلے میں تقریباً آٹھ ہزار یونٹس زیادہ ہے۔

آٹو موبیل کے شعبے سے تعلق رکھنے والے بعض سٹیک ہولڈرز کے مطابق 2021 کے شروع ہوتے ہی بیرون ملک سے منگوائی جانے والی گاڑیوں کی درآمد کے اعداد و شمار میں بڑوھتی دیکھنے میں آئی ہے۔

آئندہ سال کے وفاقی بجٹ میں چار پہیوں والی الیکٹرک گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی) بھی ختم کر نے کی تجویز پیش کی گئی ہے، تاہم یہ چھوٹ صرف پاکستان میں تیار ہونے والی الیکٹرک گاڑیوں کو حاصل ہو گی۔

اس وقت پاکستان میں کوئی الیکٹرک گاڑی تیار نہیں ہوتی اور یہاں پائی جانے والی ایسی کاریں بیرون ملک سے درآمد شدہ ہیں، اس لیے الیکٹرک گاڑیوں پر ایف کی ڈی کی چھوٹ کے قابل عمل ہونے کے لیے انتظار کرنا پڑے گا۔

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت