پاکستان کی سب سے بڑی اسمبلی عمارت کا افتتاح

صوبہ پنجاب کی اسمبلی کو اپنی طرز کا منفرد ایوان قرار دیا جا رہا ہے اور سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی کے مطابق اس میں 500 اراکین جبکہ 800 مہمانوں کے بیٹھنے کی گنجائش ہے۔

پاکستان کے صوبہ پنجاب کی اسمبلی کو اپنی طرز کا منفرد ایوان قرار دیا جا رہا ہے جہاں حکومت آج یعنی پیر کے روز اپنا تیسرا بجٹ پیش کرکے اس ایوان کا افتتاح کرے گی۔

نئی عمارت کی تعمیر مال روڈ چیئرنگ کراس کے ساتھ پنجاب اسمبلی کی پرانی عمارت کے عقب میں کی گئی ہے۔ اس منصوبے کا سنگ بنیاد جنوری 2006 میں اس وقت کے وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی نے رکھا تھا جبکہ اس کی تعمیر کے باقاعدہ آغاز کی منظوری 2005 میں ہوئی تھی۔

اس منصوبے پر ابتدائی لاگت کا تخمینہ 80 کروڑ روپے لگایا گیا تھا۔ اس پر دو سالوں میں 80 فیصد کام مکمل ہوگیا تھا مگر جب 2008 میں مسلم لیگ ق کو عام انتخابات میں نہ صرف پنجاب بلکہ وفاق میں بھی شکست ہوئی تو پنجاب میں مسلم لیگ ن کی حکومت قائم ہوئی۔

حکومت تبدیل ہوتے ہی اس منصوبے پر کام بند ہوگیا اور 10 سال تک ن لیگ کے دونوں صوبائی ادوار میں بند ہی رہا۔ جب صوبے اور وفاق میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے 2018 کے عام انتخابات میں کامیابی حاصل کی تو پنجاب میں چوہدری پرویز الٰہی کو سپیکر پنجاب اسمبلی منتخب کیا گیا۔

انہوں نے عہدہ سنبھالتے ہی ایوان میں ارکان کے لیے جگہ کی قلت کے پیش نظر وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو اس منصوبے پر دوبارہ کام شروع کرنے کی سفارش کی جو منظور ہوگئی اور کام شروع ہوگیا۔

اسمبلی کی عمارت کتنے میں بنی، متضاد اعداد و شمار

اسمبلی کی عمارت پر کتنا خرچ آیا، اس بارے میں مختلف اور متضاد اعداد و شمار سامنے آ رہے ہیں۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق اس منصوبے کی لاگت کا ابتدائی تخمینہ 80 کروڑ تھا، لیکن دس سال قبل جب اس پر کام رکا تو اس وقت تک اس پر ایک ارب 77 کروڑ روپے خرچ ہو چکے تھے۔ دستاویزات کے مطابق منصوبے کی تکمیل کے بعد اس پر کل خرچ دو ارب 57 کروڑ روپے آیا ہے۔

تاہم پنجاب اسمبلی کے سپیکر چوہدری پرویز الٰہی کے مطابق اسمبلی کی عمارت پر پانچ ارب 39 کروڑ روپے صرف ہوئے ہیں۔ دوسری جانب منصوبے کی تکمیل کی جو مدت 18 ماہ مقرر کی گئی تھی، وہ پھیل کر سات برسوں پر محیط ہو گئی۔

’ایشیا کا سب سے بڑا ایوان‘

1934 میں 150 اراکین اسمبلی کے لیے قائم کی جانے والی پنجاب اسمبلی کی پرانی عمارت میں ارکان کے لیے جگہ کم پڑ گئی تھی، جس کے بعد اس وقت کی حکومت نے نئی عمارت کی تعمیر کا فیصلہ کیا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

حکومت کا موقف تھا کہ متعدد بار حلقہ بندیوں اور آبادی بڑھنے پر حلقوں اور مخصوص نشستوں میں اضافہ کیا گیا جس کی وجہ سے اراکین پنجاب اسمبلی کی تعداد مسلسل بڑھتی رہی جو گذشتہ کئی سالوں سے 372 تک پہنچ چکی ہے۔

سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی کا دعوی ہے کہ پنجاب اسمبلی کا نیا ایوان ایشیا کا سب سے بڑا ایوان ہے کیونکہ اس میں 500 اراکین جبکہ 800 مہمانوں کے بیٹھنے کی گنجائش ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس ایوان کو جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ کیا گیا ہے۔ بقول پرویز الٰہی: ’اگر شہباز شریف اس منصوبے کو بند نہ کرتے تو عوام کے کروڑوں روپے کم خرچ ہوتے۔ جس ایوان میں ملک کے سب سے زیادہ عوام کے لیے قانون سازی ہوتی ہے وہاں ممبران کے بیٹھنے کی جگہ ہی نہیں تھی، لہذا اس پر کئی گنا زیادہ لاگت کے ذمہ دار سابق وزیراعلیٰ شہباز شریف ہیں۔‘

عمارت کے افتتاح پر سابق وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کی تختی لگائی جارہی ہے، جس پر سنگ بنیاد کی تاریخ یعنی 27 جنوری 2006 درج کی گئی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا