پنجاب اسمبلی میں ’فارورڈ بلاک‘، عثمان بزدار کے لیے نئی مشکل؟

پی ٹی آئی کے 20 سے 25 ناراض ارکان پنجاب اسمبلی کے گروپ ’سپرمیسی آف پارلیمنٹرینز‘ کا سینیٹ انتخابات اور وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی صورت میں اہم کردار ادا کرنے کا عندیہ۔

پاکستان تحریک انصاف کے خلاف اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پی ڈی ایم کی تحریک اپنی جگہ لیکن پنجاب میں حکمران جماعت پی ٹی آئی کے اپنے 25  سے30 ناراض ایم پی ایز اس کے لیے مشکلات کا باعث بن سکتے ہیں۔

پی ٹی آئی کے ناراض ارکان صوبائی اسمبلی کا گروپ ’سپرمیسی آف پارلیمنٹرینز‘ مارچ میں متوقع سینیٹ انتخابات اور اپوزیشن کی جانب سے وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی صورت میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتے ہیں، تاہم بعض پی ٹی آئی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ان کی ناراض ساتھیوں سے بات چیت جاری ہے اور وہ انہیں منا لیں گے۔

ادھر اپوزیشن جماعتوں نے دعویٰ کیا ہے کہ فاروورڈ بلاک میں شامل حکومتی اراکین اسمبلی مایوس ہوچکے ہیں اور کئی حکومتی ممبران وزیر اعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر حمایت کی یقین دہانی کرا رہے ہیں، وہ انہیں سینیٹ انتخابات میں بھی ووٹ دینے کو تیار نہیں۔ صوبے میں پی ٹی آئی کی اتحادی جماعت پاکستان مسلم لیگ ق کے رہنما بھی حکومت سے زیادہ خوش نہیں۔ سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہی اسمبلی میں کہہ چکے ہیں کہ جتنی لوٹ مار اور چوری اور ڈکیتیاں صوبے میں ان دنوں ہو رہی ہیں پہلے کبھی نہیں دیکھیں۔

پی ٹی آئی کے فاروورڈ بلاک ’سپرمیسی آف پارلیمنٹرینز‘ کے رہنما اور جنوبی پنجاب سے ایم پی اے خواجہ داؤد سلمانی کا دعویٰ ہے کہ وزیر اعلیٰ سے نالاں 25 سے 30 اراکین اسمبلی جنوبی پنجاب سے ان کے ساتھ ہیں۔ ’ہمارے حلقوں میں فنڈز دینے کا وعدہ تو کیا پورا کرنا تھا امن وامان اور بنیادی سہولیات سے بھی محروم رکھا گیا ہے، اڑھائی سال تک ہمیں صرف تسلیاں دی جاتی رہیں۔ صوبے بھر کی صورتحال بگڑ چکی ہے لیکن جنوبی پنجاب کے نام پر ووٹ لے کر نظر انداز کردیا گیا۔‘

انہوں نے بتایا کہ گروپ کا چیئرمین ایم پی اے شہاب الدین سیہڑ کو بنایا گیا ہے جبکہ باقی ارکان میں ملک غضنفر چھینہ، علی رضاخان، اعجاز سلطان، تیمور علی لالی بلال، اصغر وڑائچ، اعجاز خان، عامر عنایت، سردار محی الدین کھوسہ، گلریزافضل چن، علی اصغر خان، فیصل فاروق، احسن جہانگیر، غضنفر علی قریشی و دیگر شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ بعض دوستوں کو دباؤ سےبچانے کے لیے ان کے نام ظاہر نہیں کر رہے۔ ان کے بقول ان کا آئندہ چند روز میں اجلاس ہوگا جس میں صوبائی اسمبلی سے استعفے، سینیٹ انتخابات میں اپنا علیحدہ امیدوار لانے اور وزیر اعلیٰ کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک آنے کی صورت میں ان کے خلاف کردار ادا کرنے کے آپشنز زیر غور لائیں گے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس اعلان کے بعد ناراض گروپ کے دیگر ارکان اسمبلی کے موجودہ سیشن سے بھی غائب رہے۔انڈپینڈنٹ اردو نے شہاب الدین سیہڑ اور متعدد اراکین سے رابطے کی کوشش کی لیکن ان سے بات نہ ہوسکی۔

راولپنڈی سے پی ٹی آئی کے رکن پنجاب اسمبلی حاجی امجد کی جانب سے مبینہ طور پر 60 کنال سرکاری اراضی پر قبضہ کر کے فروخت کرنے کے معاملے پر اینٹی کرپشن میں مقدمہ درج ہونے کے بعد وہ بھی اپنے پانچ ساتھیوں سمیت حکومت سے ناراض ہیں اور مقدمہ ختم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

اس بارے میں صوبائی وزیر ہائر ایجوکیشن راجہ یاسر ہمایوں سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ وہ راولپنڈی والے گروپ کا معاملہ تو حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن انہیں ’سپرمیسی آف پارلیمنٹرینز‘ گروپ کے مسائل کے بارے میں معلوم نہیں، ان سے وزیر اعلیٰ پنجاب خود بات کرسکتے ہیں۔ ’جہاں تک پنجاب میں وزیر اعلیٰ کی تبدیلی کا سوال ہے تو وہ کوئی اکیلا نہیں بن سکتا، ووٹ درکار ہوتے ہیں اور اکثریت ہمارے پاس ہے۔‘

مسلم لیگ ن کے رہنما مجتبی شجاع الرحمٰن نے کہا کہ جس طرح صوبے کے دیگر لوگ تنگ ہیں ایسے ہی حکومتی اراکین بھی اب مایوس ہوچکے ہیں اور ’ہم سے رابطہ میں ہیں کہ عثمان بزدار کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائیں۔ ہم پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم پر کوشش کر رہے ہیں کہ وفاق سے پہلے پنجاب میں عدم اعتماد لانے کا فیصلہ کیا جائے، یہاں حکمت عملی بنا کر وزیراعلیٰ کو تبدیل کریں گے۔‘

ن لیگی رکن اسمبلی عنیزہ فاطمہ نے بھی بزدار حکومت کے خلاف اراکین اسمبلی کے اتحاد کا دعویٰ کیا اور ان ہاؤس تبدیلی کو ناگزیر قرار دیا۔ پیپلز پارٹی کے پالیمانی لیڈر حسن مرتضی کے مطابق حکومتی اراکین اسمبلی وزیر اعلیٰ سے خوش نہیں، ان کی حکومت ہے کہاں؟ ان ہاؤس تبدیلی اور سینیٹ میں پی ٹی آئی اراکین اپنے امیدواروں کو ووٹ دینے کو تیار نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست