عثمان بزدار اتنے ناگزیر کیوں؟

عثمان بزدار کی طاقت کیا ہے؟ کیا وہ بہت ہی مقبول رہنما ہیں۔ پورا پنجاب نہ سہی، جنوبی پنجاب کے دلوں کی وہ دھڑکن ہیں؟

عمران خان بارہا عثمان بزدار پر اعتماد کا اظہار کر چکے ہیں (عمران خان انسٹا گرام)

عثمان بزدار اتنے نا گزیر کیوں ہیں؟ اس سوال کی برکت سے تخیل میں چراغاں ہو جاتا ہے۔

تنقید کا ایک سونامی ہے اور سیلابِ گریہ میں طغیانی کا عالم ہے مگر جناب بزدار مزے سے دہی کے ساتھ کلچہ کھا رہے ہیں۔ اس عالم اسباب میں وہ ایک حیرت کدہ ہیں جس کی دہلیز پر خود عمران خان کھڑے ناقدین کو میر کا مصرع سنا رہے ہیں کہ

صبر کرو، بے تاب رہو، خاموش پھرو یا شور کرو

وزیر اعلیٰ تو عثمان بزدارہی رہیں گے۔ سوال وہی ہے کہ جناب بزدار اتنے ناگزیر کیوں؟ 

یہ تحریر خود کالم نگار کی زبانی سنیے 

 

عثمان بزدار کی طاقت کیا ہے؟ کیا وہ بہت ہی مقبول رہنما ہیں۔ پورا پنجاب نہ سہی، جنوبی پنجاب کے دلوں کی وہ دھڑکن ہیں؟ ایک ایسا بانکا رہنما جسے اقتدار سے الگ کرنے کی صورت میں خطرہ ہو کہ تحریک انصاف کا سرائیکی وسیب سے صفایا ہو جائے؟ اس سوال کا جواب اثبات میں دینا ایک ایسی جسارت ہے جس کا تخیل ہی آدمی کو گدگدا دے۔

 کیا لازم ٹھہرا ہے کہ ملک کا سب سے بڑا صوبہ ان کی فہم و دانش سے فیض یاب ہو؟ ان کو اقتدار سے الگ کرنے کی صورت میں خطرہ ہو کہ پنجاب جیسا صوبہ ایک بالغ نظر اور صاحب بصیرت کے فکری کمالات سے فیض یاب نہ ہو پائے اور یوں نشان عبرت بن جائے؟ جواب کا مرحلہ شوق تو بہت بعد میں آتا ہے، یہ سوال ہی اتنا توبہ شکن ہے کہ سن کر آدمی کو انگڑائی آ جائے۔

کہیں وہ موروثی سیاست کا ایک روایتی چہرہ تو نہیں جنہیں ہم ’الیکٹیبلز‘ کہتے ہیں؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ گجرات کے چوہدریوں کی طرح ان کی رشتہ داریوں کا بھی ایک وسیع سلسلہ جنوبی پنجاب میں پھیلا ہوا ہو اور اس بات کا خطرہ ہو کہ انہیں اقتدار سے ہٹانے کی کوشش کی گئی تو ان کے ڈیڑھ درجن رشتہ دار اراکینِ پارلیمان تحریک انصاف سے خفا ہو جائیں گے؟ سامنے کی حقیقت یہ ہے کہ ایسا بھی کچھ نہیں ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

توکیا یہ پنجاب میں ان کی کامیاب ترین طرز حکومت کا اعجاز ہے کہ ہر چھ ماہ بعد عمران خان لاہور جا کر منادی کرتے ہیں کہ عثمان بزدار میری متاع دل پذیر ہیں اور جب تک میں ہوں، وزیر اعلیٰ یہی رہیں گے؟ اس سوال کا جواب ظاہر ہے کہ نفی میں ہے۔ سوشل میڈیا پر کسی کے حق میں مہم برپا کر دینا اور بات ہے اور زمین کے سینے میں گڑے حقائق بالکل الگ معاملہ ہیں۔ ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ کا طلسم کدہ کتنا ہی سندر کیوں نہ ہو، زمینی حقائق ہر گز خوشگوار نہیں ہیں۔ خلق خدا کی رائے تو یہاں برائے وزن بیت ہی ہوتی ہے اس کے تردد کو تو چھوڑ ہی دیجیے، وقت ملے تو ذراشیخ رشید اور فواد چوہدری جیسے وفاقی وزرا سے ہی پوچھ دیکھیے کہ پنجاب میں حکمرانی کا معیار کیا ہے۔

ہمارے ہاں کسی کو حکومت میں لانے اور تخت نشیں رکھنے میں جن عوامل کو بنیادی اہمیت کا حامل سمجھا جاتا ہے ان میں سے ایک کا نام امریکہ ہے۔ تو کیا امریکہ عثمان بزدار کی پشت پر ہے؟ کیا وہ ڈونلڈ ٹرمپ کے خاص آدمی ہیں جن کے ذریعے امریکہ تخت لاہور میں اپنے مفادات کا تحفظ کر رہا ہے؟ بزدار صاحب جیسے بھولے آدمی پر ایسا الزام لگانا پرلے درجے کی بد ذوقی ہو گی۔ انہوں نے تو زندگی میں شاید امریکی سفارت خانہ بھی نہ دیکھا ہو۔ ان کے گھر میں بجلی بھی نہیں تھی، اس لیے فون چارج کرنا بھی ممکن نہیں تھا۔ یعنی اس بات کا امکان بھی کم ہے کہ وہ امریکہ سے آن لائن رابطے میں رہتے ہوں۔

تو کیا وہ مقتدر قوتوں کے چہیتے ہیں؟ اور ان کی شکل میں ایک مسیحا تیار کیا جا رہا ہے جو وفاق کی حکومت سنبھالنے سے قبل پنجاب میں ’نیٹ پریکٹس‘ کے عمل سے گزارا جا رہا ہے تا کہ گوہر نایاب تجربے کی بھٹی سے نکل کر کندن بج جائے؟ دستیاب اطلاعات کے مطابق اس سوال کا جواب بھی نفی میں ہے۔

کہیں ایسا تو نہیں کہ عثمان صاحب تحریک انصاف کے بانی رہنماؤں میں سے ایک ہوں اور ان کی عزیمت کے اعتراف میں انہیں یہ منصب عطا کیا گیا ہو۔ یا وہ پارٹی کے دیرینہ کارکن رہے ہوں اور ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں وزیر اعلیٰ بنایا گیا ہو کہ دیکھیے تحریک انصاف اپنے کارکنان کو کیسے عزت دیتی ہے؟

سچ یہ ہے کہ ایسا بھی کچھ نہیں۔ اسلام آباد کا دھرنا تحریک انصاف کے تحرک کا نقطۂ عروج تھا۔ اس میں کہیں بھی عثمان بزدار صاحب کا نام سامنے نہیں آیا۔ قومی سیاست ہو یا صوبائی عثمان بزدار کہیں نہیں تھے۔ کسی ایک ٹاک شو میں انہیں نہیں دیکھا گیا۔ کسی ایک پریس کانفرنس میں وہ جلوہ افروز نہیں ہوئے۔ تحریک انصاف کی کسی انتظامی درجے کی کمیٹی کا وہ کبھی حصہ نہیں رہے۔

ہم جانتے ہیں کہ 2001 میں وہ مسلم لیگ ق کا حصہ تھے اور اسی جماعت نے انہیں تحصیل ناظم بنایا۔ ق لیگ کا عروج ختم ہوا تو بزدار صاحب مسلم لیگ ن میں چلے گئے۔ 2013 کے الیکشن میں وہ پی پی 241 ڈیرہ غازی خان سے مسلم لیگ ن کے امیدوار تھے۔ ن لیگ پر زوال آیا تو یہ جنوبی پنجاب صوبہ محاذ میں شامل ہو گئے۔ مئی 2018 میں انتخابات سے صرف دو ماہ پہلے، جب یہ محاذ پی ٹی آئی میں شامل ہوا تو بزدار صاحب بھی تحریک انصاف کا حصہ بن گئے اور پھر تحریک انصاف نے انہیں وزارت اعلیٰ سونپ دی۔

تو کیا انہیں اس لیے نہیں ہٹایا جا رہا کہ خطرہ ہے پھر وزارت اعلیٰ کے اتنے امیدوار سامنے آ جائیں گے کہ ایوان پانی پت کا میدان بن جائے گا اور بات سنبھالے نہیں سنبھلے گی؟ ظاہر ہے کہ یہ خطرہ بھی موہوم ہے۔ عمران خان کی طرف سے ایک تنکا توڑے بغیر بھی اگر پارلیمان میں ہر مشکل مرحلے میں حکمران جماعت کو اللہ کے فضل و کرم سے مطلونہ تائید مل جایا کرتی ہے تو پنجاب اسمبلی میں بھی کسی چیلنج کا کوئی امکان نہیں ہے بالخصوص جب مسلم لیگ ن کا فارورڈ بلاک بھی دستیاب ہو۔

عثمان بزدار کا انتخاب اور پھر اس انتخاب پر عمران خان کا اصرار، عالم اسباب کا اتنا غیر معمولی واقعہ ہے کہ اس کی کوئی توجیح پیش کرنا ممکن نہیں۔ اس کا تعبیر شاید عالم اسباب میں ممکن نہیں اور اس کا تعلق ہو سکتا ہے روحانیت سے ہو۔ شاید کچھ رجال الغیب ہیں جو عثمان بزدار صاحب کے دست و بازو ہیں اور ہر طوفان سے انہیں نکال لے جاتے ہیں۔

یہ بھی ہو سکتا ہے وہ خود رجال الغیب میں سے ہی ہوں لیکن کسی کو خبر نہ ہو، نہ وہ خود بتانا پسند کرتے ہوں۔ شاید ملامتی طبقے سے تعلق رکھتے ہوں۔ یہ گتھی سلجھانا اب میرے جیسے عامی کے بس کی بات نہیں، روحانیت جن کالم نگار دوستوں کا میدان ہے وہی کچھ رہنمائی فرمائیں تو فرمائیں۔ میر صاحب نے کہا تھا:

دل عجب نسخہ تصوف ہے
ہم نہ سمجھے بڑا تاسف ہے

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ