جب مدثر نارو کے بیٹے کو پولیس نے کمرہ عدالت سے جانے کا کہا

سچل نے کورٹ روم میں دادی سے پوچھا کہ وہ یہاں کیا کرنے آئے ہیں تو انہوں نے عدالتی احترام ملحوظ رکھتے ہوئے پوتے کو چپ کرا دیا۔ اسی اثنا میں پولیس اہلکار نے انہیں گرمی میں کمرہ عدالت سے باہر انتظار کرنے کا کہہ دیا۔

مدثر نارو کی والدہ اور بیٹا کمرہ عدالت کے باہر بیٹھے ہیں۔ (تصویر : اویس یوسفزئی)

تین سال سے لاپتہ صحافی مدثر نارو کی بازیابی کے حوالے سے کیس جمعرات کے روز اسلام آباد ہائی کورٹ میں جسٹس عامر فاروق کی عدالت میں ہوا۔

آج کی سماعت میں لا پتہ صحافی مدثر نارو کے تین سالہ بیٹے سچل اپنی دادی کے ساتھ عدالت میں پیش ہوئے۔

سچل نے کورٹ روم میں دادی سے پوچھا کہ وہ یہاں کیا کرنے آئے ہیں تو انہوں نے عدالتی احترام ملحوظ رکھتے ہوئے پوتے کو چپ کرا دیا۔ اسی اثنا میں پولیس اہلکار نے انہیں گرمی میں کمرہ عدالت سے باہر انتظار کرنے کا کہہ دیا۔

پولیس اہلکار نے کہا کہ ’آپ باہر چلے جائیں، جب کیس کال ہو تو تب آ جائیں۔‘

مدثر نارو کا کیس عدالتی فہرست میں آخری نمبر پہ لگا ہوا تھا۔ اس دوران آدھا گھنٹہ دادی اور پوتے نے باہر بیٹھ کر انتظار کیا اور کیس شروع ہونے پہ انہیں کمرہ عدالت کے اندر بلایا گیا۔

مدثر نارو کی اہلیہ کی وفات کے بعد یہ پہلی سماعت تھی۔ باہر انتظار کرتی مدثر نارو کی والدہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’مدثر کے سلسلے میں نامعلوم افراد نے ہم سے ابتدا میں رابطہ کر کے مدثر سے متعلق دستاویزات اور کریکٹر سرٹفیکیٹ لیا۔‘

انہوں نے مدثر کی والدہ کو بتایا کہ ’آپ کے بیٹے کے بارے میں جہاں سے بھی چیک کیا سب نے یہی کہا کہ یہ لڑکا تو بہت اچھا ہے کسی نے کوئی شکایت نہیں کی۔‘ یہ کہہ کر وہ چلے گئے اور پھر کوئی رابطہ نہیں کیا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ’صدف ( مدثر کی اہلیہ) کی وفات کے روز انہیں ایک ٹیلی فون کال موصول ہوئی تھی جس میں ایک شخص کہہ رہا تھا کہ پیچھے سے ہمیں آرڈر آیا ہے کہ جلدی سے مدثر کو ڈھونڈیں لہذا اس کی شناختی کارڈ کی کاپی بھیجیں۔ لیکن اس کے بعد تاحال رابطہ نہیں کیا گیا۔‘

مدثر نارو کی والدہ نے بتایا کہ ’یہ بچہ عدالت میں مجھ سے سوال پوچھ رہا تھا کہ دادو ہم یہاں کیا کرنے آئے ہیں؟ اب میں اس بچے کو کیا بتاؤں کہ ہم یہاں کیوں آئے ہیں؟‘

’اگر اس کا باپ مجرم ہے تو یہ باپ سے نفرت کرے گا اگر باپ مجرم نہیں ہے تو یہ ملک سے نفرت کرے گا اور یہ میں نہیں چاہتی کہ یہ ملک سے نفرت کرے کیونکہ میں اس ملک سے پیار کرتی ہوں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’میری آواز جہاں تک پہنچ رہی ہے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، وزیراعظم عمران خان کے پاس، جو بھی مجھے سُن رہا ہے میری مدد کریں۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ ’صدف کی وفات سے قبل کوئی شخص اُن سے ملنے آیا تھا اس نے آ کر کہا تھا کہ آپ سوشل میڈیا پر متنازع مواد شئیر نہ کریں ورنہ آپ کے شوہر مشکل میں آ سکتے ہیں۔‘

مدثر کی والدہ نے کہا کہ وہ خود بھی بوڑھی خاتون ہیں اور بہو کی وفات کی بعد شدید پریشانی کا شکار ہیں کہ اگر انہیں کچھ ہو گیا تو سچل کا کیا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ’اعلی حکام سے یہ درخواست ہے کہ مدثر کو بازیاب کرائیں تاکہ بچے کا باپ آ جائے تو وہ اس کو خود سنبھالے اور میری فکر کم ہو۔‘

وکیل عثمان وڑائچ نے بعد از سماعت میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’آج اس کیس کی پانچویں سماعت تھی اور پہلی چار سماعتوں میں قابل ذکر کارروائی نہیں ہوئی نہ عدالتی احکامات پر عمل ہوا نہ اداروں کی جانب سے کوئی تسلی بخش جواب جمع کرائے گئے۔‘

عدالتی کارروائی میں کیا ہوا؟

لاپتہ صحافی مدثر نارو کے بازیابی کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے وزارت داخلہ و دفاع کے ذمہ دار افسران کو طلب کر لیا۔

عدالت نے کہا کہ ذمہ دار افسران 23 جون کو عدالت کی معاونت کے لیے پیش ہوں۔ عدالت نے جبری گمشدگیوں سے متعلق قائم کمیشن میں جاری کارروائی کی تفصیلی رپورٹ بھی طلب کر لی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

درخواست گزار کی جانب سے عثمان وڑائچ اور ایمان مزاری ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے تھے۔

وکیل عثمان وڑائچ نے عدالت کو بتایا ’وزارت دفاع نے کہا کہ لاپتہ شخص ان کے پاس نہیں ہے۔ وزارت داخلہ کیس میں دوسرا فریق ہے، کسی ادارے پر تو ذمہ داری عائد کی جائے۔‘

اس موقع پر جسٹس عمر فاروق نے ریمارکس دیے کہ ’لاپتہ صحافی کے بچے کے حقوق کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے۔‘ انہوں نے پوچھا کہ ’لاپتہ فرد کی فیملی میں کون کون ہے؟ قانونی ورثا کی فہرست عدالت میں جمع کرائیں۔‘

عدالت نے مزید کہا کہ ’بازیابی تک لاپتہ صحافی کے تین سالہ بچے سچل کی دیکھ بھال کے لیے اخراجات کا آرڈر کر دیتے ہیں۔‘

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت میں کیس سے متعلق ایک صفحے کی رپورٹ جمع کرائی تو عدالت برہم ہو گئی جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ یہ ون پیجر نہ دیں، تفصیلی رپورٹ جمع کرائیں۔ عدالت نے سماعت تئیس جون تک ملتوی کر دی۔

مدثر نارو کون ہیں؟

مدثر محمود نارو ایک صحافی، شاعر، ترقی پسند مصنف اور رضا کار ہیں جو 2018 سے لاپتہ افراد کی فہرست میں شامل ہیں۔

مدثر 2018 میں خیبر پختونخوا کے علاقے بالاکوٹ سے مبینہ طور پر لاپتہ ہوئے تھے، وہ اپنی اہلیہ صدف اور چھ ماہ کے بیٹے کے ہمراہ وہاں سیر و سیاحت کی غرض سے گئے تھے۔

گزشتہ ماہ مدثر نارو کی اہلیہ صدف کا دل کے دورے کے باعث انتقال ہو گیا جس کے بعد مدثر کی بازیابی کے لیے بلند ہونے والی آوازوں میں شدت آ گئی ہے۔

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان