کیا 55 برس کے تمام سرکاری اساتذہ کو ریٹائر کردیا جائے گا؟

پنجاب ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کی مبینہ تجویز پر تقریبا ایک لاکھ اساتذہ پریشان ہیں، جبکہ سیکریٹری ایجوکیشن اس تجویز کی تردید کرتے ہیں۔

پنجاب کے 50 ہزار سے زائد سرکاری سکولوں میں اس وقت 50 ہزار آسامیاں خالی پڑی ہیں ۔ فائل تصویر: روئٹرز

انیلا (فرضی نام) 56 برس کی ہیں اور گذشتہ 30 سالوں سے درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ ہیں۔

وہ لاہور کے ایک ایلیمینٹری سکول میں پڑھاتی ہیں۔ شوہر سے علیحدگی ہوچکی ہے اور اپنے تینوں بچوں کو اکیلے ہی پال رہی ہیں۔

انیلہ آج کل تذبذب کا شکار ہیں، انہیں معلوم ہوا ہے کہ محکمہ تعلیم پنجاب کوئی ایسی پالیسی لا رہا ہے جس کے تحت 55 برس کے تمام سرکاری اساتذہ کو ریٹائر کر دیا جائے گا۔

انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے انیلا کی آواز بھر آئی۔ کہنے لگیں: ’ایک استاد کی تنخواہ ہی کتنی ہوتی ہے، ساری زندگی یہ سوچ کر پڑھایا کہ ریٹائر ہونے پر جو پیسے ملیں گے، اس سے گھر بنائیں گے یا بچوں کی شادیوں پر خرچ کریں گے مگر اب سب کہہ رہے ہیں کہ ہماری عمر کے سکول ٹیچروں کو جلدی ریٹائر کردیا جائے گا۔ ہم کون سا سونے کا چمچ لے کر پیدا ہوئے ہیں، متوسط طبقے کے پاس صرف تنخواہ ہی تو ہوتی ہے، اسی میں خواہشات کو مار کے اپنی اور اپنے بچوں کی ضروریات پورا کرتے ہیں۔‘

’اگر اس جلدی ریٹائرمنٹ کی پالیسی میں حکومت ہمیں پورے واجبات دے تو ٹھیک ہے لیکن اگر گریجویٹی یا پروویڈنٹ فنڈ کاٹ لیا گیا تو30 سالوں کی محنت ضائع ہو جائے گی۔ اب اس عمر میں اور کیا کام کروں گی میں؟‘

پنجاب سکول ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ (ایس ای ڈی) نے چند روز قبل ایک تجویز دی کہ صوبے کے تمام سرکاری سکولوں میں پڑھانے والے 55 یا اس سے زائد عمر کے اساتذہ کو ریٹائر کردیا جائے۔ تاہم پنجاب یونین آف ٹیچرز اس حکومتی تجویز سے خاصی نالاں نظر آئی جبکہ اساتذہ برادری میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔

پنجاب ٹیچرز ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری رانا لیاقت نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا: ’یہ تجویز ڈیڑھ برس قبل گذشتہ حکومت نے بھی پیش کی تھی مگر اسے تحریری طور پر سامنے نہیں لایا گیا تھا۔ موجودہ حکومت اسے تحریری طور پر سامنے لا رہی ہے‘۔

رانا لیاقت نے بتایا کہ ان کی معلومات کے مطابق پنجاب کے 50 ہزار سے زائد سرکاری سکولوں میں اس وقت 50 ہزارآسامیاں خالی پڑی ہیں جبکہ یہاں پڑھانے والے ایک لاکھ اساتذہ کی عمر 55 برس یا اس سے زائد ہے جن میں سکول انتظامیہ کے لوگ، پرنسپل اور اساتذہ شامل ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا اگر یہ تجویز قانون کی شکل اختیار کرگئی تو یک دم صوبے میں ڈیڑھ لاکھ اساتذہ کی کمی کا سامنا کرنا پڑے گا اور حکومت اس وقت معاشی طور پر اس پوزیشن میں نہیں کہ ایک لاکھ اساتذہ کے اربوں روپے واجبات ادا کر سکے۔

لیاقت کے خیال میں حکومت کسی بھی استاد کو جبری ریٹائر نہیں کر سکتی کیونکہ اس حوالے سے قوانین موجود ہیں اور اساتذہ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا سکتے ہیں، البتہ حکومت کے اس اقدام سے نہ صرف تدریسی سرگرمیاں متاثر ہوں گی بلکہ حکومت کے خلاف نفرت کا جذبہ بھی پیدا ہوگا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت کی اس تجویز سے اساتذہ برادری ایک مسلسل ذہنی دباؤ اور بد دلی کا شکار ہے اور اپنے کام پر دھیان نہیں دے پا رہی۔

انڈپینڈنٹ اردو نے جب سیکریٹری ایجوکیشن کیپٹن (ر) محمد محمود سے رابطہ کیا تو انہوں نے تردید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی ایسی کوئی پالیسی نہیں اور یہ اساتذہ کی من گھڑت کہانی ہے۔

یونین آف ٹیچرز کے اعداد و شمار کے مطابق، پنجاب بھر کے سرکاری سکولوں میں 55 سال کی عمر کے جو اساتذہ پڑھا رہے ہیں ان کی تنخواہ 40 سے 50 ہزار روپے ماہانہ ہے اور اگر انہیں ابھی ریٹائر کیا جاتا ہے تو حکومت کو انہیں 15 سے 20 لاکھ روپے واجبات کی مد میں ادا کرنے ہوں گے۔

اسی طرح ایلیمینٹری سکول ٹیچر کی تنخواہ 50 سے 55 ہزار روپے، سیکنڈری سکول ٹیچر کی تنخواہ 60 سے 70 ہزار روپے جبکہ پرنسپلز کی تنخواہ ایک لاکھ روپے سے ایک لاکھ 20 یا ایک لاکھ 25 ہزار روپے ماہانہ ہے۔ انہیں ریٹائر کرنے کی صورت میں حکومت کو انہیں 35 سے 40 لاکھ روپے فی کس واجبات کی مد میں ادا کرنے ہوں گے، جو شاید اس وقت حکومت کے بس کی بات نہیں۔

انیلا اور ان کی ساتھی اساتذہ سکول کے سٹاف روم میں آج کل اسی حوالے سے زیادہ بات چیت کرتی ہیں اور سوچتی ہیں کہ جو پیسے ملیں گے ان سے وہ آخر کیا کریں گی؟

انیلا کہتی ہیں کہ ’موجودہ حکومت نے تو دس لاکھ نوکریوں کا وعدہ کیا تھا مگر ہمیں نہیں معلوم تھا کہ وہ نوکریاں پیدا کرنے کے لیے ہم ادھیڑ عمر اساتذہ کی قربانی دے گی‘۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان