ٹوکیو اولمپکس: ’ارشد ندیم فرام میاں چنوں ٹو ٹوکیو‘

ارشد ندیم نے ایک کرکٹ سٹار بننے کا خواب دیکھا تھا لیکن ایتھلیٹکس میں آنے کے بعد انہیں 33 سال بعد پاکستان کے لیے پہلی مرتبہ انفرادی سطح پر پہلا اولمپک میڈل جیتنے کا موقع ملا ہے۔

پاکستانی ایتھلیٹ ارشد ندیم ٹوکیو اولمپکس 2020 میں جیولن تھرو کے مقابلوں کے فائنل میں پہنچ گئے ہیں جس کے ساتھ ایک بار پھر سے تمام پاکستانیوں کی نظریں اولمپک میڈل پر لگ گئی ہیں۔

ارشد ندیم نے بدھ کو ٹوکیو اولمپکس میں جیولن تھرو کے فائنل میں پہنچنے کے لیے تین کوششیں کیں۔ 24 سالہ پاکستانی ایتھلیٹ پہلی کوشش میں 78.5 میٹر تک پہنچ سکے مگر دوسری کوشش میں انہوں نے 85.16 میٹر تک پہنچ کر سب کو حیران کر دیا اور اس گروپ بی میں اول نمبر پر فائز ہو گئے۔

مجموعی طور پر یہ اس مقابلے کا تیسرا بہترین تھرو تھی کیونکہ اس سے بھارت کے نیرج چوپڑا نے 86.65 جبکہ جرمنی کے جوہانس ویٹر نے 85.64 میٹر تھرو کی تھی۔

ٹوکیو اولمپکس میں اب جیولن تھرو کا فائنل مقابلہ سات اگست کو ہوگا۔

ارشد ندیم کے فائنل میں پہنچنے کے ساتھ ہی وہ پاکستانیوں کو ایک بار پھر سے امید ہو گئی ہے کہ ’اب کی بار میڈل ضرور آیے گا۔‘ یہی وجہ ہے کہ ارشد ندیم بدھ کی صبح سے ہی پاکستانی سوشل میڈیا پر چھائے ہوئے ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف کی رہنما عندلیب عباس نے ٹوئٹر پر ارشد ندیم کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’فرام میاں چنوں ٹو ٹوکیو۔۔۔ ارشد ندیم نے جیولن تھرو کے فائنل کے لیے کوالیفائی کر لیا ہے۔۔۔‘

صحافی اجمل جامی نے کہا: ’دن کے آغاز پر زبردست خبر۔۔ گڈ مارننگ پاکستان۔‘

اسی طرح پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر فیصل جاوید نے لکھا: ’ارشد ندیم مبارک ہو اولمپکس میں میڈل راؤنڈ کے لیے کوالیفائی کرنے کے لیے، ارشد کو جنوبی ایشیا کے بہترین جیولین تھرورز میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس کا ذاتی بہترین 86.38 کا تھرو- سیزن کے ٹاپ 10 تھرو میں شامل ہے۔ آپ کے لیے نیک تمنائیں۔‘

ارشد ندیم کا سفر

ارشد ندیم نے ایک کرکٹ سٹار بننے کا خواب دیکھا تھا لیکن ایتھلیٹکس میں آنے کے بعد انہیں 33 سال بعد پاکستان کے لیے پہلی مرتبہ انفرادی سطح پر پہلا اولمپک میڈل جیتنے کا موقع ملا ہے۔

ندیم نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو میں کہا: ’اب میرے لیے موقع ہے۔ اگر میں نے بہترین انداز میں تھرو پھینکی اور خدا نے چاہا تو میں تمغہ جیت لوں گا۔‘

دراز قد اور مضبوط جسم کے مالک 24 سالہ ارشد چھوٹی عمر میں ہی کرکٹ سے ایتھلیٹکس میں آ گئے تھے۔

پاکستان نے پہلی بار 1948 میں لندن میں ہونے والے اولمپکس مقابلوں میں حصہ لیا تھا۔ تب سے پاکستان ہاکی میں سونے اور چاندی کے تین، تین اور دوسرے مقابلوں میں کانسی کے دو تمغے جیت چکا ہے۔

کانسی کا ایک تمغہ 1960 میں پہلوان محمد بشیر نے جیتا تھا جبکہ دوسرا تمغہ 1988 میں باکسر حسین شاہ نے حاصل کیا۔ پاکستان نے انفرادی طور یہی تمغے حاصل کیے ہیں۔

ارشد ندیم نے اپریل میں ایران میں ہونے والے مقابلے میں انفرادی طور پر86.38 میٹر کے فاصلے پر نیزہ پھینکا تھا جہاں انہیں بڑے مقابلے میں حصہ لینے کے لیے بھیجا گیا تھا۔

لاہور میں تربیتی سیشن کے بعد انہوں نے بتایا تھا کہ ’میں نیزہ پھینکنے والے دوسرے ایتھلیٹس کو نہیں دیکھتا۔ میں ان پر توجہ نہیں دیتا۔ میری توجہ اپنے اوپر اور اس بات پر ہوتی ہے کہ میں نیزہ کس طرح پھینکتا ہوں۔ میں پوری کوشش کرتا ہوں اور اس طرح خدا مجھے عزت دیتا ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ندیم پہلے طلائی تمغہ جیت چکے ہیں۔ وہ گذشتہ سال نیپال میں ہونے والے جنوبی ایشیائی کھیلوں میں سب سے اوپر رہے تھے۔

انہوں نے 2018 میں ہونے والے دولت مشترکہ مقابلوں میں کانسی کا تمغہ حاصل کیا۔ اس موقعے پر بھارت کے نیرج چوپڑا نے سونے کا تمغہ جیتا تھا۔ کاشت کار کے بیٹے چوپڑا نے اس سال تیسرے طویل ترین فاصلے پر نیزہ پھینکا ہے۔

تاہم چھ فٹ دو انچ قد کے مالک ندیم کے لیے یہ راستہ آسان نہیں ہے۔ ان کا تعلق پنجاب کے ایک ایسے گاؤں سے ہے جہاں علاقے میں گندم اور کپاس کی فصلیں کاشت کی جاتی ہیں اور لڑکے لڑکیوں کو صبح سویرے کام پر لگا دیا جاتا ہے۔

ان حالات میں ندیم کے لیے اپنے پہلے پیار کرکٹ کے لیے وقت نہیں بچتا تھا جبکہ کھیل کے لیے سہولتیں اور تربیت کی کمی تھی۔

اگرچہ ندیم ایک آل راؤنڈر کے طور ابھرے تھے، تاہم وہ کہتے ہیں: ’میں اچھا کھلاڑی تھا۔ میرے قومی ٹیم میں شامل ہونے کا موقع تھا لیکن حالات ایسے تھے کہ میں ایسا نہ کر سکا۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی کھیل