پاکستانی نیزہ باز ٹوکیو اولمپک میں میڈل جیتنے کے لیے پرامید

ارشد ندیم نے ایک کرکٹ سٹار بننے کا خواب دیکھا تھا لیکن ایتھلیٹکس میں آنے کے بعد انہیں 33 سال بعد پاکستان کے لیے پہلی مرتبہ انفرادی سطح پر پہلا اولمپک میڈل جیتنے کا موقع ملا ہے۔

پاکستان کے نیزہ پھینکنے والے ایتھلیٹ (جیولن تھروور) ارشد ندیم کی اولمپک مقابلوں میں انفرادی سطح پر تمغہ جیتنے کی امیدوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔

ارشد ندیم نے ایک کرکٹ سٹار بننے کا خواب دیکھا تھا لیکن ایتھلیٹکس میں آنے کے بعد انہیں 33 سال بعد پاکستان کے لیے پہلی مرتبہ انفرادی سطح پر پہلا اولمپک میڈل جیتنے کا موقع ملا ہے۔

ندیم نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو میں کہا: ’اب میرے لیے موقع ہے۔اگر میں نے بہترین انداز میں نیزہ پھینکا اور خدا نے چاہا تو میں تمغہ جیت لوں گا۔‘

دراز قد اور مضبوط جسم کے مالک 24 سالہ ارشد چھوٹی عمر میں ہی کرکٹ سے ایتھلیٹکس میں آ گئے تھے۔ ٹوکیو میں ان کا مقابلہ سخت حریفوں کے ساتھ ہوگا لیکن ان کا کہنا ہے کہ وہ گھبرانے والے نہیں ہیں۔

پاکستان نے پہلی بار 1948 میں لندن میں ہونے والے اولمپک مقابلوں میں حصہ لیا تھا۔ تب سے پاکستان ہاکی میں سونے اور چاندی کے تین، تین اور دوسرے مقابلوں میں کانسی کے دو تمغے جیت چکا ہے۔

کانسی کا ایک تمغہ 1960 میں پہلوان محمد بشیر نے جیتا تھا جبکہ دوسرا تمغہ 1988 میں باکسر حسین شاہ نے حاصل کیا۔ پاکستان نے انفرادی طور یہی تمغے حاصل کیے ہیں۔

اگلے ماہ ہونے والے اولمپک مقابلوں سے پہلے ندیم اس سال کے نیزہ پھینکنے والے چھٹے بہترین ایتھلیٹ ہیں۔ انہوں نے اپریل میں ایران میں ہونے والے مقابلے میں انفرادی طور پر86.38 میٹر کے فاصلے پر نیزہ پھینکا تھا جہاں انہیں بڑے مقابلے میں حصہ لینے کے لیے بھیجا گیا تھا۔

لاہور میں تربیتی سیشن کے بعد انہوں نے بتایا: ’میں نیزہ پھینکنے والے دوسرے ایتھلیٹس کو نہیں دیکھتا۔میں ان پر توجہ نہیں دیتا۔ میری توجہ اپنے اوپر اور اس پر بات ہوتی ہے کہ میں نیزہ کس طرح پھینکتا ہوں۔ میں پوری کوشش کرتا ہوں اور اس طرح خدا مجھے عزت دیتا ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ندیم پہلے طلائی تمغہ جیت چکے ہیں۔ وہ گذشتہ سال نیپال میں ہونے والے جنوبی ایشیائی کھیلوں میں سب سے اوپر رہے۔

انہوں نے 2018 میں ہونے والے دولت مشترکہ مقابلوں میں کانسی کا تمغہ حاصل کیا۔ اس موقعے پر بھارت کے نیرج چوپڑا نے سونے کا تمغہ جیتا تھا۔ کاشت کار کے بیٹے چوپڑا نے اس سال تیسرے طویل ترین فاصلے پر نیزہ پھینکا ہے۔

تاہم چھ فٹ دو انچ قد کے مالک ندیم کے لیے یہ راستہ آسان نہیں ہے۔ ان کا تعلق پنجاب کے ایک ایسے گاؤں سے ہے جہاں علاقے میں گندم اور کپاس کی فصلیں کاشت کی جاتی ہیں اور لڑکے لڑکیوں کو صبح سویرے کام پر لگا دیا جاتا ہے۔

ان حالات میں ندیم کے لیے اپنے پہلے پیار کرکٹ کے لیے وقت نہیں بچتا تھا جبکہ کھیل کے لیے سہولتیں اور تربیت کی کمی تھی۔

اگرچہ ندیم ایک آل راؤنڈر کے طور ابھرے تھے، تاہم وہ کہتے ہیں: ’میں اچھا کھلاڑی تھا۔میرے قومی ٹیم میں شامل ہونے کا موقع تھا لیکن حالات ایسے تھے کہ میں ایسا نہ کر سکا۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی کھیل