سوئمنگ میں گولڈ میڈلسٹ کوچ زکوة لینے پر مجبور

بلال کرونا وبا سے پہلے ایک سوئمنگ کلب میں کوچ تھے لیکن چار ماہ سے سوئمنگ پول اور کلب بند ہونے سے وہ شدید مالی مشکلات میں گھر چکے ہیں۔

دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی کئی شعبے کرونا وبا کی وجہ سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ ان میں سے ایک سوئمنگ پولز ہیں جنہیں حکومت پاکستان نے گذشتہ چار مہینوں سے  سماجی دوری برقرار رکھنے کے لیے بدستوربند کر رکھا ہے۔

چین میں منعقدہ 2007 سپیشل اولمپکس میں گولڈ میڈل جیتنے والے تیراک بلال خان بھی اس پابندی کی وجہ سے  بدحال ہو چکے ہیں اور وہ گھر کا خرچ چلانے کے لیے زکوة لینے پر مجبور ہیں۔

بلال لاک ڈاؤن سے قبل ایک سوئمنگ کلب میں کوچ تھے اور 50 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ سے گھر چلاتےتھے،لیکن چار ماہ سے سوئمنگ پول اور کلب بند ہونے سے انہیں مالی مشکلات کا سامنا ہے۔

ان حالات میں انہوں نے حکومتی احساس کفالت پروگرام کے ذریعے امداد حاصل کرنے کی کوشش کی  لیکن وہ اس میں  ناکام رہے۔بلال  نے بتایاکہ جب انہوں نے احساس کفالت پروگرام سے 12ہزار روپے امداد کےلیے رابطہ کیاتو انہیں جواب ملا کہ رجسٹریشن مکمل ہوچکی ہے، اب پیسے نہیں مل سکتے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بلال خان نے انڈپینڈنٹ اردوکو بتایا کہ  جب وہ  ادھار مانگ مانگ  کر تھک گئے اور کسی نے مالی امداد نہ کی تو انہوں نے اپنا گھر چلانے  اور بوڑھی ماں کی دوایاں خریدنے کی خاطر مخیر حضرات سے زکوة کی اپیل کی،لیکن زیادہ کامیاب نہ ملی۔

' لوگ یہ سمجھ کر زکوة نہیں دیتے کہ میں  صحت مند ہوں۔ گھر میں دووقت کی روٹی بھی ممکن نہیں رہی  تودرباروں سے لنگر لےجاکر اپنے ایک بیٹے،بیوی اور بوڑھی ماں کو کئی بار کھانا کھلایا۔'

واضع رہے کہ حکومت نے لاک ڈاؤن میں نرمی اور مختلف شعبے کھولنے کی اجازت دی ہے لیکن شادی ہالز،تعلیمی ادارے، کلب،ریستوراں،بارز،گیسٹ ہاؤسز اور کھیل کود کے میدان وغیرہ بدستور بند ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی کھیل