خیبر پختونخوا کی تاریخ میں پہلی بار خواتین پٹواریوں کی بھرتی

خیبر پختونخوا کے ڈائریکٹر لینڈ ریکارڈ مشتاق حسین کے مطابق: ’خواتین پٹواریوں کے آنے سے اس نظام میں شفافیت آجائے گی اور جائیداد کے معاملات میں مردوں کی اجارہ داری ختم ہوجائے گی۔‘

ڈائریکٹر لینڈ ریکارڈ اور بورڈ آف ریونیو کے فوکل پرسن  مشتاق حسین کے مطابق: ’پٹوار نظام میں خواتین افسران کے آنے سے پردہ نشین خواتین کو جائیداد کے مسائل و معاملات میں آسانی ہوگی (فائل فوٹو: اے ایف پی)

صوبہ خیبر پختونخوا کے بورڈ آف ریونیو میں پٹواریوں کی نئی آسامیوں کے لیے منعقد کیے گئے ایٹا ٹیسٹ کا نتیجہ پیر (21 جون) کو متوقع ہے۔ اس ٹیسٹ میں صوبے کی تاریخ میں پہلی مرتبہ 12 خواتین بھی پٹواری کی اسامی پر بھرتی کی جائیں گی۔

خیبر پختونخوا کے ڈائریکٹر لینڈ ریکارڈ اور بورڈ آف ریونیو کے فوکل پرسن مشتاق حسین کے مطابق 120 نشستوں کے لیے ٹیسٹ میں تین ہزار دو سو امیدواروں نے حصہ لیا، جن میں 200 خواتین شامل تھیں۔

مشتاق حسین نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ 13 جون کو ہونے والے ایٹا ٹیسٹ کےکامیاب امیدواروں کو جدید انفارمیشن ٹیکنالوجی سمیت دیگر ضروری تربیت بھی دی جائے گی۔

پٹواری نظام میں خواتین پٹواریوں کی بھرتیاں کیوں ضروری ہیں؟

شیر شاہ سوری کے زمانے سے رائج پٹواری نظام کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسا ہو رہا ہے کہ خواتین کو بھی یہ ذمہ داری سونپی جارہی ہے۔ خواتین کی شمولیت کے حوالے سے ڈائریکٹر لینڈ ریکارڈ مشتاق حسین نے بتایا کہ خواتین پٹواریوں کے آنے سے اس نظام میں شفافیت آجائے گی اور جائیداد کے معاملات میں مردوں کی اجارہ داری ختم ہوجائے گی۔

مشتاق حسین کے مطابق: ’پٹوار نظام میں خواتین افسران کے آنے سے پردہ نشین خواتین کو جائیداد کے مسائل و معاملات میں آسانی ہوگی۔ جائیداد کی تقسیم اور خریدوفروخت میں مردوں کی جانب سے دھوکہ دہی کے واقعات اور اس کے نتیجے میں ’لیٹیگیشن‘ جیسے مقدمات بہت حد تک ختم ہوجائیں گے۔‘

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ’پٹوار نظام اب تک سو فیصد مردوں کے ہاتھوں میں رہا ہے، جس کے نتیجے میں معاملات مردوں کے درمیان ہی طے پاتے تھے اور اکثر خواتین کو اپنے حق سے محروم یا لاعلم رکھا جاتا تھا، لہذا اچھا ہے کہ بعض دوسرے محکموں کی طرح ان دفاتر میں بھی خواتین مردوں کے شانہ بشانہ کام کریں اور اپنی جنس کے حقوق کا تحفظ یقینی بنائیں۔‘

سپریم کورٹ کا ’پٹواری‘ کے کردار کو ختم کرنے کا حکم

تین جنوری 2019 کو اس وقت کے چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے تحصیلدار، قانون گو اور پٹواری نظام کے حوالے سے ایک مقدمے کی سماعت کے دوران شہری علاقوں میں زمین کی خریدوفروخت اور انتقالی عمل میں پٹواری کے کردار کو ختم کرنے کا حکم دیا تھا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ پٹوار خانہ ایک علاقے کا لینڈ ریکارڈ رکھنے کا مجاز ہوگا، تاہم خریدوفروخت میں ان کا کوئی عمل دخل نہیں ہوگا۔علاوہ ازیں پٹوار خانے پر زرعی زمین پر مالیہ وصول کرنے کی ذمہ داری بھی سونپی گئی تھی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پاکستان سپریم کورٹ کے مطابق: ’جہاں بھی لینڈ ریونیو ایکٹ کا اطلاق ہوگا، وہاں پٹوار خانہ قائم کرنے کی ضرورت نہیں۔‘ عدالت عظمیٰ نے اپنی سماعت میں لینڈ ریکارڈ کو کمپیوٹرائز نہ کرنے پر بھی سخت تنقید کی تھی۔

اس حوالے سے خیبر پختونخوا کے ڈائریکٹر لینڈ ریکارڈ نے بتایا کہ صوبے میں ڈیجیٹائزیشن کا عمل اس وقت 50 فیصد ہے اور پورے صوبے میں مردان واحد ایک ایسا شہر ہے جہاں زمین کا ریکارڈ 100 فیصد ڈیجیٹائز ہوچکا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا: ’اگر نظام کمپیوٹرائز ہو بھی گیا تو پٹواری کے منصب کو ختم کرنا مشکل ہوگا، کیونکہ ڈیجیٹل نظام کو چلانے کے لیے بھی ایک آپریٹر کی ضرورت ہوتی ہے، جو متعلقہ شعبے میں تجربہ بھی رکھتا ہو۔‘

مشتاق حسین نے بتایا: ’ہم اس وقت ایک خودکار نظام کی پوزیشن میں نہیں ہیں، کیونکہ صارفین کی ایک بڑی تعداد تعلیم کی کمی کی وجہ سے خودکار نظام سے مستفید نہیں ہوسکے گی۔مزید یہ کہ حصول اراضی کا تمام عمل آن لائن ممکن نہیں، اس کے لیے متعلقہ دفتر جانا بھی ضروری ہوگا۔‘

ڈائریکٹر لینڈ ریکارڈ نے انڈپینڈنٹ اردو کو مزید بتایا کہ خیبر پختونخوا کی 58 تحصیلوں میں سروس ڈیلیوری سینٹرز بنائے گئے ہیں، جہاں زمینوں کا ’ریکارڈ آف رائٹ‘ دستیاب ہے۔

’صوبے کے 35 اضلاع میں سے صرف 19 میں ’ریکارڈ آف رائٹ‘ موجود ہے۔ 16 اضلاع میں ابھی سیٹیلمنٹ ہی نہیں ہوئی، جیسے کہ نئے ضم شدہ اضلاع، کوہستان، چترال کے دو ضلعے، ملاکنڈ کا ایک ضلع اور تورغر میں سرے سے ریکارڈ ہی نہیں ہے لہذا ان کو کمپیوٹرائز کرنا اس وقت ممکن نہیں۔ پہلے وہاں ریکارڈ بنانا ہوگا۔‘

مشتاق حسین نے مزید بتایا کہ خیبر پختونخوا کے ریکارڈ آف رائٹ اور سیٹیلمنٹ کے عمل سے گزرنے والے 19 اضلاع میں 58 سب ڈویژن ہیں، جن میں ابھی تک 30 کو کمپیوٹرائز کیاجاچکا ہے۔

پٹواری نظام کی تاریخ

برصغیر پاک وہند میں پٹواری نظام پختون بادشاہ شیرشاہ سوری کے دور میں متعارف کروایا گیا تھا، جسے مغل حکمران جلال الدین اکبر کے دور میں مزید تقویت ملی۔

برصغیر پر انگریز سامراج کے قبضے کے بعد بھی یہ نظام کچھ ترامیم کے بعد برقرار رہا۔ خطے کی تاریخ کے مطابق 1814 میں ایک قانون کے تحت یہ لازمی قرار دیا گیا کہ برصغیر پاک وہند کے ہر گاؤں میں ایک پٹواری کو حکومت کے نمائندے کی حیثیت سے تعینات کیا جائے گا۔

انگریز دور میں ایک ضلعی ریونیو دفتر کے تحت تحصیلدار ، قانون گو اور پٹواری اپنے فرائض سرانجام دیتا تھا۔ پٹواری کا کام علاقے کی زمینوں کی ملکیت، آبپاشی کا مالیہ یعنی ٹیکس و دیگر قسم کے مالیے کی وصولی اور علاقے میں اجناس کی پیداوار کا ریکارڈ رکھنا تھا، جسے گرداوری نظام بھی کہا جاتا ہے۔

تاہم وقت کے ساتھ ساتھ ایک پٹواری کا کام زمین کا نقشہ اور ’فردِ ملکیت‘ کے ریکارڈ تک محدود رہ گیا، جو عدالتی کارروائیوں اور ڈومیسائل بنانے کے وقت کام آتا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی دفتر