امجد صابری کے بیٹوں نے والد کی میراث آگے لے کر چلنے کی ٹھان لی

امجد علی صابری کے بچوں نے اپنے والد کی برسی کے موقع پر پیغام دیا ہے کہ وہ والد کی جدائی کے غم کو اپنی آواز میں منتقل کر کے ان کے مداحوں میں یاد کو زندہ رکھیں گے۔

پانچ سال قبل 22 جون 2016 کو کراچی میں ٹارگٹ کلنگ میں مارے جانے والے پاکستان کے معروف قوال امجد علی صابری کے صاحب زادوں نے اپنے والد کے فن کو آگے بڑھانے کے لیے اپنا ایک بینڈ بنایا ہے۔

امجد صابری کا خاندان ان کے انتقال کے بعد لاہور منتقل ہوگیا تھا جہاں اب 18 سالہ مجدد امجد صابری، 14سالہ عون امجد صابری اور 13 سالہ محب امجد صابری باقائدہ تربیت حاصل کر رہے ہیں۔ 

بیٹوں کا کہنا کہ وہ تعلیم کے ساتھ اب لاہور کی ایک میوزیکل اکیڈمی میں تربیت حاصل کر رہے ہیں اور انہوں نے ’صابری جونیئرز‘ کے نام سے میوزیکل بینڈ تشکیل دیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تربیت کے بعد وہ قوالی سمیت میوزک کی دنیا میں اپنے خاندان کی روایت کو زندہ رکھنے کا عزم رکھتے ہیں۔

اس مقصد کے لیے وہ دن میں کئی گھنٹے کی مشق کرتے ہیں اور اس بینڈ کے لیے انہوں نے اپنے والد امجد علی صابری کی گائی ہوئی قوالیوں سے آغاز کیا ہے۔

ان کے مطابق اپنے خاندان کے اس فن کو زندہ رکھنے کے لیے انہیں سب سے بڑا چیلنج بڑوں کے مقابلے میں اپنی صلاحیتیوں کو منوانا ہے اور ان کا مقابلہ اپنے ہی گھر سے شروع ہوتا ہے۔

امجد علی صابری کے بچوں نے اپنے والد کی برسی کے موقع پر پیغام دیا ہے کہ وہ والد کی جدائی کے غم کو اپنی آواز میں منتقل کر کے ان کے مداحوں میں یاد کو زندہ رکھیں گے۔

ان کے بڑے بیٹے مجدد امجد صابری نے کہا کہ وہ والد کی میراث کو آگے لے لر چلتا چاہتے ہیں۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی ابھرتے ستارے