بیالوجی یا سائنس کی کتابوں میں انسانی جسم دکھانے پر بھی پابندی؟

نیشنل کریکولم کونسل کے رکن محمد رفیق طاہر نے ان تمام باتوں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ ابھی صرف پری ون سے پانچویں جماعتوں کے نصاب تیار ہوئے ہیں اور ان جماعتوں میں بیالوجی یا سائنس پڑھائی ہی نہیں جاتی۔

سنگل نیشنل کریکولم تیار کرنے کے لیے گذشتہ سال مئی میں نیشنل کریکولم کونسل (این سی سی) کا قیام عمل میں لایا گیا، جس کی سربراہی وفاقی وزارت تعلیم شفقت محمود کرتے ہیں( اے ایف پی/ فائل)

پاکستان تحریک انصاف کی وفاقی حکومت کے پورے ملک میں سنگل نیشنل کریکولم (واحد قومی نصاب) متعارف کرانے کے فیصلے کے تحت اگست میں شروع ہونے والے نئے تعلیمی سال کے دوران پہلی سے پانچویں جماعتوں کے طالب علموں کو نیا سلیبس پڑھایا جائے گا۔

سنگل نیشنل کریکولم تیار کرنے کے لیے گذشتہ سال مئی میں نیشنل کریکولم کونسل (این سی سی) کا قیام عمل میں لایا گیا، جس کی سربراہی وفاقی وزارت تعلیم شفقت محمود کرتے ہیں، جبکہ اس میں ماہرین تعلیم کے علاوہ حکومتی اور سول سوسائٹی کے نمائندے اور علما بھی شامل ہیں۔

کونسل کے رکن اور وفاقی وزارت تعلیم میں ڈائریکٹر جنرل کے عہدے پر فائز محمد رفیق طاہر نے بتایا کہ ’پری ون سے پانچویں جماعت تک کی کتابیں تیار ہو گئی ہیں اور مارکیٹ میں دستیاب ہیں۔‘

انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’سنگل نیشنل کریکولم کے مطابق تیار کی جانے والی کتابیں دوسری کتب سے معیار میں کئی درجے بہتر اور کم قیمت ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’پری ون سے پانچویں جماعت تک کے نصاب کی تیاری میں کونسل کو آٹھ ماہ لگے جس کے بعد کتابیں بنانے کا مرحلہ آیا اور پھر کتب کی چھپائی شروع ہوئی۔‘

’چھٹی سے آٹھویں جماعتوں کے نصاب بھی تیار ہو چکے ہیں اور کتابوں کی ڈیزئننگ ہو رہی ہے۔ اسی طرح دوسرے نصاب بھی آئندہ آنے والے مہینوں میں مکمل ہو جائیں گے۔‘

سنگل نیشنل کریکولم پر اعتراضات

ملک بھر کے لیے تیار ہونے والے سنگل نیشنل کریکولم سے متعلق کچھ بہت ہی دلچسپ باتیں اور اعتراضات بھی سامنے آئے ہیں، جن میں ’شرم و حیا‘ اور ’مذہبی و معاشرتی‘ اقدار کے ناموں پر سلیبس میں تبدیلیاں شامل ہیں۔

پاکستان ٹیکسٹ بک پبلشرز ایسوسی ایشن کے صدر فواد نیاز کا کہنا تھا کہ ’بیالوجی یا سائنس کی نئی نصابی کتابوں میں انسانی جسم ننگا دکھانے پر پابندی لگا دی گئی ہے، کیونکہ نیشنل کریکولم کونسل کے خیال میں اس سے بے حیائی پھیل سکتی ہے۔‘

انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’حتی کہ جانوروں کے نظام ہضم اور تولیدی نظام کے مکمل خاکے بھی نئی نصابی کتب میں نہیں دکھائے جا سکیں گے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ نیشنل کریکولم کونسل نئے نصاب کے تحت بننے والے ریاضی کے سلیبس میں سود کے طرز پر ہونے والا حساب کتاب شامل کرنے پر بھی ممانعت لگانے پر غور کر رہی ہے۔

ماہرین نصاب میں ایسی تبدیلیوں کو تعجب کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں، جن سے معاشرے میں سوچ اور فکر کی ترقی پر مزید قدغنوں کے علاوہ بنیادی تعلیم میں معلومات کی ترسیل ادھوری رہ جانے کا اندیشہ ہے۔

طبیعات کے استاد اور ماہر تعلیم پروفیسر پرویز ہودبھائی نے حال ہی میں پاکستان کے ایک موقر جریدے میں اس صورت حال پر ایک مضمون لکھا ہے جس میں انہوں نے نصاب میں مبینہ تبدیلیوں کی تنقید کی۔ 

انہوں نے لکھا کہ ’یہ سب (پابندیاں) بیالوجیکل سائینسز کے بنیادی قانون ارتقا پڑھانے پر موجود پابندیوں کو بھی پیچھے چھوڑ رہا ہے۔‘

پرویز ہود بھائی مزید لکھتے ہیں کہ 'خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک دنیا کے سب سے زیادہ قدامت پسند ملک ہوتے تھے، جبکہ پاکستان کا زیادہ آزاد خیال اور نسبتا بہتر ملکوں میں شمار کیا جاتا تھا۔ یہ سب بدل گیا ہے، اس وقت پاکستان صرف ریورس گئیر میں ہی نہیں، بلکہ زیادہ سے زیادہ تیزی سے پیچھے کی طرف دوڑ رہا ہے۔'

تاہم وفاقی وزارت تعلیم میں ڈائریکٹر جنرل اور نیشنل کریکولم کونسل کے رکن محمد رفیق طاہر نے ان تمام باتوں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ 'ابھی صرف پری ون سے پانچویں جماعتوں کے نصاب تیار ہوئے ہیں، اور ان جماعتوں میں بیالوجی یا سائنس پڑھائی ہی نہیں جاتی۔'

انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا 'جس مضمون کا نصاب ابھی بنا ہی نہیں ہے تو اس کے متعلق یہ لوگ کیسے قیاس آرائیاں کر رہے ہیں، یہ سب کچھ غلط بیانی پر مبنی ہے۔'

محمد رفیق طاہرکا مزید کہنا تھا کہ 'نیشنل کریکولم کونسل کے تیار کردہ نصاب کے مطابق ترتیب دی جانے والی کتب آکسفورڈ اور کیمبرج کے سسٹمز میں پڑھائی جانے والی کتابوں سے بھی بہتر ہیں۔ سنگل نیشنل کریکولم سے ہماری آنے والی نسلوں کو بے بہا فوائد حاصل ہوں گے۔'

لاہور سے تعلق رکھنے والے ایک پبلشر محمد ممتاز کے مطابق سنگل نیشنل کریکولم کے تحت نصاب میں کوئی زیادہ تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔ بلکہ 2006 میں بننے والے کورسز کو ہی موڈیفائی کیا گیا ہے۔ 70 فیصد نصاب تو وہی ہے جو سارے ملک میں پہلے سے پڑھایا جا رہا ہے۔ صرف جنرل نالج اور اسلامیات کے مضامین میں کچھ تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ 

مذہبی مواد

بعض ناقدین کے خیال میں سنگل نیشنل کریکولم کے تحت نصاب میں مذہبی مواد زیادہ ڈال دیا گیا ہے۔ 

لاہور میں قائم سینٹر فار سوشل جسٹس نامی ایک ادارے کی تیار کردہ ایک رپورٹ میں دکھایا گیا ہے کہ پہلی سے پانچویں جماعت کی کتابوں میں مذہبی مواد شامل کیا گیا ہے۔ 

ادارے کے سربراہ اور نیشنل کریکولم کونسل کے رکن پیٹر جیکب کا کہنا تھا کہ 'مذہب اسلام سے متعلق مواد غیر مسلم بچوں کو بھی پڑھنا ہو گا، جو ان کے لیے مشکل ہو سکتا ہے۔'

انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 'پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کے تحت چھپنے والی پہلی سے پانچویں جماعتوں کی ریاضی اور انگریزی کی کتابوں میں بھی مذہبی مواد شامل کیا گیا ہے۔'

سنگل نیشنل کریکولم کے تحت مسلمان بچوں کے لیے تیار کیے گئے اسلامیات کے نصاب کا حجم بڑھانے سے متعلق اعتراضات کیے جا رہے ہیں۔ 

تاہم محمد رفیق طاہر نے اس تاثر کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ 'اسلامیات کے کورس کو کم کر کے مضمون کو زیادہ سے زیادہ انٹرایکٹیو بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ نئے نصاب میں بچے کو رٹا لگانے کے بجائے مختلف سرگرمیوں کے ذریعے دینی تعلیم دینے کی کوشش کی جائے گی۔'

کتابوں کی چھپائی

فواز نیاز کے مطابق پنجاب میں نیشنل کریکولم کونسل کے بنائے ہوئے نصاب کے تحت تیار کی گئی کتب کی چھپائی ابھی تک شروع نہیں ہو سکی ہے اور اگست میں کتابوں کا مارکیٹ میں آنا مشکل ہے۔ 

کتابوں کی چھپائی میں تاخیر کی وجہ بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 'پنجاب کی حد تک پبلشرز کو غیر ضروری اجازتیں لینے کی دوڑ میں لگا دیا گیا ہے۔ انٹرنل اور ایکسٹرنل ریویو کمیٹیوں سے این او سیز لینے کے بعد ہمیں متحدہ علما بورڈ سے بھی نو آبجیکشن سرٹیفیکیٹ لینا پڑ رہا ہے۔'

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے مزید کہا کہ 'ابھی تک کسی پبلشر کو تمام این او سیز نہیں ملے اور کتابوں کی چھپائی شروع نہ ہونے کی یہی وجہ ہے۔'

تاہم محمد رفیق طاہر نے اس سلسلے میں پبلشرز کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ 'اسلام آباد میں این او سیز بھی دئیے گئے ہیں اور کتابیں چھپ بھی گئی ہیں۔'

ان کے مطابق جن پبلشرز نے 20 مئی کی ڈیڈ لائن تک کتابوں کے مسودے ہمیں نہیں پہنچائے تھے ان کے این او سیز میں تاخیر ہو سکتی ہے۔ 

انہوں نے پبلشرز کے این او سیز کے لیے بھاری فیسوں کی ادائیگی کے دعووں کو بھی غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ 'حکومت نے اس سلسلے میں کوئی فیس نہیں رکھی ہے۔'

زیادہ پڑھی جانے والی کیمپس