ہاتھیوں نے 500 کلومیٹر سفر کیوں کیا، سائنسدان سراغ کے لیے متحرک

ان ہاتھیوں نے اپنے سفر کا آغاز زشوانگ بنا نیشنل نیچر ریزرو کے علاقے سے کیا تھا جو میانمار اور لاؤس کی سرحد پر واقع ہے۔

بھارتی شہر بنگلورو کے وائلڈ لائف سٹڈیز سینٹر کے سربراہ سائنسدان سریدھار وجایاکرشنن کا کہنا ہے کہ ہاتھیوں کے اس بظاہر بے مقصد سفر کی وجہ انسانی دخل اندازی یا دوسرے وسائل کی تلاش ہو سکتی ہے(فوٹو: اے ایف پی)

چین کے 15 ایشائی ہاتھیوں کے جھنڈ نے ہفتوں سے عالمی توجہ اپنے جانب مبذول کی ہوئی ہے جس کی وجہ اس جھنڈ کا گذشتہ ایک سال کے دوران اپنے فطری مسکن سے دور جاتے ہوئے 500 کلو میٹر کا فاصلہ طے کرنا ہے۔ دوسری جانب سائنسدان اس عظیم الجثہ جانور کے اس خلاف معمول رویے کی وجہ کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ان ہاتھیوں نے اپنے سفر کا آغاز زشوانگ بنا نیشنل نیچر ریزرو کے علاقے سے کیا تھا جو میانمار اور لاؤس کی سرحد پر واقع ہے۔ ان ہاتھیوں کو آخری بار یوشی شہر کے قریب دیکھا گیا تھا جہاں سے ان کے جنوب کی جانب سفر کرنے کے آثار ملے ہیں۔

ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ اس جھنڈ کی اگلی منزل کیا ہے اور ابھی تک کوئی یہ بھی نہیں جانتا کہ ان کے اس 'سفر' کے پیچھے کیا وجہ ہے۔

بھارتی شہر بنگلورو کے وائلڈ لائف سٹڈیز سینٹر کے سربراہ سائنسدان سریدھار وجایاکرشنن کا کہنا ہے کہ ہاتھیوں کے اس بظاہر بے مقصد سفر کی وجہ انسانی دخل اندازی یا دوسرے وسائل کی تلاش ہو سکتی ہے۔

وجایاکرشنن نے دی انڈپینڈنٹ کو بتایا کہ 'بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ زشوانگ بنا کے رین فاریسٹ کو چھوڑ چکے ہیں جس کی وجہ اس نمی والے علاقے میں انسانی سرگرمیاں ہو سکتی ہیں۔ ان کی منزل یونان کے خشک علاقے ہو سکتے ہیں لیکن یہ اس جھنڈ کی عدم واقفیت کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔'

 ان کا مزید کہنا تھا کہ 'یہ ایک طویل عرصے تک زندہ رہنے والے جانور ہیں اور اس بارے میں بہت پہلے جانچ ہو جانی چاہیے تھی کہ ان کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ فی الحال ہم صرف قیاس آرائی ہی کر سکتے ہیں۔'

کرنٹ سائنس نامی جریدے میں بھارتی سطح مرتفع میں پائے جانے والے ایشیائی ہاتھیوں کے حوالے سے سامنے آنے والی حالیہ تحقیق کے مطابق جنگلات کے رقبے اور ہاتھیوں کے فطری مساکن میں دستیاب وسائل میں سالانہ بنیادوں پر ہونے والی کمی، انسانوں اور جانوروں کے باہمی تنازعوں میں اضافہ ان علاقوں میں ہاتھیوں کے رہنے کے حالات کو تبدیل کرنے سے جڑے ہوئے ہیں۔

 بنگلورو کے اشوکا ٹرسٹ فار ریسرچ ان ایکولوجی اینڈ دی انوائرنمنٹ (اے ٹی آر ای ای) سے تعلق رکھنے والے شریک مصنف انوپ این آر کا دی انڈپینڈنٹ سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ 'جنگلات میں کٹائی اور علاقے کی تقسیم کا عمل جاری ہے۔ اور ہاتھی اپنے مخصوس مساکن کے حوالے سے کافی حساس واقع ہوتے ہیں اور اس حوالے سے ان کے درمیان جنگلی علاقے کو لے کر مقابلے بازی بھی ہوتی ہے۔'

چین میں محو سفر ہاتھیوں کے اس جھنڈ کے بارے میں انوپ کا کہنا ہے کہ جب ہاتھیوں کا کوئی اور جھنڈ اسی علاقے پر قبضہ جما لیتا تو مشکل وقت کے دوران یہ پانی جیسے اہم وسائل پر مقابلے بازی کی وجہ ہو سکتا تھا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ 'ایسی صورت حال میں وہ جھنڈ جو طاقتور ہاتھیوں سے مقابلہ نہیں کر سکتا بکھر جاتا ہے اور اپنے لیے نئے مسکن کی تلاش میں نکل کھڑا ہوتا ہے۔ یہ ایک عام بات ہے جو ہر جگہ ہوتی ہے حتی کے جنوبی بھارت میں بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔'

ہاتھیوں کا جھنڈ مادہ ہاتھیوں کی حکمرانی کے اصول پر چلتا ہے اور اس میں وہ مادہ ہاتھی شامل ہوتی ہیں جن کے ساتھ نر ہاتھی روانگی سے قبل مختصر مدت کے لیے ملاپ کرتے ہیں، سفر کرنے والے اس جھنڈ میں تین نر ہاتھی موجود ہیں، جو سفر کے دوران کھانے کی تلاش، جنگلات میں نیند پوری اور راستے میں موجود نہروں میں نہاتے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں۔

وجایا کرشنن کا کہنا ہے کہ 'ایسا ہونے میں کچھ خلاف معمول نہیں ہے۔ نر ہاتھی بھی اس سماجی گروہ کا حصہ ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ جب یہ جنسی طور پر بالغ ہوتے ہیں تو یہ جھنڈ کو چھوڑ کر دوسرے نر ہاتھیوں کے ساتھ یا الگ رہنے لگتے ہیں اور ایسا وہ تب تک کرتے ہیں جب تک وہ سماجی طور پر بالغ نہیں ہو جاتے۔'

ان کا مزید کہنا تھا کہ 'اگر یہ نر ہاتھی کسی اس گروہ کے ساتھ جڑے ہیں یا نہیں اس بات کا یقین سے نہیں کہا جا سکتا۔ ہم جینیاتی تجزیے کے بعد اس بات کا تعین کرنا ہو گا کہ یہ اسی گروہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ اگر یہ اس گروہ سے تعلق نہیں رکھتے تو یہ دیکھنا دلچسپی سے خالی نہیں ہو گا کہ یہ اس گروہ سے کیسے اور کس موقع پر جڑے ہیں۔'

چین اس وقت دنیا بھر میں موجود ایسی تین سو انفرادی انواع کا میزبان ہے جن کی نسل کو خطرے کا سامنا ہے۔ جانوروں کے تحفظ اور ان کے رویوں پر تحقیق کرنے والے ماہرین اس بات کو جاننے میں دلچسپی رکھتے ہیں کہ اس جھنڈ کی اگلی منزل کیا ہوگی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

 وجایاکرشنن کا کہنا ہے کہ 'ایشیائی ہاتھیوں کو مختلف اقسام کے خطرات کا سامنا ہے جو ان کے رویوں میں سفر کرنے اور کھانے کی عمومی تبدیلی کی وجہ بن رہے ہیں۔'

ان کا کہنا ہے کہ فصلوں والے علاقوں میں ان جانداروں کو دن بھر آرام کرتے دیکھا گیا ہے جبکہ کھانے کے لیے یہ رات کا وقت پسند کرتے ہیں حالانکہ اپنے فطری مساکن میں یہ ممالیہ جانور دن کے وقت کھانے کے لیے جانے جاتے ہیں۔

سی ڈبلیو ایس کے سائنسدان کا کہنا تھا کہ 'انسانی دخل اندازی کے باعث ان کے بنیادی رویوں میں بہت تبدیلی آ رہی ہے اور چین میں سامنے آنے والا یہ واقع اس کی ایک مثال ہو سکتی ہے کہ ہاتھی موجودہ ایکولوجیکل دور میں تبدیلی کے مقابلے میں کیا رد عمل دیتے ہیں۔'

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی ماحولیات