بوٹسوانا کے بعد زمباوے میں ہاتھیوں کی پراسرار اموات معمہ بن گئیں

زمبابوے کے ایک جنگل میں 11 ہاتھیوں کی لاشیں ملیں ہیں جن کی موت کا کوئی واضح سبب نہ مل سکا، جبکہ پڑوسی ملک بوٹسوانا میں مئی سے اب تک 350 ہاتھی اسی طرح مرے پائے گئے ہیں۔

زمبابوے کے ہوانگے نیشنل پارک میں ہاتھیوں کا ایک جھنڈ (اے ایف پی فائل)

افریقہ کے ملک زمبابوے کے ایک جنگل میں 11 ہاتھیوں کی لاشیں ملیں ہیں تاہم ان کی موت کا کوئی واضح سبب نہ سامنے آنے کے بعد حکام نے ان پراسرار اموات کے حوالے سے تحقیقات شروع کردی ہیں۔

مقامی افسران کے مطابق، ہاتھیوں کی لاشیں زمبابوے کے پینڈامیسو جنگل میں ملیں جو ہوانگے نشنل پارک اور ویکٹوریا فالز کے درمیان واقع ہے۔

پارک کی انتظانیہ کا کہنا ہے کہ ان کو ہاتھیوں کی موت کی کوئی واضح وجہ نہیں ملی۔ زمبابوے میں جانوروں کا غیر قانونی شکار عام ہے مگر حکام کا کہنا ہے کہ یہ ہاتھیوں کی موت کی وجہ نہیں کیونکہ ان کے دانت سلامت تھے۔

زمبابوے نیشنل پارک اور وائلڈ لائف مینجمنٹ اتھارٹی کے ترجمان تناشے فراوو کا کہنا تھا کہ جانوروں کے خون کے نمونے جانچ کے لیے لیبارٹری بھیج دیے گئے ہیں تاکہ ان کی موت کی وجہ معلوم ہو سکے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

فراوو نے کہا: 'ہم ٹیسٹ کے بعد ہی موت کی وجہ کا تعین کر سکتے ہیں، تاہم یہ سائنائڈ پوئزننگ نہیں۔'

انہوں نے مزید کہا: 'صرف ہاتھی ہی متاثر ہوئے ہیں، گدھ یا اور اور کوئی جانور متاثر نہیں ہوئے۔ ابتدائی ٹیسٹس میں یہ سامنے آیا ہے کہ یہ سائنائڈ نہیں۔ ہم اسے غیر قانوی شکار کرنے والوں کا کام بھی نہیں سمجھ رہے کیونکہ ہاتھیوں کے دانت سلامت تھے۔'

زمبابوے میں ہاتھیوں کی پراسرار اموات بالکل پڑوسی ملک بوٹسوانا میں حالیہ صورت حال جیسی ہیں جہاں مئی سے اب تک 350 ہاتھی ہلاک ہوچکے ہیں مگر موت کی وجہ معلوم نہ ہوسکی۔

سائسن دان اب بھی کھوج لگانے کی کوشش میں ہیں کہ آخر وہاں ہاتھی کیسے مرے۔ بوٹسوانا میں غیر قانونی شکار وجہ نہیں کیونکہ ہاتھیوں کے دانت سلامت تھے۔

حکام  کا کہنا ہے کہ یہ بھی ممکن نہیں کہ انسانوں نے زہر دیا ہو کیونکہ انتھریکس بوٹسوانا کے کئی حصوں میں مٹی میں پایا جاتا ہے۔

بوٹسوانا میں دنیا میں ہاتھیوں کی سب سے زیادہ آبادی پائی جاتی ہے جو ایک لاکھ 56 ہزار کے قریب ہے۔ دوسری بڑی آبادی زمبابوے میں ہے جہاں اندازوں کے مطابق 85 ہزار ہاتھی ہیں۔


اس خبر کی تیاری میں ایسوسی ایٹڈ پریس کی اضافی رپورٹنگ بھی شامل ہے۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی افریقہ