انگلینڈ کا ورلڈ کپ چانس: ابھی نہیں تو کبھی نہیں

اس بار انگلینڈ تاریخ کی سب سے مضبوط ٹیم کے طور پر میدان میں اترے گی، مائیک گیٹنگ

روئٹرز فوٹو

کرکٹ ورلڈ کپ کا میلہ ایک بار پھر اسی سرزمین پر سجنے جا رہا ہے جہاں اس کھیل نے جنم لیا تھا۔

اس میگا ایونٹ کے بارہویں ایڈیشن کا انعقاد 30 مئی سے انگلینڈ اور ویلز کے 11 میدانوں پر ہو گا، جہاں دس ٹیمیں 46 دنوں تک جاری رہنے والے ٹورنامنٹ میں 48 میچوں میں ایک دوسرے سے ٹکرائیں گی۔

انگلش سرزمین پانچویں بار عالمی کپ کی میزبانی کرنے جا رہی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کرکٹ کا خالق ملک انگلینڈ جو کبھی یہ ٹائٹل اپنے نام نہیں کر سکا ،کیا اس بار اپنے ہوم گراؤنڈز پر نئی تاریخ رقم کر پائے گا۔

اس کا جواب ہے ہاں ،کیوں کہ کرکٹ پنڈت انگلینڈ کو اس ٹورنامنٹ کی سب سے فیورٹ ٹیم قرار دے رہے ہیں۔

ہوم ٹیم اپنے جارحانہ بلے بازوں کی بدولت اس وقت 50 اوورز فارمیٹ میں آئی سی سی کی فہرست پر پہلے نمبر پر براجمان ہے۔

ویراٹ کوہلی کی قیادت میں بھارتی ٹیم کو بھی اس ٹورنامنٹ کے لیے مضبوط تصور کیا جا رہا ہے جبکہ نیوزی لینڈ اور جنوبی افریقہ بھی عالمی مقابلوں کی ٹرافی اٹھانے کے لیے ہاٹ فیورٹ ہیں۔

غیر متوقع نتائج دکھانے والی پاکستانی ٹیم کو کوئی بھی نظر انداز کرنے کی غلطی نہیں کر سکتا جبکہ ویسٹ انڈیز میں کرس گیل کی شمولیت کے بعد اس میں 1979 کی تاریخ دہرا نے کی صلاحیت پیدا ہو گئی ہے۔

کرکٹ ایک ایسے دور میں داخل ہو چکی ہے جہاں سکور بورڈز پر رنز کی بھرمار ہوتی ہے جبکہ بولروں کو کارکردگی دکھانے کے لیے سخت محنت کرنا پڑتی ہے۔ ایسے میں انگلش کنڈیشنز اہمیت اختیار کر گئی ہیں۔

اس حوالے سے سابق آسٹریلین کپتان آئن چیپل کا کہنا ہے کہ ٹیموں کی کارکردگی کا دارومدار بہت حد تک انگلینڈ کی کنڈیشنز پر ہو گا۔

انہوں نےای ایس پی این کرک انفو پر ایک مضمون میں لکھا کہ اگر انگلینڈ میں موسم گرما میں بارشیں ہوتی ہیں تو اس کا فائدہ یقینی طور پر سیمرز کو ہو گا جو خطرناک باؤلنگ سے مخالف ٹیموں کو زیر کر لیں گے کیوں کہ گیلی کنڈیشنز میں بیٹنگ مشکل ہو جاتی ہے۔   

’دوسری جانب اگرموسم گرما خشک رہتا ہے تو اس کا فائدہ بلے بازوں کو پہنچے گا جو مختلف شارٹس سے بولرز پر حملہ آور ہوں گے۔ پیس اور سپن کے حقیقی ملاپ سے فائنل میں جگہ بنائی جا سکتی ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’بلاشبہ انگلینڈ ٹورنامنٹ کا آغاز بطور موسٹ فیورٹ ٹیم کرے گی‘۔

تاہم اگر2017 میں چیمپئنز ٹرافی کی میزبانی کرنے والی انگلینڈ کی کارکردگی دیکھی جائے تو وہ ٹورنامنٹ کی سب سے کمزور ٹیم پاکستان سے سیمی فائنل میں ہار گئی تھی۔

اس میچ میں فیورٹ انگلینڈ پاکستان کے خلاف کارڈف کی سلو پچ پر کارکردگی دکھانے میں ناکام رہی تھی کیوں کہ وہاں ان کا سٹروک پلے اٹیک کام ہی نہیں کر رہا تھا، لیکن انگلینڈ کے کپتان این مورگن کا کہنا ہے کہ انہوں نے اُس میچ سے بہت کچھ سیکھا۔

’ہم جن پچوں پر کھیلتے ہیں، ان کے بارے میں ہم نہایت حقیقت پسندانہ سوچ رکھتے ہیں۔ جیسے جیسے ورلڈ کپ آگے بڑھے گا ان [پچز] کی حالت بھی بگڑتی جائے گی اور ہم نے اس کے لیے منصوبہ بندی کر لی ہے۔‘

انگلینڈ تین بار فائنل میں پہنچ کر بھی آج تک مردوں کا عالمی کپ ٹائٹل اپنے نام کرنے میں ناکام رہا ہے تاہم اس بار وہ اپنی مضبوط بیٹنگ کی بدولت نئی تاریخ رقم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

انگلینڈ کے سابق کپتان مائیک گیٹنگ کا بھی یہی خیال ہے۔

ایک کرکٹ میگزین کو انٹرویو میں گیٹنگ کا کہنا تھا: ’اس بار انگلینڈ تاریخ کی سب سے مضبوط ٹیم کے طور پر میدان میں اترے گی اور فاسٹ بولر جوفرا آرچر کی پرجوش شمولیت سے اس کی مضبوطی میں اضافہ ہوا ہے‘۔

’انگلینڈ کے پاس اس بار ورلڈ کپ جنتنے کے لیے اس سے اچھا موقع کوئی اور نہیں ہو سکتا۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ