کیا ریاست پاکستان اب احمد شاہ مسعود کو دوست سمجھتی ہے؟

اگر ہمارے فیصلہ ساز سمجھتے ہیں کہ اس طرح وہ اپنے دشمنوں کو دوست بنا سکتے ہیں تو پھر ہمیں بھارت کے کئی رہنماؤں کے ناموں پر بھی سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔

سات اپریل 2019 کو لی گئی اس تصویر میں سکول کی طالبات کابل میں ایک دیوار کے پاس سے گزر رہی ہیں جس پر احمد شاہ مسعود کی تصویر بنائی گئی ہے۔ کابل میں احمد شاہ مسود کی کمی محسوس کرنا مشکل ہے۔ ان کی  تصاویر شہر بھر میں دیواروں اور حکومت نواز قوتوں کی گاڑیوں کی ونڈ سکرین کی زینت رہتی ہیں۔ (اے ایف پی فائل)

 

یہ تحریر آپ مصنف کی آواز میں یہاں سن بھی سکتے ہیں


ہمارے فیصلہ ساز غیرضروری تنازعات پیدا کرنے میں یداولی رکھتے ہیں۔ جن مسائل کو خاموشی سے دفن کرنے کی ضرورت ہوتی ہے ہم ان پر شوروغوغا کر کے انہیں عوام کو مزید تقسیم کرنے یا اپنی بین الاقوامی مشکلات بڑھانے کا باعث بن جاتے ہیں۔ اپنی برتر فہم کے زعم میں یہ فیصلہ ساز بعض اوقات تو ان معاملات سے جڑے سنجیدہ مسائل اور ان کے ممکنہ منفی نتائج سے بھی صرف نظر کر جاتے ہیں۔

انہی غیر ضروری اور پرخار راستوں پر چلتے ہوئے وزیر اعظم نے حال ہی میں وزارت خارجہ کو ہدایت کی ہے کہ مرحوم متنازعہ افغان کمانڈر احمد شاہ مسعود کے نام پر اسلام آباد کی کسی شاہراہ کو منسوب کرنے کی تجویز پر عمل درآمد کیا جائے۔ یہ تجویز احمد شاہ مسعود کے بھائی نے وزیر اعظم سے حال ہی میں ملاقات کے دوران پیش کی تھی جس پر وزیر اعظم نے مبینہ طور پر عمل درآمد کا وعدہ کیا اور بعد میں وزارت خارجہ کو ضروری ہدایات جاری کی گئیں۔

یہ خبر ایک معروف اخبار میں تقریبا دو ہفتے پہلے چھپی اور اس کی تردید نہ تو وزارت خارجہ اور نہ ہی وزیر اعظم کے آفس سے ہوئی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شاہراہ کو احمد شاہ مسعود کے نام سے منسوب کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔

آئیے اب احمد شاہ مسعود کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں پر نظر ڈالتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ انہوں نے پاکستان سے دوستی بڑھانے اور باہمی تعلقات مضبوط کرنے کے لیے کون سے ایسے قدم اٹھائے جن کی وجہ سے ان کو یہ اعزاز بخشا جا رہا ہے۔ کیا انہوں نے اس سلسلے میں ایسا کوئی خاص اور قابل فخر کارنامہ سرانجام دیا کہ انہیں سعودی بادشاہ شاہ فیصل، ترک رہنما کمال اتاترک اور چینی رہنما چو این لائی کی صف میں لا کھڑا کیا جائے؟

احمد مسعود یقینا ایک ممتاز افغان جنگجو کمانڈر رہے ہیں اور سوویت یونین کے افغانستان پر قبضے کے بعد کے جہاد میں دوسرے افغان رہنماؤں کی طرح شامل ہوئے اور اس جنگ میں کچھ حد تک ایک کلیدی کردار ادا کیا۔ دوسرے افغان رہنماؤں کی طرح ان کے خاندان نے بھی پاکستان ہجرت کی اور ان کے والد بھی پشاور ہی میں دفن ہیں۔

اگرچہ ان کا افغان جہاد میں ایک نمایاں کردار رہا مگر ان کے بارے میں مبینہ طور پر یہ بھی مشہور ہے کہ انہوں نے اس جہاد سے بے تحاشہ مالی فوائد بھی حاصل کیے۔ بہت سارے لکھنے والوں نے تو ان کے سوویت یونین سے تعلقات پر بھی روشنی ڈالی ہے اور انہی تعلقات کی وجہ سے جہاد کے دوران بھی وہ مبینہ طور پر پیسوں کی وصولی کے بعد سوویت سپلائی گزرنے کے لیے سالنگ سرنگ کو کھولتے اور بند کرتے تھے۔

مبینہ طور پر ان کے تعلقات فرانسیسی کمیونسٹ پارٹی کے ساتھ سوویت کمیونسٹ پارٹی نے ہموار کرائے جس کے بعد احمد شاہ مسعود نے قیمتی پتھروں کی سمگلنگ فرانسیسی کمیونسٹ پارٹی کے تعاون سے شروع کروائی اور اس سے بھی کثیر مالی فوائد حاصل کیے۔ غرض اس طرح کے بے شمار قصے دوسرے افغان رہنماؤں کی طرح احمد شاہ مسعود کی ذات سے بھی جڑے ہوئے ہیں جن میں وہ اس جنگ میں شریک فریقین کے ساتھ مالی مفادات کا کھیل کھیل رہے تھے۔

سوویت یونین کی افغانستان میں شکست اور واپسی کے بعد مجاہدین کی وسیع البنیاد حکومت قائم کرنے کی بجائے اس میں تاجک رہنماؤں کی بالادستی یقینی بنانے کے لیے بھی احمد شاہ مسعود کا کافی منفی کردار رہا ہے۔ تاجک قوم کی حکومت میں بالادستی قائم رکھنے کے لیے اور پشتونوں کو باہر رکھنے کے لیے وہ کابل میں پاکستان مخالف جذبات ابھارنے میں پیش پیش رہے۔

کابل میں کئی پاکستان مخالف مظاہروں کو احمد شاہ مسعود کی حمایت حاصل رہی اور وہ پاکستانی سفارت خانے کے باہر مظاہرے اور حملوں میں بالواسطہ اور بلاواسطہ شریک رہے ہیں۔ سفارت خانہ بیرون ملک کسی ریاست کا حصہ سمجھا جاتا ہے اور اس پر حملہ ریاست پر حملہ تصور کیا جاتا ہے اور یہ حملہ کرنے اور کرانے والا کسی طرح بھی اس ریاست کا دوست یا خیر خواہ نہیں سمجھا جا سکتا۔

احمد شاہ مسعود نے ہمارے سفارت خانے پر پہلا حملہ وزیر خارجہ سردار آصف احمد علی کے کابل کے دورے کے دوران کرایا۔

دوسرا انتہائی خطرناک اور جان لیوا حملہ دفاع پاکستان کے دن 6 ستمبر 1995 کو کیا گیا۔ مسعود اس وقت کی مجاہدین کی کابل حکومت میں وزیر دفاع بھی تھے۔

کابل کے ارد گرد طالبان کی کچھ فتوحات کا بدلہ لینے کے لیے انہوں نے تقریبا پانچ ہزار کے قریب حمایتیوں کے ایک جتھے کا ہمارے سفارت خانے پرحملے کا انتظام کرایا۔ یہ مسلح جتھا سفارت خانے پر علی الصبح حملہ آور ہوا اور اس کا بڑا مقصد ہمارے سفیر قاضی ہمایوں صاحب کو بظاہر قتل کرنا تھا۔

اس وحشیانہ، خون خوار اور تہذیب سے عاری حملے سے سفارت خانے کے تقریبا 26 غیر مسلح ارکان شدید زخمی ہوئے اور ایک اہلکار جان سے گئے۔ انہیں حملہ آوروں نے سفیر سمجھ کر بے دردی سے پے در پے وار کر کے قتل کیا۔ سفیر پاکستان کو بھی چاقوؤں اور خنجروں کے وار سے شدید زخمی کیا گیا۔ ہمارے باقی سفارت کار بشمول ڈیفنس اتاشی بھی اس حملے میں شدید زخمی ہوئے۔

احمد شاہ مسعود کے اس جتھے نے پاکستان دشمنی میں نہ صرف اہلکاروں کو شدید گھائل کیا بلکہ اپنے غصے کا اظہار سفارت خانے کی عمارت پر بھی کیا اور اس تاریخی عمارت کو بھی مکمل طور پر جلا کر راکھ کر دیا۔

اس وحشیانہ حملے کے دوران کابل حکومت ایک خاموش تماشائی بنی رہی اور ان کی طرف سے سفارت خانے اور اہلکاروں کو بچانے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی۔ یہ سازش اس وقت مزید عیاں ہوئی جب احمد شاہ مسعود کی زیر نگرانی افغان فوج بھی سفارت خانے کی مدد کو نہ پہنچی۔

اس المیے کے بعد پاکستان نے کابل حکومت سے معافی اور سفارت خانے کو دوبارہ تعمیر کرنے کے اخراجات کا مطالبہ کیا۔ کابل کی تاجک اکثریتی رہنماؤں پر مشتمل حکومت نے یہ مطالبات ماننے سے انکار کر دیا جس کے بعد پاکستان نے تاریخ میں پہلی دفعہ کابل سے اپنے سفارتی تعلقات منقطع کر دیے تھے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یقینا ہمارے فیصلہ سازوں کی نظر میں احمد شاہ مسعود کے یہ پاکستان دشمن اقدامات زیر غور ہوں گے۔  اس لیے یہ فیصلہ باعث حیرت ہے کہ ایک ایسا شخص جس نے پاکستان کی ریاست کی علامت سفارت خانے پر حملہ کر کے اسے تباہ کیا اور پاکستانی ریاست کے نمائندے کو قتل کرنے کی کوشش کی اسے کیوں کر دارالخلافہ میں ایک اہم شاہراہ ان کے نام سے منسوب کرنے جیسے اعزاز کے لائق سمجھا جا رہا ہے؟

کیا فیصلہ سازوں کو اس حقیقت کا ادراک نہیں کہ وزارت خارجہ کے افسران اس فیصلے کے بارے میں کیا سوچتے ہوں گے کہ ایک شخص جس نے ان کے ساتھیوں پر وحشیانہ حملہ کروایا، اسے اس سفاکانہ قدم پر نوازا جانا چاہیے۔ 

احمد شاہ مسعود کو یہ اعزاز بخشنا نہ صرف ریاست پاکستان کی تحقیر ہے بلکہ وزارت خارجہ کے افسران کے کام کی بھی توہین ہے جو اس وقت ان خطرناک ترین حالات میں اپنی جانوں پر کھیلتے ہوئے اپنی قومی ذمہ داریاں ادا کرنے کے لیے سفارت خانے میں موجود تھے اور اس کا دفاع کر رہے تھے۔

یہ ہمارے فیصلہ سازوں کی خام خیالی ہے کہ وہ اس قدم سے موجودہ افغان تنازع میں پاکستان مخالف اور بھارت کے دوست  تاجک رہنماؤں کی حمایت حاصل کر سکیں گے۔ کیا تاجک رہنما صرف اس ایک معمولی عنایت سے افغانستان میں اپنے پرانے تاریخی حریفوں کے حلیف بن جائیں گے؟

کیا یہ فیصلہ ہماری اس پالیسی کے خلاف نہیں ہوگا کہ افغانستان میں ہمارا کوئی پسندیدہ گروپ نہیں ہے؟ کیا اس قدم سے ہم افغانستان میں اپنی دوست قوتوں کو مایوس نہیں کریں گے؟

اگر ہمارے فیصلہ سازوں کی نظر میں اس ایک قدم سے ہم اپنے مخالفین اور دشمنوں کو دوست بنا سکتے ہیں تو پھر ہمیں ہمسایہ ملک بھارت کے کئی رہنماؤں کے ناموں پر اپنی شاہراہوں کو منسوب کرنے کے بارے میں بھی سنجیدگی سے غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے۔

نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی خیالات پر مبنی ہے ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ