قطر مذاکرات سے پرامید نہیں ہوں: احمد ولی مسعود

پاکستان کے دورے پر آئے افغانستان میں سابق شمالی اتحاد کے سربراہ احمد شاہ مسعود کے چھوٹے بھائی اور مسعود فاؤنڈیشن کے چیئرمین احمد ولی مسعود کی انڈپینڈنٹ اردو سے خصوصی گفتگو۔

احمد ولی مسعود کی 2001 کی تصویر جب ان کے بڑے بھائی کو ہلاک کیا گیا تھا (اے ایف پی)

افغانستان میں سابق شمالی اتحاد کے سربراہ احمد شاہ مسعود کے چھوٹے بھائی اور مسعود فاونڈیشن کے چیرمین احمد ولی مسعود کا کہنا ہے کہ وہ قطر میں جاری افغان امن مذاکرات کے بارے میں پرامید نہیں ہیں۔

احمد ولی مسعود 15 رکنی وفد کے ساتھ پاکستان کی دعوت پر اسلام آباد آئے ہیں۔

جعمرات کی شام انڈپینڈنٹ اردو کے ساتھ گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ ان مذاکرات میں افغانستان کے تمام نسلی گروپس کو شامل ہونا چاہیے۔ ’میں ان مذاکرات کے بارے میں پرامید نہیں ہوں کیونکہ یہ ابھی بھی تعطل کا شکار ہیں۔ آپ دو پارٹیوں کے درمیان معاہدے سے امن نہیں لاسکتے ہیں۔ یہ افغانستان کے لیے امن نہیں ہے۔ ایک جامع مذاکراتی عمل کا آغاز ہونا چاہیے جس میں سب خصوصاً تمام نسلی گروپس کی نمائندگی ہو۔‘

ان کا کہنا تھا کہ امن کی راہ میں ابھی بھی رکاوٹیں ہیں۔ ’افغانستان میں بدقسمتی سے افغانوں کے درمیان نہیں بلکہ بیرونی قوتیں بھی اہم ہوتی ہیں۔ ایک وسیع اتفاق رائے کے بغیر یہ ممکن نہیں ہوسکتا ہے۔‘

انہوں نے اس تاثر سے اتفاق کیا کہ قطر مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں افغانستان ایک مرتبہ پھر خانہ جنگی کی جانب جاسکتا ہے۔‘

احمد شاہ مسعود پاکستان کی ماضی میں طالبان کی حمایت کی وجہ سے اسلام آباد سے کافی اختلافات رکھتے تھے۔ اس تناظر میں مسعود فاونڈیشن کے چیئرمین کے اس دورے کو غیرمعمولی قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم احمد شاہ مسعود کے مقابلے میں ان کے بھائی کی افغانستان میں سیاسی اہمیت قدرے کم مانی جاتی ہے۔

تجزیہ کار اسے پاکستان کی پالیسی میں تبدیلی قرار دے رہے ہیں۔ ماسوائے سابق افغان صدر حامد کرزئی عمران خان کی دور میں تقریباً تمام اہم رہنما بشمول صدر اشرف غنی پاکستان کے دورے کر چکے ہیں۔

جعمرات کو احمد ولی نے وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کی جس میں آئی ایس آئی کے سربراہ بھی موجود تھے۔ وزیر اعظم نے افغان مزاحمتی تحریک کے دوران حمد شاہ مسعود کی تاریخی شراکت کو یاد کیا۔ وزیر اعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ افغانستان میں تنازعے کا کوئی فوجی حل نہیں ہے اور بات چیت کی گئی سیاسی تصفیے ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے۔

وزیر اعظم نے مزید کہا کہ افغانستان کے بعد ، پاکستان افغانستان میں امن کی واپسی دیکھنے کے لیے سب سے زیادہ خواہش مند تھا کیونکہ اس تنازعے سے وہ گہری متاثر ہوا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

احمد ولی مسعود سے پاکستان کی افغان پالیسی سے متعلق ایک سوال پوچھا کہ کیا انہوں نے کوئی تبدیلی دیکھی ہے تو ان کا جواب اثبات میں تھا۔ ’ہاں ہم نے پاکستان کی پالیسیوں میں تبدیلی دیکھی ہے اسی لیے ہم یہاں آئے ہیں۔ ہم پرامید ہیں کہ اسے عملی شکل میں دیکھ سکیں۔ میں نے پاکستانی قیادت سے جو سنا ہے تو وہ یہ ہے کہ تبدیلی آئی ہے۔ پاکستان نے اپنی حکمت عملی تبدیلی کی ہے۔ ہم 21ویں صدی میں ہیں تو ہمیں سوچنا ہوگا کہ اب افغانستان میں امن کیسے لایا جائے کیونکہ بلاآخر کوئی عسکری حکمت عملی امن نہیں لاسکتی ہے۔ اس صدی میں افغان امن کے لیے ہمیں تمام ذرائع جن میں سفارت کاری، مذاکرات سب استعمال کرنا ہوں گے۔ لہذا ہاں میں نے تبدیلی دیکھی ہے۔‘

افغان رہنما کا کہنا تھا کہ یہ سب انہوں نے پاکستانی قیادت کے ساتھ ملاقاتوں میں دیکھا ہے خصوصاً عمران خان کے ساتھ ملاقات میں۔ انہوں نے عمران خان کے حوالے سے کہا کہ وہ کہہ رہے تھے کہ دنیا بدل گئی ہے، پاکستان بدل گیا ہے اور ان کی حکمت عملی بھی۔

احمد ولی ڈپلومیٹک سٹڈیز میں ویسٹ منسٹریونیوسرسٹی سے ڈگری رکھتے ہیں۔ وہ برطانیہ میں افغان سفیر اور یورپ کے لیے احمد شاہ مسعود کے نمائندہ بھی رہیں ہیں۔ انہوں نے اپنی بھی ایک سیاسی جماعت بنا رکھی ہے۔

ایک اور سوال کے جواب میں کہ پاکستان کے بارے میں یہ تاثر رہا ہے کہ اس نے ہمیشہ افغان پختونوں کا ساتھ دیا ہے، تو کیا یہ تاثر بھی تبدیل ہوا ہے، احمد ولی کا کہنا تھا کہ پاکستان نے انہیں باور کروایا ہے کہ وہ سب گروپوں کے ساتھ اب تعلق چاہتا ہے۔ ’ہم سب کو یہ معلوم ہے لیکن ظاہر ہے جب سے میں آیا ہوں میں نے دیکھا کہ وہ اب کہتے ہیں کہ پاکستان افغانستان کی تمام نسلی گروپوں کے ساتھ تعلق چاہتا ہے۔ اب اس کا کوئی محبوب نہیں ہے۔ اسی لیے تو انہوں نے ہمیں مدعو کیا ہے۔ ہم پہلی مرتبہ یہاں آئے ہیں اور کیوں آئے ہیں کیونکہ حکمت عملی تبدیل ہوئی ہے۔ میرے مرحوم بھائی احمد شاہ مسعود نے بھی کہا تھا کہ جب پاکستان کی حکمت علمی تبدیل ہوگی تو یہ بات چیت کا راستہ کھول دے گی۔ اسی لیے تو ہم یہاں ہیں۔‘

جب ان سے مزید پوچھا گیا کہ واقعی اسے وہ حقیقت میں تبدیلی سمجھتے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ ابھی اسے مزید دیکھنا ہوگا۔ ’ابھی ہم نے یہ سنا ہے۔ ہم قائل ہیں لیکن ہمیں اس کا عملی مظاہرہ ابھی دیکھنا ہے۔ ہمیں کافی دور جانا ہے تو دیکھتے ہیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان