کرونا وائرس: انڈین اور ڈیلٹا ویریئنٹ کی بحث

ٹوئٹر پر ہونے والی ایک بحث میں متعدد پاکستانی بھارت میں سامنے آنے والی کرونا وائرس کی قسم کو ’انڈین ویرئنٹ‘ قرار دینے پر بضد ہیں تو دوسری جانب بھارتی صارفین اسے ’انڈین ویریئنٹ ‘کا نام دینے پر ناخوش ہیں۔

چنئی میں ایک شخص نے اپنے چہرے پر کرونا وائرس کی شکل کا ماسک پہنا ہوا ہے جبکہ اس کے گلے میں لٹکے پلے کارڈ پر لکھا ہے ’باہر نہ نکلیں، کرونا کے قریب نہ جائیں (اے ایف پی)

بھارت میں تباہی مچانے والی کرونا وائرس کی  قسم کو انڈین ویریئنٹ اور ڈیلٹا کا نام دیا جا رہا ہے جبکہ بھارتی اسے انڈین ویریینٹ کا نام دینے پر ناخوش ہیں۔

آن لائن میگزین کے مطابق مئی میں بھارتی حکومت نے سوشل میڈیا  کمپنیوں سے انڈین ویریئنٹ کا نام ہٹانے کا مطالبہ کیا تھا ۔

بھارتی حکومت کا ماننا تھا کہ کرونا وائرس کی نئی قسم کو انڈین ویریئنٹ کا نام دینے سے ملکی ساکھ کو نقصان پہنچ رہا  ہے۔

کرونا وائرس کی اب تک متعدد اقسام سامنے آئی ہیں جنہیں مختلف نام  دیے گئے۔ برازیل میں سامنے والی قسم کو برازیل یا گاما  ویرئنٹ، جنوبی افریقہ  میں نئی قسم کو جنوبی افریقن یا بیٹا ویریئنٹ کے نام  دیے گئے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اسی طرح برطانیہ میں یو کے یا الفا ویریئنٹ کا نام دیا جبکہ بھارت  میں  سامنے آنے والی قسم کو انڈین ویریئنٹ یا ڈیلٹا کے نام سے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور خبروں میں لکھا گیا۔

ٹوئٹر صارفین آج بحث کرتے رہے کہ اسے انڈین ویرئنٹ  کہا جائے یا ڈیلٹا ویرئنٹ۔

صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی  کے بیٹے اواب علوی نے ٹویٹ کیا کہ کیا ہم بطور پاکستانی لفظ ڈیلٹا ویریئنٹ استعمال کرنے کی بجائے انڈین ویریئنٹ استعمال کر سکتے ہیں کیوں کہ یہ واضع   ہے کہ یہ قسم بھارت سے شروع ہوئی۔

اواب علی کی ٹویٹ کے جواب  میں عافیہ اسلم نے لکھا کہ ’جیسے ٹرمپ نے کووڈ 19 کو چینی وائرس کہا تھا ویسے آپ بھی کہہ سکتے ہیں کیوں کہ ٹرمپ چین کو اپنا دشمن ملک سمجھتے تھے۔‘

انہوں نے اواب علوی کو ان کے ڈاکٹر ہونے کا یاد دلاتے ہوئے سوال کیا کہ ’عالمی ادارہ صحت کی ہدایات اور بہترین طریقوں کو بھاڑ میں  ڈال دیں؟‘

علی رضا نے لکھا کہ یہاں یو کے ویریئنٹ ہے، ساؤتھ افریقن ویریئنٹ ہے، برازیلین ویریئنٹ ہے مگر جب انڈین ویرئنٹ  سامنے آیا تو  WHOنے اسے الفا، بیٹا ، گاما اور ڈیلٹا ویریئنٹ کا نام دے دیا۔

عروج سیامی نے لکھا کہ بھارتی لابی WHO اور دیگر فورمز کو انڈین ویریئنٹ کا نام ہٹانے کے لیے خط لکھ رہی ہے کیوں کہ اس سے بھارت کی ساکھ کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ یہاں تک کہ سوشل میڈیا سے انڈین ویرئنٹ  کی پوسٹس ہٹائی جا رہی  ہیں۔

رضوان احمد بٹ نے ٹویٹ کی کہ یہ ڈیلٹا ویریئنٹ نہیں  ہم اسے انڈین ویریئنٹ کہیں گے، بہادر بنیں۔

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے بھی  بھارت میں سامنے آنے والے ویریئنٹ کو انڈین ویرئنٹ  لکھا۔

ہانیہ نے اسے انڈین ویرئنٹ  کہنے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں ملکوں کے نام سے نہیں جوڑنا چاہیے کیوں اس سے نسل پرستی میں اضافہ ہوگا۔

دوسری جانب  بھارتی شہری  کرونا کی نئی قسم کو انڈین ویریئنٹ کہنے پر نالاں نظر آتے ہیں۔

سندیپ پال نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ ڈیلٹا ویریئنٹ کو انڈین ویریئنٹ نہ لکھا جائے۔

ابیشک نامی صارف نے لکھا کہ بھارت نے موجودہ وقت میں جو بیانیےکی جنگ جیتی وہ  موجودہ  ڈیلٹا ویریئنٹ کی ہے۔ دنیا میں اسے انڈین ویریئنٹ کہا جاتا تھے مگر بھارت نے مقابلہ کیا۔

کشن سونی نے لکھا کہ اگر ڈیلٹا ویریئنٹ کو انڈین ویریئنٹ کہا جاتا ہے تو پھر ہم کرونا وائرس کو چائنیز وائرس کیوں نہ کہیں؟

 

زیادہ پڑھی جانے والی ٹرینڈنگ