افغانستان میں شدید لڑائی کے باعث ہزاروں شہریوں کی نقل مکانی

جنگ تقریباً دس اہم افغان شہروں کی سرحدوں تک پہنچ چکی ہے، جس کے باعث ایک طرف مقامی افراد کی جانب سے نقل مکانی کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے تو دوسری جانب ایران نے بھی سرحد کے قریب بھاری اسلحے سے لیس اپنی افواج کو تعینات کر دیا ہے۔

کابل: افغانستان میں روز بروز جنگ کی شدت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور یہی جنگ تقریباً دس اہم افغان شہروں کی سرحدوں تک پہنچ چکی ہے، جس کے باعث ایک طرف مقامی افراد کی نقل مکانی کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے تو دوسری جانب ایران نے بھی سرحد کے قریب بھاری اسلحے سے لیس اپنی فوج تعینات کر دی ہے۔

ادھر صوبہ قندھار کے مرکزی شہر اور صوبائی دارالحکومت میں بھی شدید لڑائی جاری ہے۔

سکیورٹی کی اسی بگڑتی صورت حال کی وجہ سے بھارت نے بھی اپنا قونصل خانہ بند کر دیا ہے۔ تاہم سفارتی مشن کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ یہ ایک عارضی اقدام ہے اور قونصلیٹ دوبارہ کھلنے تک قندھار اور ملحقہ علاقوں کے لوگوں کو کابل میں بھارتی سفارتخانے سے ویزے کا اجرا کیا جائے گا۔

دوسری جانب صوبہ ہرات میں صوبائی حکومت کے ادارے ’بحالی برائے مہاجرین‘ کا کہنا ہے کہ تقریباً ڈھائی ہزار گھرانے مختلف اضلاع میں شدید لڑائی کی وجہ سے اپنے گھر بار چھوڑ کر ہرات کے مرکزی شہر منتقل ہو چکے ہیں۔

حکام کا مزید کہنا ہے کہ صوبہ بادغیس کے مختلف اضلاع سے بھی تقریباً 300 گھرانے شہر ہرات منتقل ہوئے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہ صورت حال صرف ہرات کی ہی نہیں بلکہ افغانستان کے اکثر علاقوں میں لوگ لڑائی میں شدت کے باعث نقل مکانی کرنے پر مجبور ہیں۔ ہزاروں گھرانے اپنا گھر بار چھوڑ کر بے سر و سامانی کی حالت میں اپنے خاندان کے افراد کی جان بچانے کی خاطر نامعلوم مقامات کی جانب نقل مکانی کر رہے ہیں۔

دوسری جانب افغانستان میں موجودہ حالات کے پیشِ نظر ایران نے بھی افغانستان کے ساتھ ملحقہ اپنی سرحدوں کے قریب بھاری ہتھیاروں سے لیس فوجی تعینات کر دیے ہیں۔

اس اقدام کی ایک بڑی وجہ گذشتہ ہفتے طالبان کی جانب سے افغانستان اور ایران کے درمیان صوبہ ہرات میں واقع اہم سرحدی گزر گاہ اور تجارتی مرکز اسلام قلعہ پر قبضہ ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا