کین سائنو ٹرائلز سے پاکستان نے ایک کروڑ ڈالر کیسے کمائے؟

پاکستان نے چین کی کین سائنو بائیو کی شراکت سے ایڈینو وائرس نامی ویکسین کی پیداوار شروع کر دی ہے جس سے سال کے آخر تک تقریباً 3 کروڑ ڈالر کا فائدہ ہو سکتا ہے۔

پاکستان سمیت دنیا کے سات ممالک نے چین کی شراکت سے فیز 3 ٹرائلز کا آغاز کیا تھا جن میں دنیا بھر سے 40 ہزار لوگوں کا ویکسین ٹرائل ہونا تھا (فائل فوٹو: اے ایف پی)

پاکستان نے چین میں تیار کردہ کرونا ویکسین ’کین سائنو‘ کے تیسرے مرحلے کے ٹرائلز کے دوران ایک کروڑ ڈالر کمائے ہیں۔

اس بات کا انکشاف کراچی میں ایک تقریب کے دوران نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ (این آئی ایچ) کے سربراہ میجر جنرل اکرام نے کیا ہے۔ انہوں نے اس بات کا بھی ذکر کیا ہے کہ بہت سارے ممالک اب پاکستان میں اپنی ویکسین کے ٹرائلز کرنا چاہتے ہیں اور ملکی معیشت کو اس اقدام سے فائدہ ہو سکتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے اسی اقدام کے پیش نظر چین کی کین سائنو بائیو کی شراکت سے ایڈینو وائرس نامی ویکسین کی پیداوار شروع کر دی ہے جس سے سال کے آخر تک تقریباً 3 کروڑ ڈالرز کا فائدہ ہو سکتا ہے اور دنیا کی کئی بائیو ٹیکنالوجی کمپنیز کے لیے پاکستان میں اپنے ٹرائلز بڑھانے کا راستہ ہموار ہو سکتا ہے۔ ان ممالک میں برطانیہ، کوریا، جاپان اور چین شامل ہیں۔

میجر جنرل عامر اکرام کے اس بیان کے بعد پاکستان میں سوشل میڈیا پر اس حوالے سے بحث چھڑ گئی ہے اور کچھ صارفین نے اس اقدام کو پاکستانیوں پر تجربہ کرنے سے تشبیہ دی ہے۔

ایک اور صارف کا کہنا تھا کہ پاکستانیوں پر ویکسین کے تجربے ہوتے رہے اور ان کو اس کی خبر تک نہ تھی۔

ثمینہ نامی صارف نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ فیز 3 ٹرائلز ویکسین کے آنے سے پہلے لوگوں کی اجازت سے کیے گئے اور میڈیکل سٹاف کی موجودگی بھی لازم تھی۔

ایک اورٹوئٹر صارف کا کہنا تھا کہ جو ایک کروڑ ڈالر پاکستان نے ٹرائلز کے دوران کمائے ہیں ان کو مزید ویکسین خریدنے کے لیے استعمال کیا جائے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہاں آپ کو بتاتے چلیں کہ پاکستان سمیت دنیا کے سات ممالک  نے ستمبر 2020 میں چین کی شراکت سے فیز 3 ٹرائلز کا آغاز کیا تھا جن میں دنیا بھر سے 40 ہزار افراد کا ویکسین ٹرائل ہونا تھا، آٹھ سے 10 ہزار پاکستانی بھی ان افراد میں شامل تھے۔

زیادہ پڑھی جانے والی سوشل