’طالبان کی فضائی مدد‘:پاکستان نے افغان نائب صدر کا الزام مسترد کر دیا

افغان نائب صدر امر اللہ صالح نے گذشتہ شب اپنی ٹویٹس میں پاکستانی فضائیہ پر الزام عائد کیا تھا کہ اس کی جانب سے افغان فضائیہ کو چمن سپن بولدک بارڈر کراسنگ پر طالبان کے خلاف کارروائی نہ کرنے کی تنبیہ کی گئی ہے۔

افغان نائب صدر امر اللہ صالح (فائل فوٹو: اے ایف پی)

پاکستان نے افغان نائب صدر امر اللہ صالح کے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے جس میں انہوں نے پاکستان پر طالبان کے خلاف کارروائی میں رکاوٹ بننے کا الزام عائد کیا تھا۔

پاکستانی دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستان افغانستان کے اندر کارروائی کے افغان حکومت کے حق کو تسلیم کرتا ہے۔‘

بیان کے مطابق افغان حکومت نے پاکستان کو چمن سیکٹر میں کارروائی کے حوالے سے مطلع کیا تھا جس کے جواب میں پاکستان نے مثبت جواب دیا کیونکہ افغان حکومت اپنے علاقوں میں کارروائی کا حق رکھتی ہے۔

دفتر خارجہ نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ ’سرحد کے اتنے قریب کی جانے والی کارروائی پر عمومی طور پر رضامندی ظاہر نہیں کی جاتی لیکن اس کے باوجود پاکستان نے اپنی افواج اور شہریوں کو محفوظ بنانے کے لیے ضروری اقدامات کرتے ہوئے مثبت ردعمل کا اظہار کیا۔‘

 بیان کے مطابق: ’افغانستان نائب صدر کے الزامات کے برعکس پاکستانی فضائیہ نے افغان فضائیہ کو کوئی پیغام نہیں دیا۔ ایسے الزامات افغان امن عمل کے لیے پاکستان کی حمایت اور کردار کے لیے نقصان دہ ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بیان میں مزید کہا گیا کہ پاکستان نے افغان سکیورٹی فورسز کے 40 اہلکاروں کی مدد بھی کی جو سرحد عبور کر کے پاکستان آ گئے تھے اور انہیں عزت اور احترام سے واپس روانہ کیا گیا جبکہ پاکستان نے افغان افواج کی درخواست پر لاجسٹک سپورٹ فراہم کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔

یاد رہے کہ افغان نائب صدر امر اللہ صالح نے گذشتہ شب اپنی ٹویٹس میں پاکستانی فضائیہ پر الزام عائد کیا تھا کہ اس کی جانب سے افغان فضائیہ کو چمن سپن بولدک بارڈر کراسنگ پر طالبان کے خلاف کارروائی نہ کرنے کی تنبیہ کی گئی ہے۔

افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے بعد وہاں طالبان کی جانب سے مختلف اضلاع کا کنٹرول حاصل کرنے کی اطلاعات سامنے آرہی ہیں اور چند روز قبل طالبان نے پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر واقع سپن بولدک چمن بارڈر کراسنگ پر بھی قبضہ کر لیا تھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا