افغان قیادت جان بوجھ کر تعلقات کو نقصان پہنچا رہی ہے: پاکستان

قومی سلامتی کے مشیر ڈاکٹر معید یوسف نے کہا ہے کہ افغانستان کے اعلیٰ عہدیداروں کے ’احمقانہ بیانات‘ سے خود افغانستان کی بے عزتی ہورہی ہے اور یہ عہدیدار جان بوجھ کر پاکستان کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

’افغانستان کو روزانہ اس طرح کے احمقانہ بیانات سے شرمندہ کیا جا رہا ہے، افغانوں کو یقین ہونا چاہیے کہ ہر کوئی ان غیر سنجیدہ عناصر کے مذموم ایجنڈے کو دیکھ سکتا ہے (تصویر: ٹوئٹر، معید یوسف)

قومی سلامتی کے مشیر ڈاکٹر معید یوسف نے کہا ہے کہ افغانستان کے اعلیٰ عہدیداروں کے ’احمقانہ بیانات‘ سے خود افغانستان کی بے عزتی ہورہی ہے اور یہ عہدیدار جان بوجھ کر پاکستان کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

ٹوئٹر پہ معید یوسف نے کہا کہ ’پاکستان افغانستان میں جامع سیاسی حل کی خاطر سہولت کاری جاری رکھنے کے لیے بدستور پرعزم ہے۔ اسی حوالے سے وزیراعظم عمران خان نے حال ہی میں صدر اشرف غنی سے ملاقات پر اتفاق کیا تھا۔‘

ڈاکٹر معید یوسف نے مزید کہا کہ ’چند بگاڑ پیدا کرنے والے عناصر جو بدقسمتی سے ہمارے افغان بہن بھائیوں پر بطور اعلیٰ عہدیدار کے مسلط ہیں کی جانب سے تلخ اور غلط بیان بازی مسلسل دوطرفہ تعلقات کی خرابی کی وجہ بن رہے ہیں جس کا مقصد اپنی ناکامیوں سے توجہ سے ہٹانا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’افغانستان کو روزانہ اس طرح کے احمقانہ بیانات سے شرمندہ کیا جا رہا ہے، افغانوں کو یقین ہونا چاہیے کہ ہر کوئی ان غیر سنجیدہ عناصر کے مذموم ایجنڈے کو دیکھ سکتا ہے۔‘

معید یوسف کا کہنا تھا کہ ہم افغانستان میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کے تعاون پر شرپسند عناصر کے اثرات پڑنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

دوسری جانب وزارت خارجہ پاکستان کے ترجمان نے ہندوستانی امور خارجہ (ایم ای اے) کی جانب سے دیے گئے ریمارکس کے بارے میں میڈیا سوالات کا جواب دیتے ہوئے ان کی سخت مذمت کی۔ یہ ریمارکس پاکستان میں افغانستان کے سفیر کی بیٹی سے متعلق حالیہ واقعے کے پس منظر میں تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کے خلاف بھارت کی بدنیتی پر مبنی مہم یورپین ڈس انفو لیب سمیت تمام دنیا کے علم میں ہے۔ افغان سفیر کی بیٹی کے ساتھ ہونے والے واقعے کے تناظر میں پاکستان کے خلاف بھارتی پروپیگنڈا مشینری سرگرم رہی، بھارتی ٹویٹر ہینڈلز اور ویب سائٹوں کے ذریعہ سفیر کی بیٹی کی جعلی تصویریں گردش میں لائی جا رہی تھیں۔ بدقسمتی کی بات ہے کہ بھارت نے پاکستان کے خلاف جھوٹی داستان گوئی کرنے کے لیے اس طرح کے واقعات کا استعمال کیا۔‘

ترجمان وزارت خارجہ نے بھارت سے مطالبہ کیا کہ وہ پاکستان کے خلاف اپنی مبینہ پروپیگنڈہ مہم سے باز رہے۔

ان کا کہنا تھا کہ افغان امن عمل میں بھارت کے شرپسندکردار کی طرف بھی عالمی توجہ مبذول کروائیں گے۔

یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ ہفتے تاشقند میں وسطی اور جنوبی ایشیا کے ممالک کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے منعقدہ کانفرنس میں خطاب کے دوران افغان صدر اشرف غنی کے الزامات کو مسترد کردیا تھا۔

وزیراعظم نے کہا تھا کہ کسی بھی ملک نے افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے پاکستان سے زیادہ کوششیں نہیں کیں، افغانستان میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کا الزام پاکستان پر دھرنا انتہائی ناانصافی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اسی طرح دفترخارجہ نے افغان نائب صدر امر اللہ صالح کی جانب سے لگائے گئے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس طرح کے الزامات جنگ زدہ افغانستان کے مسائل کے حل میں کردار ادا کرنے کی مخلصانہ پاکستانی کوششوں کو مجروح کررہے ہیں۔

قبل ازیں دفترخارجہ نے 17 مئی کو بھی افغان طالبان کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے پاکستان کے خلاف افغان صدر اشرف غنی کے ’غیر ذمہ دارانہ بیانات اور بے بنیاد الزامات‘ پر اپنے سنگین تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

ترجمان دفترخارجہ نے کہا تھا کہ ’پاکستان نے اسلام آباد میں افغان سفیر کو سخت احتجاج ریکارڈ کراتے ہوئے اپنے تحفظات سے آگاہ کردیا ہے۔ پاکستان نے اس بات پر زور دیا ہے کہ بے بنیاد الزامات سے اعتماد میں کمی آئے گی اور دونوں برادر ممالک کے درمیان ماحول خراب ہوگا اور افغان امن عمل کو آسان بنانے میں پاکستان کی جانب سے جو تعمیری کردار ادا کیا جا رہا ہے وہ نظرانداز ہوسکتا ہے۔‘

دوسری جانب آج وفاقی وزیر اطلاعات فوادچوہدری نے بھی افغانستان کے نائب صدر امراللہ صالح کے سقوط ڈھاکہ سے متعلق حالیہ ٹوئٹ پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

اپنی ٹوئٹ  میں فواد چوہدری نے کہا کہ افغانستان آپ جیسے دغابازوں کا نہیں بلکہ بہادر افغانوں کا ہے۔ آپ جیسےمٹھی بھرلوگوں کی افغانستان اور خطےمیں دلچسپی کم ہی ہے، آپ صرف ایک مردار خور ہیں جو وقت آنے پر محفوظ مقام منتقل ہوجائیں گے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان