طالبان کا 90 فیصد سرحدوں پر قبضے کا دعوی جھوٹ ہے: افغان حکومت

طالبان کے دعوے کے ایک دن بعد وزارت دفاع کے نائب ترجمان فواد امان نے اے ایف پی کو بتایا کہ یہ بے بنیاد پروپیگینڈا ہے۔ ان دعووں کی آزادانہ تصدیق کرنا ممکن نہیں۔

پاکستان کے سرحدی قصبے چمن میں گذشتہ دنوں افغان فورسز اور طالبان جنگجوؤں کے درمیان جھڑپوں کے بعد پھنسے ہوئے لوگ سرحد کے دوبارہ کھولنے کا انتظار کر رہے ہیں (اے ایف پی)

افعانستان کی وزارت دفاع نے جمعہ کو کہا ہے کہ طالبان کا افغانستان کی 90 فیصد سرحدوں پر کنٹرول کا دعویٰ ’سراسر جھوٹ‘ ہے اور اصرار کیا کہ سرکاری فورسز ان سرحدوں پر قابض ہیں۔

طالبان کے دعوے کے ایک دن بعد وزارت دفاع کے نائب ترجمان فواد امان نے اے ایف پی کو بتایا کہ یہ بے بنیاد پروپیگینڈا ہے۔ ان دعووں کی آزادانہ تصدیق کرنا ممکن نہیں۔

طالبان نے جمعرات کو یہ دعویٰ اس وقت کیا جب اس نے حالیہ ہفتوں میں ایران، تاجکستان، ترکمانستان اور پاکستان کے ساتھ اہم سرحدی گزرگاہوں پر قبضہ کر لیا۔

جمعہ کو فواد امان نے اصرار کیا کہ سرکاری فورسز ملک کی سرحدوں اور تمام ’اہم شہروں اور شاہراہوں‘ کا کنٹرول رکھتی  ہیں۔

وزارت داخلہ نے طالبان پر الزام لگایا کہ انہوں نے گذشتہ ہفتے سپین بلدک کراسنگ پر قبضہ کرنے کے بعد شہر میں تقریبا 100 شہریوں کو ہلاک کیا تھا۔

وزارت داخلہ کے ترجمان میراویس ستانکزئی نے ٹوئٹر پر کہا کہ افغان سکیورٹی فورسز جلد ہی اس کا انتقام لیں گی۔

امریکی فضائی حملے

امریکہ نے کہا ہے کہ اس نے افغان سکیورٹی فورسز کی مدد کے لیے حالیہ دنوں میں طالبان کے ٹھکانوں پر فضائی بمباری کی ہے۔

پینٹاگون کے ترجمان جان کربی نے کہا کہ ’گذشتہ کئی دنوں میں ہم نے اے این ڈی ایس ایف (افغان فوج) کی مدد کے لیے فضائی حملے کیے ہیں۔‘

انہوں نے پریس بریفنگ میں صحافیوں کو بتایا کہ اے این ڈی ایس ایف کی حمایت میں فضائی حملے جاری ہیں اور امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے سربراہ جنرل کینتھ میکنزی نے ان کی اجازت دی ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکہ نے ان حملوں کی تفصیل نہیں بتائی کہ کب اور کہاں کیے گئے البتہ انہوں نے وزیر دفاع لائیڈ آسٹن کے بدھ کے بیان کا اعادہ کیا کہ امریکہ ’افغان سکیورٹی فورسز اور افغان حکومت کی پیش قدمی میں مدد کے لیے پرعزم ہے۔‘

امریکی فضائیہ طویل عرصے سے افغان سکیورٹی فورسز کو طالبان کے خلاف مدد فراہم کرتی رہی ہے لیکن خدشہ ہے کہ بین الاقوامی فوجیوں کے انخلا سے یہ سلسلہ ختم ہو جائے گا۔ افغانستان کی اپنی نوزائیدہ فضائیہ بھی عسکری کارروائیوں میں حصہ لے رہی ہے۔

بدھ کو امریکی جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے چیئرمین جنرل مارک ملی نے تسلیم کیا کہ طالبان اب افغانستان کے تقریباً 400 اضلاع میں سے نصف پر کنٹرول حاصل کر چکے ہیں لیکن انہوں نے واضح کیا کہ انہوں نے گنجان آباد اہم شہروں میں سے کسی پر بھی قبضہ نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ 31 اگست تک مکمل ہونے والا امریکی انخلا 95 فیصد تک مکمل ہو چکا ہے۔

امریکی قیادت میں غیر ملکی افواج کے انخلا کے مئی سے آغاز کے بعد عسکریت پسندوں نے حکومتی فورسز کے خلاف کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔

جمعرات کو طالبان کے ترجمان نے روسی ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ ان کے گروپ نے افغانستان کی 90 فیصد سرحدوں پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ تاہم اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کی جا سکی۔

عسکریت پسند اپنے میدان جنگ کے دعوؤں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کے لیے جانے جاتے ہیں۔

قندھار

افغانستان کے ایک ٹی وی چینل نے خبر دی ہے کہ طالبان نے پاکستان کے ساتھ جنوبی سرحدی مقام سپین بولدک پر قبضے کے بعد بڑی تعداد میں مخالفین کا قتل کیا ہے۔

اس خبر کو افغانستان کے نائب صدر امر اللہ صالح نے بھی ٹویٹ کیا۔ تاہم آزاد ذرائع سے اس خبر کی تصدیق نہیں ہوسکی لیکن افغان ٹی وی چینل کے مطابق طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔

تاجکستان الرٹ

ادھر تاجکستان نے جمعرات کو ملکی تاریخ کی سب سے بڑی مشق میں اپنی مسلح افواج کی جنگی تیاریوں کا جائزہ لیا ہے۔

ہمسایہ ملک افغانستان میں طالبان کی پیش قدمی کے تناظر میں اس وسطی ایشیائی ملک کی سکیورٹی فورسز کے دو لاکھ 30 ہزار ارکان کو صدر ایمومالی رخمون کے حکم پر صبح چار بجے کو جائزے کے لیے الرٹ کیا گیا۔

 دوشنبے نے افغانستان کے ساتھ سرحد پر اپنی عسکری طاقت کو مضبوط بنانے کے لیے 20 ہزار فوجی تعینات کیے ہیں۔

طالبان نے تاجکستان کے ساتھ شیر خان بندر نامی سرحدی چوکی پر قبضے کا دعویٰ کیا ہے۔

یہ فوجی مشقیں سابق سوویت ملک کی 30 سالہ تاریخ میں اپنی نوعیت کی پہلی تھیں، جس میں تاجک فوج کے زیر استعمال تمام ہتھیاروں بشمول زمینی، ہوا بازی اور توپ خانے کی جانچ شامل تھی۔

یہ آپریشن تاجک سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر کیا گیا اور اس کا اختتام رخمون کی سربراہی میں فوجی پریڈ کے ساتھ ہوا جس میں انہوں نے تاجکوں سے مطالبہ کیا کہ وہ خطے میں امن و استحکام کے دفاع کے لیے تیار رہیں۔

رخمون نے کہا کہ ہمارے ہمسایہ ملک افغانستان خصوصاً اس کے شمالی علاقوں میں صورت حال انتہائی پیچیدہ اور غیر یقینی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دن بدن بلکہ لمحہ بہ لمحہ مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔

امریکی ویزے

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

امریکی ایوان نمائندگان نے متفقہ طور پر ایک بل کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت مزید افغان باشندوں کو ملک سے نکلنے کا موقع ملے گا۔

اس فیصلے کے تحت امریکہ کی طرف سے لے جائے جانے والے افغان باشندوں کی تعداد 8000 ہوگئی ہے۔ نئے فیصلے میں ان افراد کے اہل خانہ بھی شامل ہیں جو افغانستان میں امریکی افواج کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔

امریکی غیر سرکاری تنظیموں کے ساتھ افغان عملہ بھی اس نئے فیصلے میں شامل ہے۔

اس سے قبل سینکڑوں افغان مترجمین، ٹھیکے داروں اور ان کے اہل خانہ کو ایمرجنسی ویزے دیے گئے تھے۔ تقریباً ڈھائی ہزار افغانوں کو آئندہ چند دنوں میں ورجینیا کے فورٹ لی فوجی اڈے منتقل کیا جانا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا