’نشہ کرنے والوں کی ماں‘ کا افغانستان چھوڑنے سے انکار

کابل میں نشے کے عادی لوگوں کی مدد کرنے والی لیلیٰ حیدری سمجھتی ہیں کہ انہیں طالبان سے خطرہ ہے لیکن وہ ان کا مقابلہ کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔

لیلیٰ حیدری کے دوست احباب اور اہل خانہ نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ طالبان کی ممکنہ واپسی کا انتظار کیے بغیر افغانستان سے نکل جائیں لیکن چھت پر بیٹھ کر سگریٹ پیتی ہوئی لیلیٰ کا ایسا کوئی ارادہ نہیں۔

نشے کے عادی افراد کے لیے ایک بحالی مرکز کی بانی لیلیٰ بتاتی ہیں کہ ان کے بہت سے سماجی کارکن دوست پہلے ہی ملک چھوڑ چکے ہیں۔

’میں آسانی سے یہ سب کیسے چھوڑ دوں؟ [نشے کے عادی افراد کی ماں] یہ میری شناخت ہے۔‘

خدشات بڑھ رہے ہیں کہ افغان سکیورٹی فورسز بین الاقوامی فوج کی مدد کے بغیر طالبان کو روکنے میں ناکام ہوجائیں گی۔

لیلیٰ کے مطابق ’طالبان کے لیے منشیات کے عادی لوگ صرف مجرم ہیں جن پر مقدمہ چلا کر جیل بھیج دیا جاتا ہے، وہ انہیں بیمار نہیں سمجھتے۔‘

طالبان کے دور میں پوست کی کاشت پر پابندی عائد کردی گئی تھی لیکن 2001 میں امریکہ کی زیر قیادت حملے کے ذریعے اقتدار سے بے دخل ہونے کے بعد ہیروئن کی برآمد سے انہیں اربوں ڈالرز ملے جو ان کی شورش کو مزید ہوا دے رہے ہیں۔

پوست کی سستی اور آسان کاشت کی وجہ سے افغانستان دنیا میں ہیروئن کی 90 فیصد پیداوار کر رہا ہے۔

کرسٹل میتھ کی پیداوار میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ یہ ایفیڈرا پودے سے پیدا ہوتی ہے جو ملک میں عام اگتا ہے۔

انسداد منشیات کے ماہرین بتاتے ہیں کہ افغانستان کی تین کروڑ 40 لاکھ کی آبادی میں سے 11 فیصد منشیات استعمال کرتے ہیں، جن میں چار سے چھ فیصد سخت نشے کے عادی ہیں۔

’مدر سینٹر‘

لیلی کی پرورش ایران میں ہوئی جہاں ان کے خاندان نے پناہ حاصل کی تھی۔

ان کی شادی 12 سال کی عمر میں ایک ملا سے ہوئی۔ تاہم 10 سال بعد یہ شادی ختم ہو گئی اور ان کے تین بچے والد کی تحویل میں چلے گئے۔

افغانستان واپس آنے پر انہیں پتہ چلا کہ ان کا بھائی حکیم ہیروئن کا عادی ہوچکا ہے اور وہ اپنے جیسے دوسرے بے گھر نشے کے عادی لوگوں کے ساتھ کابل میں ایک پل کے نیچے گندی جگہ پر رہ رہا ہے۔

یہ کسی ہالی وڈ فلم کا منظر لگتا ہے لیکن انہوں نے ایسے لوگوں کو بچانے اور نشے کی لت ختم کرنے کی کوشش شروع کرتے ان کے لیے باقاعدہ ایک مرکز بنایا۔

لیلیٰ نے کہا ’جب میں نے آغاز کیا تو ایک اندازے کے مطابق ملک میں پانچ ہزار کے قریب (نشے کے عادی) لوگ تھے۔ ان میں سب سے چھوٹی عمر والے 15 سے 18 سال کے درمیان تھے۔‘

’آج اس تعداد میں صرف اضافہ ہی ہو رہا ہے اور سب سے بڑھ کر 10 سے 12 سالہ بچے اس کا شکار ہو رہے ہیں۔‘

ان کے مرکز کے پہلے مہمانوں نے پیار سے ’مدر سینٹر‘ کا نام دیا۔ وہ اب تک سینکڑوں افراد کو اس لت سے چھٹکارا دلانے میں مدد کر چکی ہیں۔

سید حسین بھی ان لوگوں میں شامل ہیں جنہیں لیلیٰ نے اس پل کے نیچے سے نکالا اور ایک نئی شروعات دینے میں مدد کی۔

لیلی کو ’میری ماں‘ کہنے والے حسین نے کہا ’جب میں ایران میں تھا تو میں نے منشیات کا استعمال شروع کیا، میں بغیر کسی فیملی کے یہاں 20 سال کی عمر میں آیا۔‘

اب وہ 33 سال کی عمر میں ایک ریستوراں میں کام کرتے ہیں، جو کرونا وبا کے باعث عارضی طور پر بند ہے۔

’کیا طالبان مجھے قبول کرسکتے ہیں‘

پیلے رنگ کے لباس میں فیروزی رنگے ہوئے ناخنوں والی لیلیٰ نوجوان تاج بیگم ریستوراں کی نگرانی کرتی ہیں۔

ایک ایسی خاتون جو اپنی گاڑی کو شہر بھر میں دوڑاتی ہیں اور اپنے دوستوں کے گانے گاتی ہیں لیکن وہ جانتی ہیں کہ انہیں خطرہ ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

حالیہ مہینوں میں اعلیٰ سطحی خواتین کو، جن میں سماجی کارکن، جج اور صحافی شامل ہیں، قتل کر دیا گیا، ان پر حملوں کا الزام امریکی اور افغان حکومت نے طالبان پر عائد کیا۔

’کیا طالبان مجھے ننگے سر، سگریٹ نوشی اور کسی شخص کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے قبول کر سکتے ہیں؟‘

انہوں نے کہا ’مجھے ماضی میں بہت ساری دھمکیاں ملیں ... اب صرف خطرہ طالبان ہی ہیں۔‘

ملک بھر میں تشدد کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ ایسے میں لیلی کو، جو پہلے ہی اپنی زندگی میں بہت سارے چیلنجوں کا سامنا کر چکی ہیں، یقین نہیں کہ کبھی ان کے ملک میں امن آئے گا۔

انہوں نے کہا کہ ‘طالبان نے 20 سال پہلے بھی لوگوں کو قتل کیا۔ وہ آج بھی اضلاع پر حملے کر رہے ہیں۔ جب وہ یہاں پہنچیں گے تو ہمیں ان سے لڑنا ہوگا۔

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا