سوات میں پھنسے ہزاروں سیاحوں پر کیا گزری؟

وادی کالام میں ہفتہ وار چھٹیوں پر آنے والے ہزاروں سیاحوں کو بدترین ٹریفک جام کا سامنا، پیٹرول ختم ہونے پر گاڑیاں سڑک کنارے چھوڑ دیں، اکثر کی رات سڑک پر گزری۔

سوات کی خوبصورت وادی کالام میں ہزاروں سیاحوں کو جمعہ، ہفتہ اور اتوار کو مینگورہ تا بحرین اور بحرین تا کالام سڑکوں پر بدترین روڈ بلاک اور ٹریفک جام کا سامنا کرنا پڑا۔

بحرین اور کالام کے درمیان فاصلہ 35 کلو میٹر ہے جسے ملک کے مختلف حصوں سے آئے سیاحوں کو طے کرنے میں 12 سے 14 گھنٹے لگ گئے۔

بعض مقامات پر صورتحال اس حد تک خراب تھی کہ لوگوں نے گاڑیوں میں پیٹرول ختم ہونے پر انہیں سڑکوں کے کنارے چھوڑ دیا اور اکثر لوگوں کی رات سڑکوں پر گزری۔

ایسے ہی سیاحوں میں کوئٹہ سے آئے ہوئے عبدالحفیظ اور ان کے دوست بھی شامل تھے۔ عبدالحفیظ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ وہ 24 گھنٹے سے یہاں پھنسے ہوئے ہیں، ٹریفک ہر پانچ یا 10 منٹ کے بعد جام ہو جاتا ہے جس کی وجہ یہاں کے پل ہیں۔‘

خیال رہے کہ کالام روڈ پر تقریباً آٹھ پل خستہ حالت میں ہیں۔ شدید ٹریفک جام ہونے کی وجہ سے بعض سیاحوں نے اپنے اس دورے کو برا تجربہ قرار دیا۔

انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرنے والے تقریباً تمام سیاحوں نے حکومت اور سوات کی ضلعی انتظامیہ کو اپنی پریشانیوں کا ذمہ دار ٹھہرایا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کوئٹہ سے آئے ایک سیاح عرفان اسلم نے غم اور غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ’یہ ناقص سسٹم ہے، آپ یقین مانیے عصر کی نماز ہم نے یہاں پر پڑی اور اس وقت رات کے 10 بج رہے ہیں آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ہم کتنے تھک گئے ہیں۔‘ 

ہفتے کو مہودند جھیل میں پشاور کے ایک شخص کے ڈوبنے پر یہاں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی تھی لیکن اس کے باوجود سیاحوں کی ایک بڑی تعداد یہاں آئی۔

سوات پولیس کے مطابق سیاحوں کی سہولت کے لیے مختلف مقامات پر پولیس اہلکار تعینات ہیں، جو ٹریفک نظام کو چلانے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہے ہیں جبکہ پولیس سکواڈ بھی سیاحوں کی مدد کررہا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا