سوات پروازوں کی بحالی: 17 سال کا انتظار 50 منٹ میں ختم ہوا

17 سال کے طویل عرصے بعد اسلام آباد سے سوات جانے والی پہلی پرواز پر انڈپینڈنٹ اردو نے کیا دیکھا؟ جانیے اس سفر کا احوال۔

روزانہ کی طرح جمعے کو بھی پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) کی پرواز پی کے 650 نے لاہور سے اسلام آباد کے لیے اڑان بھری۔ تاہم آج یہ پرواز معمول کی نہیں تھی۔

17 سال کے طویل انتظار کے بعد پہلی مرتبہ اس پرواز کی منزل اسلام آباد سے ہوتے ہوئے ضلع سوات کا سیدو شریف ایئرپورٹ تھی۔ 

اسلام آباد سے میں بھی اس پرواز کا مسافر بنا جو ایئرپورٹ پر 20 منٹ قیام کرنے کے بعد تقریباً صبح دس بجے سوات کے لیے روانہ ہوئی۔

میں اسلام آباد ایئر پورٹ کے ڈومیسٹک روانگی لاؤنج میں جب داخل ہوا تو سکیورٹی اہلکار نے میرے پاس کیمرہ اور دیگر سامان دیکھ کر اندازہ لگایا کہ یہ سوات کے سیدو شریف ایئر پورٹ کی پرواز پر ہی جا رہے ہیں۔

 

سکیورٹی اہلکار نے کہا: ’آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ سیدو شریف جانے والے مسافروں کے لیے ایئر پورٹ کے اندر خصوصی لاؤنج بنایا گیا ہے۔‘ 

یوں انہوں نے مجھے گائیڈ کردیا اور میں اس خصوصی لاؤنج میں پہنچا جہاں پر اس تاریخی پرواز کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے تھے۔

لاؤنج میں غبارے اور بینر لگائے گئے تھے جبکہ پی آئی اے اور سول ایوی ایشن اتھارٹی کا عملہ مسافروں کا منتظر تھا۔

خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ محمود خان، وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان اور وفاقی وزیر برائے کمیونیکیشن مراد سعید بھی سوات جانے کے لیے لاؤنج پہنچے۔

لاؤنج میں زیادہ تعداد سوات سے آنے والے مقامی صحافیوں کی تھی جو پہلی پرواز کی کوریج کے لیے وہاں پر موجود تھے۔

مسافروں کو جہاز میں بٹھایا گیا اور کیبن کریو نے جہاز کے اندر اعلان کیا: ’سیدو شریف جانے والے مسافروں کو خوش آمدید۔ ہم تقریباً 50 منٹ میں سیدو شریف پہنچ جائیں گے۔‘ 

سیدو شریف جانے والا یہ فوکر طیارہ اے ٹی آر-42-500 تھا، جو 2006 سے پی آئی اے کے فلیٹ کا حصہ ہے۔ اس میں 48 مسافروں کی گنجائش ہے۔ 

یہ طیارہ گلگت، چترال، سکردو اور لاہور سے اسلام آباد کی پروازوں کے لیے پہلے سے زیر استعمال ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مجھے بین الاقوامی پروازوں پر بڑے طیاروں میں سفر کا تجربہ تو تھا لیکن فوکر طیارے میں پانچویں مرتبہ سفر کر رہا تھا۔ تاہم جہاز میں سوات کا یہ میرا پہلا سفر تھا۔

ہر بار چھوٹے سائز کے طیارے میں سفر کر کے دل میں خوف ضرور ہوتا ہے۔ پر خوشی اس بات کی تھی کہ ہوا کا دباؤ بالکل نارمل تھا اور جہاز میں دوران  سفر کسی قسم کی ٹربولنس محسوس نہیں ہوئی۔

دیگر مسافر بہت خوش اور پرجوش تھے اور وقفے وقفے سے حکومت اور جہاز میں سوار خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ کے لیے تالیاں بجا رہے۔

ضلع بونیر سے تعلق رکھنے والے محمد سبحان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ جب انہیں پتہ چلا کہ سوات کی پروازیں بحال ہو رہی ہیں تو انہوں نے ٹکٹ خرید لیا۔

سبحان نے بتایا: ’میں چاہتا تھا کہ 17 سال بعد آنے والی اس تاریخی پرواز میں سفر کر سکوں۔‘ 

انہوں نے بتایا کہ ایئر پورٹ کی بحالی سے کاروباری طبقے کو بہت زیادہ سہولت ہوگی کیونکہ گاڑی میں لاہور یا اسلام آباد سے آنے میں ان کا بہت وقت ضائع ہوتا ہے۔

 

طیارہ جب سوات ایئر پورٹ پر پہنچ گیا تو مقامی صحافیوں کی بڑی تعداد ایئر پورٹ میں موجود تھی۔

 اس کے ساتھ ساتھ 17 سال بعد پہلی پرواز سے آنے والے مسافروں کا ایئر پورٹ عملے کی جانب سے بھرپور استقبال بھی کیا گیا۔

سوات کے علاقے کانجو میں واقع ایئر پورٹ 1978 میں پروازوں کے لیے بحال کیا گیا تھا اور تب سے لے کر 2006 تک ڈومیسٹک پروازیں چلتی تھیں۔

یہ پروازیں زیادہ تر بیرون ملک رہنے والے سوات کے رہائشی استعمال کرتے تھے جب وہ بیرون ملک سے آکر اسلام آباد یا پشاور اترتے تھے اور وہاں سے سوات آتے تھے۔ 

سوات میں 2006 سے شروع ہونے والی شدت پسندی کی لہر کی وجہ سے اس ایئر پورٹ کو بند کرنا پڑا تھا۔ 

اس ایئر پورٹ پر پروزوں کی بحالی کا ایک تجربہ 2012 میں بھی کیا گیا تھا اور ایک پرواز اسی ایئر پورٹ پہنچی تھی لیکن بعد میں نا گزیر وجوہات کی بنا پر پروازیں بحال نہ ہو سکیں۔

پی آئی اے کے ترجمان عبداللہ حفیظ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ سوات تک پروازیں بحال کرنے کا بنیادی مقصد سیاحت کو فروغ دینا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سوات کے لیے لاہور سے براستہ اسلام آباد ہفتے میں دو پروازیں پیر اور جمعے کو چلیں گی تاکہ اگر کوئی سیاح آنا چاہے تو وہ چھٹی کے دن آ سکیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان