خیبر پختونخوا میں سیاحت کے فروغ کے لیے کیا کیا جائے؟

خیبر پختونخوا میں درجنوں ایسے مقامات ہیں جنہیں سیاحت کے لیے کھولا جائے تو ملکی ثقافت کے فروغ کے علاوہ بیرونی سرمایہ کاری ہو گی اور روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔

صوبے میں متعدد مقامات ایسے ہیں جو تاحال سیاحوں کی نظروں سے اوجھل ہیں، انہی میں سے ایک ضلع مانسہرہ کے مختلف علاقے بھی ہیں (انڈپینڈنٹ اردو)

قدرتی حسن سے مالا مال خیبر پختونخوا کے شمالی علاقہ جات دنیا بھر سے سیاحوں کی توجہ کا مرکز رہے ہیں، لیکن یہ جنت نظیر وادیاں ابھی تک حکومت کی توجہ کے منتظر ہیں۔

ماہرین کے مطابق اگر حکومتی سرپرستی میں بعض اقدامات کر لیے جائیں تو یہ علاقے دنیا کے بہترین سیا حتی مراکز بن سکتے ہیں۔ ذیل میں ایسے ہی چند ضروری اقدامات پر ایک نظر ڈالی جا رہی ہے۔ 

مربوط سیاحتی مراکز کا قیام

خیبر پختونخوا میں سیاحت کے بے پناہ مواقع ہیں۔ اسی بات کا ادراک کرتے ہوئے حکومت نے انٹیگریٹڈ ٹورزم زونز (آئی ٹی ذیز) یا مربوط سیاحتی مراکز کے قیام کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت سوات میں منکیال، چترال میں مدکلاش، ایبٹ آباد میں ٹھنڈیانی اور مانسہرہ میں گنول کے مقام پربین الاقوامی معیار کے سیاحتی مراکز قائم کیے جا رہے ہیں۔ محکمہ سیاحت خیبر پختونخوا کے ایڈیشنل سیکریٹری ڈاکٹر جنید خان کے مطابق اس وقت چار مختلف پراجیکٹس پر کام کا آغاز ہو چکا ہے۔

اسی پروگرام کے تحت دیر بالا میں کمراٹ، دیر پائیں میں بن شاہی، سکائی لینڈ اور لڑم ٹاپ کے علاوہ الائی، بٹگرام اور شانگلہ میں بھی سیاحتی مراکز قائم کیے جائیں گے۔ ڈاکٹر جنید خان کا کہنا ہے کہ نئے ضم شدہ اضلاع میں تین ارب روپے کی خطیر رقم سے ضلع خیبر میں وادی تیراہ، مچھنی، باجوڑ، مہمند، کرم، اورکزئی، شمالی اور جنوبی وزیرستان میں بھی سیاحتی مراکز بن رہے ہیں۔ اسی طرح کوہ سلیمان اور بنوں، ڈیرہ اسمٰعیل خان کے سنگم پر واقع شیخ بدین میں بھی سیاحتی مراکز کا قیام حکومتی ترجیحات میں شامل ہیں۔

ضلع خیبر کے صحافی فرہاد خان کا کہنا ہے کہ قبائلی علاقہ جات کا خوشگوار موسم، قدیم ثقافتی ورثے، الگ رسم و رواج اور یہاں کی مہمان نوازی بین الاقوامی سیاحوں کی خصوصی توجہ کا مرکز ہو گی۔

ثقافتی میلے

 شمالی علاقی جات میں ہر سال شیندور میلہ، بروغل، کمراٹ اورڈیرہ جات میں مختلف قسم کے ثقافتی میلوں کا انعقاد کیا جاتا ہے جنہیں دیکھنے ہزراوں سیاح آتے ہیں۔ کالام میں مہو ڈنڈ، اوشو اور لدو میں بھی اس قسم کے میلوں کا انعقاد کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرز پر نوجوانوں کے لیے مختلف قسم کے سپورٹس فیسٹیولز اور یوتھ کارنیول کا انعقاد کیا جا سکتا ہے جس سے نہ صرف نوجوانوں کو ایک صحت مند تفریح میسر ہو سکے گی بلکہ ان کی ذہنی نشوونما کے ساتھ ساتھ ان کے اندر مثبت سوچ کو پروان چڑھایا جا سکتا ہے۔

شمال میں قدرتی حسن سے مالامال ترچ میر اور فلک سیر کی فلک بوس پہاڑیاں بین الاقوامی کوہ پیماؤں کے لیے خصوصی دلکشی کا باعث ہیں۔ سیاحت کی صنعت سے جڑے ماہرین کا خیال ہے کہ آسمان سے باتیں کرتی ان پہاڑوں کی سنگلاخ چٹانوں میں بنجی جمپنگ، روپ کلائمنگ، زیپ لائننگ، واٹر رافٹنگ اور کینوئنگ پر تھوڑی سی حکومتی توجہ کے ساتھ ایڈونچر ٹورزم کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اسی کے ساتھ ساتھ چھوٹے چھوٹے ڈیموں پر واٹر سپورٹس کو سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنایا جاسکتا ہے۔ کوہاٹ، صوابی، نوشہرہ اور ہری پور میں میں موجود چھوٹے چھوٹے ڈیم اس مقصد کے لیے بہترین سائٹس ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح تربیلہ اور ورسک ڈیمزپر بین الاقوامی طرز کے دلکش واٹر سپورٹس فیسٹیول منعقد کیے جا سکتے ہیں۔

پہاڑون کے دامن میں واقع چترال پوری دنیا میں اپنی الگ ثقافت کے لیے مشہور ہے۔ یہاں پر ہر سال پولو اور فٹ بال ٹورنامنٹوں کا اہتمام ہوتا ہے۔ یہاں منعقد ہونے والے شیندور، بروغل اور کیلاش فیسٹیول میں دنیا بھر سے ہر سال ہزاروں سیاح وادی چترال کا رخ کرتے ہیں۔ ڈاکٹر جنید کے مطابق یہاں 20 مختلف پولو گراونڈز کی تزئین و آرائش کا کام شروع ہے۔ یہاں پر مدکلاش میں مالم جبہ اور نلتر کے پٹرن پر سکی ریزارٹس کے قیام کا بھی اہتمام کیا جا رہا ہے۔

روزگار کے نئے مواقع

ان مقامات پر سیاحت کو فروع دینے سے ایک طرف نہ صرف مقامی ثقافت کو بین الاقوامی سطح پر متعارف کیا جاسکے گا بلکہ بیرونی سرمایہ کاری بھی ہو گی اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ رابطہ سڑکوں کے جال سے جہاں آمد ورفت اور ایک جگہ سے دوسری جگہ اشیا کی ترسیل میں آسانی ہو گی وہاں نئی مارکیٹیں اور تجارتی منڈیاں بھی وجود میں آئیں گی اورروزگار کے مواقع بڑھیں گے۔

نئے سیاحتی مقامات کے قیام سے نئے ہوٹل، ریستوران بنیں گے، ریسٹ ایریاز، سہولتی مراکز قائم ہوں گے اور ان سے وابستہ ٹور گائیڈز، ٹریول ایجنٹس اور ٹور آپریٹرز کی بے شمار ملازمتوں کے مواقع وجود میں آئیں گے۔

خستہ خال سڑکیں، سہولیات کا فقدان

حکومت نے صوبے میں سیاحت کو فروغ دینے کے لیے 20 مختلف مقامات کی نشاندہی کی ہے لیکن بدقسمتی سے ان سیاحتی مراکز کی طرف جانے والے بیشتر سڑکوں کی حالت ناگفتہ بہ ہے اور اکثر اوقات سیاحوں کو گاڑی سے اتر کر پیدال چلنا پڑتا ہے۔

حکومت نے ہزارہ، مالاکنڈ اور جنوبی اضلاع خصوصاً شیخ بدین میں دس ارب روپے کے خطیر رقم سے شاہراہوں اور رابطہ سڑکوں کے 14 مختلف پراجیکٹس کی منظوری دی ہے۔ چترال میں ورلڈ بینک کی مدد سے 44 کلومیٹر لمبی سڑک کی تعمیر کا کام جاری ہے۔ اپر چترال میں گلگت کی طرف سی پیک کا متبادل روٹ شیندور سے ہوتا ہوا غذر کی طرف لایا جا رہا ہے۔

سپرٹ ویلی کوہستان پر سڑک بنائی جا رہی ہے، جب کہ ہزارہ موٹر وے کے ساتھ ساتھ سوات موٹر وے کا فیز ٹو ایکسٹنشن بھی منظور ہو چکا ہے۔

اگر یہ سارے منصوبے بروقت مکمل ہو جاتے ہیں تو یہ یقیناً سیاحت کے فروغ میں اہم سنگ میل ثابت ہو گے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ حکومت کو ان علاقوں میں سیوریج کا نظام بہتر بنانے اور گندگی کو ٹھکانے لگانے کے لیے موثر نظام لانا ہو گا تاکہ ان جنت نظیر وادیوں کو ہر قسم کی ماحولیاتی آلودگیوں سے پاک کر کے بین الاقوامی سیاحوں کے لیے پر سکون ماحول میں دلکشی کا وہ ساراسامان فراہم کیا جا سکے جس کی انہیں تلاش ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ