میں نروس ہوں لیکن اچھی پرفارمنس کے لیے پرعزم بھی: حسیب طارق

ٹوکیو اولمپکس کے سوئمنگ مقابلوں میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے حسیب کہتے ہیں کہ میڈل جیتنا مشکل ہے لیکن کھلاڑی کبھی امید نہیں چھوڑتے۔

’میڈل جیتنا مشکل بات ہے لیکن چونکہ میں ایک کھلاڑی ہوں تو ہم کبھی امید نہیں چھوڑتے کہ ہمیں میڈل نہیں ملے گا۔ انشاء اللہ میں اپنی پوری کوشش کروں گا کہ پاکستان کے لیے میڈل لاسکوں۔‘

یہ کہنا تھا 25 سالہ حسیب طارق کا جو ٹوکیو اولمپکس 2020 میں تیراکی کے مقابلوں میں پاکستانی پرچم بلند کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔

حسیب سو میٹر فری سٹائل مقابلوں میں 27 جولائی کو پاکستان کی نمائندگی کریں گے، جس کے لیے وہ گذشتہ تین مہینے سے پاکستان اور اس سے قبل کینیڈا میں ٹریننگ کر رہے تھے۔

تیراکی حسیب کا جنون ہے۔ انہوں نے بتایا: ’میں 14 سال کا تھا، جب میں نے سوئمنگ شروع کی۔ میرے بھائی قومی سطح پر سوئمنگ کرتے تھے، جنہیں دیکھ کر میں اس فیلڈ میں آیا اور سوئمنگ شروع کی اور اللہ نے مجھے موقع دیا کہ میں پاکستان کی نمائندگی کرسکوں۔‘

اولمپکس جیسے عالمی ایونٹ میں شرکت کرنے والا ہر کھلاڑی کچھ حد تک دباؤ ضرور محسوس کرتا ہے۔

حسیب کو بھی ایسی ہی صورت حال درپیش ہے لیکن انہوں نے بتایا: ’میں نروس ہوں لیکن پرجوش بھی ہوں اور ساتھ ہی پرعزم بھی کہ میں اولمپکس میں اچھی سے اچھی پرفامنس دے سکوں۔‘

حسیب اس سے قبل کئی بڑے مقابلوں میں حصہ لے چکے ہیں۔ فروری 2016 میں بھارت کے شہر گوہاٹی میں منعقدہ ساؤتھ ایشین گیمز میں انہوں نے 100 میٹر مقابلے میں کانسی کا تمغہ جیتا تھا۔

انہوں نے 2017 میں آذربائیجان کے شہر باکو میں منعقدہ اسلامک سولیڈیریٹی گیمز اور گولڈ کوسٹ آسٹریلیا میں منعقدہ کامن ویلتھ گیمز میں بھی پاکستان کی نمائندگی کی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’مجھے پتہ ہے کہ کھیل کے دوران کیا پریشر ہوتا ہے اور کیا توقعات ہوتی ہیں۔ امید ہے کہ میں پاکستان کے لیے بہتر سے بہتر کھیل سکوں۔‘

حسیب 50 میٹر، 100 میٹر اور 200 میٹر فری سٹائل، 50 اور 100 میٹر بیک سٹروک اور 50 میٹر بٹر فلائی کے تیراکی مقابلوں میں حصہ لیتے رہے ہیں۔

حسیب کو اپنے اہل خانہ کی طرف سے کبھی کسی قسم کے منفی ردعمل کا سامنا نہیں کرنا پڑا اور ان کی فیملی نے ہمیشہ ان کی حوصلہ افزائی کی لیکن وہ پاکستان میں ٹریننگ کی سہولیات کے حوالے سے کافی فکرمند ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ اگر ملک کے بڑے شہروں خصوصاً کراچی میں سوئمنگ پولز ہوں، جہاں نوجوان ٹریننگ کرسکیں تو کئی بہترین کھلاڑی سامنے آسکتے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی کھیل