ٹوکیو اولمپکس کے لیے روزانہ سات گھنٹے پریکٹس کی: ماحُور شہزاد

پاکستان بیڈمنٹن کی تاریخ میں پہلی بار اولمپکس میں حصہ لینے والی ماحُور کہتی ہیں کہ ان کی ہمیشہ خواہش رہی کہ ان کے نام کے آگے اولمپئن لکھا ہو۔

 ماحُور شہزاد گذشتہ پانچ سال سے پاکستان کی نمبر ون بیڈمنٹن کھلاڑی ہیں (ماحور شہزاد)

ٹوکیو اولمپکس میں وائلڈ کارڈ انٹری پر منتخب ہونے والی پاکستان کی تاریخ میں پہلی بیڈ منٹن کھلاڑی اور قومی چیمپیئن ماحُور شہزاد کہتی ہیں کہ اولپمکس کے لیے انہوں نے روزانہ چھ سے سات گھنٹے اور ہفتے میں چھ دن پریکٹس کی۔  

انڈپینڈنڈنٹ اردو سے خصوصی گفتگو میں ماحُور نے کہا: ’میری ہمیشہ سے خواہش رہی کہ میرے نام کے آگے اولمپئن لکھا ہو۔ اس کے لیے میں نے بہت محنت بھی کی۔

’جب مجھے پتہ چلا کہ میں اولمپکس میں پاکستان کی نمائندگی کروں گی تو میں بہت زیادہ خوش ہوئی کیوں کہ جب آپ تین چار سال سے کسی چیز کے لیے محنت کر رہے ہوں اور وہ اب پوری ہونے جا رہی ہے تو مجھے بہت زیادہ خوشی ہوئی‘۔  

پاکستان بیڈمنٹن کی تاریخ میں وہ پہلی پاکستانی کھلاڑی ہوں گی جو اولمپکس گیمز میں بیڈمنٹن کے انفرادی مقابلوں شرکت کریں گی۔ 

پاکستان اولپمکس ایسوسی ایشن نے انہیں گذشتہ سال ٹوکیو اولمپکس کے لیے منتخب کیا تھا مگر کرونا وبا کے باعث یہ مقابلے منسوخ ہوگئے تھے اور دوبارہ اس سال ہو رہے ہیں۔  

23 جولائی سے آٹھ اگست تک جاپان کے شہر ٹوکیو میں منعقد ہونے والے اولمپکس مقابلوں کے چھ مختلف کھیلوں کے نو ایونٹس میں شرکت کرنے کے لیے پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن نے پاکستان کے 10 کھلاڑیوں کے ناموں کا اعلان کیا تھا۔ 

پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے اعلامیے کے مطابق ارشد ندیم اور نجمہ پروین ایتھلیٹکس، ماحُور شہزاد بیڈمنٹن، شاہ حسین شاہ جوڈو، بسمہ خان اور حسیب طارق سوئمنگ، طلحہ طالب ویٹ لیفٹنگ میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔ اسی طرح گلفام جوزف، غلام مصطفیٰ بشیر اور خلیل اختر پر مشتمل تین رکنی ٹیم شوٹنگ کے دو مقابلوں میں حصہ لے گی۔ 

بیڈمنٹن ورلڈ فیڈریشن نے جولائی 2019 میں کھلاڑیوں کی رینکنگ میں ماحُور کو ٹاپ 150 کھلاڑیوں میں شامل کیا تھا۔

24 سالہ نیشنل بیڈمنٹن چیمپیئن ماحُور گذشتہ پانچ سال سے پاکستان کی نمبر ون بیڈمنٹن کھلاڑی ہیں۔ 

ماحُور کے مطابق: ’جب میں 11 سال کی تھی تو تفریح کے لیے اپنی بہن کے ساتھ گلی میں بیڈمنٹن کھیلنا شروع کیا۔ بعد میں والد نے کراچی کے سن سیٹ کلب میں داخل کرایا جہاں صبح میں والد ٹریننگ کراتے جبکہ شام میں کوچ ٹریننگ دیتے‘۔  

انہوں نے 12 سال کی عمر سے باضابطہ بیڈمنٹن کھیلنا شروع کیا۔ جب وہ 13 سال کی تھیں تو انڈر 19 بیڈمنٹن چیمپیئن بنیں۔

 

19 سال کی عمر میں وہ پاکستان کی نمبر ون بیڈمنٹن کھلاڑی بنیں پھر ایک سال بعد وہ پاکستان کی نیشنل بیڈمنٹن چیمپیئن بن گئیں۔ 

انہوں نے 2014  میں کوریا میں ہونے والے ایشین گیمز میں پاکستان کی نمائندگی کی۔ 2015 اور 2016 میں آل پاکستان رینکنگ بیڈمنٹن ٹورنامنٹ کے خواتین سنگلز مقابلے جیتے۔

2015 اور 2016 میں نیشنل بیڈمنٹن چیمپیئن شپ میں دوسری پوزیشن پر رہنے کے بعد انہوں نے 2017 میں یہ ٹائٹل اپنے نام کیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’اولمپکس دنیا میں سپورٹس کا سب سے بڑا ایونٹ ہے جہاں دنیا بھر کے ٹاپ کھلاڑی کھیل رہے ہوتے ہیں۔ میری پوری کوشش ہوگی کہ دنیا کے بہترین کھلاڑیوں کے مدمقابل اپنی بہترین پرفارمنس دوں اور اپنے ملک کا نام روشن کروں۔‘  

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ایک غلط فہمی ہے کہ جو لوگ کھیلوں میں بہتر ہوتے ہیں، وہ پڑھائی میں اچھے نہیں ہوتے اور جو پڑھائی میں بہتر ہوتے ہیں ان کی کھیل میں کارکردگی اچھی نہیں، ایسا بلکہ بھی نہیں۔

انہوں نے نوجوانوں کو صلاح دی کہ وہ پڑھائی اور کھیل دونوں کو وقت دیں اور دونوں میں اپنی کارکردگی بہتر بنائیں۔

بیڈمنٹن میں اپنی قوت کے متعلق انہوں نے کہا کہ کورٹ میں ان کی کارکردگی بہت اچھی ہے، وہ کسی سٹروک کو مس نہیں کرتیں اور ان کے اپنے سٹروک بھی طاقت ور ہوتے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی کھیل