ڈوپنگ قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے 18 ایتھلیٹس پر پابندی

نائیجیریا کے 10 کھلاڑیوں سمیت 18 ایتھلیٹس ڈوپ ٹیسٹ میں ناکامی کے بعد ٹوکیو اولمپکس سے باہر ہو گئے جب کہ مزید تین غیر ملکی کھلاڑیوں میں کرونا کی تصدیق ہوئی ہے۔

نائیجیریا کے جارڈن نورا ٹوکیو اولمپکس میں مردوں کے باسکٹ بال گروپ بی کے ابتدائی راؤنڈ میں جرمنی کیخلاف میچ میں گیند کو باسکٹ کررہے ہیں (اے ایف پی)

نائیجیریا کے 10 کھلاڑیوں سمیت 18 ایتھلیٹس ڈوپ ٹیسٹ میں ناکامی کے بعد ٹوکیو اولمپکس سے باہر ہو گئے جب کہ مزید تین غیر ملکی کھلاڑیوں میں کرونا کی تصدیق ہوئی ہے۔

ورلڈ ایتھلیٹکس کی اینٹی ڈوپنگ باڈی نے اس بات کا اعلان جمعرات کو کیا جس کے مطابق نائیجیریا کے علاوہ ’ہائی رسک‘ لسٹ میں شامل ممالک کے 18 کھلاڑی ممنوعہ ادویات کے ٹیسٹ میں ناکام رہے جس کے بعد انہیں اس میگا ایونٹ کے مقابلوں میں شرکت سے روک دیا گیا ہے۔ 

خبر رساں ادارے  اے ایف پی کے مطابق ’ایتھلیٹکس انٹیگریٹی یونٹ‘ (اے آئی یو) کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ متعلقہ ایتھلیٹس 2019 میں متعارف کرائے گئے قواعد پر پورا اترنے میں ناکام رہے ہیں، ان قواعد کے تحت ڈوپنگ کے حوالے سے سب سے زیادہ خطرے کا سامنا کرنے والے ممالک جن کو ’کیٹیگری اے‘ میں رکھا گیا ہے، کے کھلاڑیوں کا ایونٹ شروع ہونے سے 10 ماہ قبل بغیر نوٹس کے کسی بھی وقت ڈوپ ٹیسٹ لیا جا سکتا ہے۔

اے آئی یو نے کہا کہ ڈوپنگ کے تناظر میں کینیا کی سپورٹس فیڈریشن نے اپنے دو کھلاڑیوں کو انٹری سے قبل ہی تبدیل کر دیا تھا۔

نائیجیریا کے دس کھلاڑیوں کے ساتھ اس پابندی کا سامنا کرنے والے دیگر ممالک میں بیلاروس کے تین ایتھلیٹ، ایتھوپیا کا ایک، کینیا کے دو، مراکش کا ایک اور یوکرین کے تین ایتھلیٹ شامل ہیں۔

نائیجیریا اس حوالے سے سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہے جس کے ٹوکیو اولمپکس میں نمائندگی کرنے والے 23 میں سے 10 کھلاڑی نااہل قرار پائے ہیں۔

اس معاملے سے واقف ایک ذرائع نے  اے ایف پی کو بتایا کہ پابندی کا سامنا کرنے والے نائیجیریا کے 10 ایتھلیٹس میں لانگ جمپنگ کی ورلڈ چیمپیئن اور اولمپلکس میڈل جیتنے والی بلیسنگ اوکاگبرے شامل نہیں ہیں۔ اوکاگبرے سے اس بار بھی اولمپکس میڈل جیتنے کی امید کی جا رہی ہے۔

یہ فوری طور پر واضح نہیں ہوا کہ آیا  اے آئی یو کے فیصلے سے متاثرہ کھلاڑی کھیلوں میں حصہ لینے لے لیے جاپان پہنچ چکے تھے یا نہیں۔

آسٹریلوی کھلاڑی آئسولیٹ ہوگئے

دوسری جانب امریکی ٹیم کے کھلاڑی سیم کینڈریکس کا کرونا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد آسٹریلیا کی اولمپک ٹریک اور فیلڈ ٹیم کے متعدد ارکان کو جمعرات کے روز آئسولیشن میں رکھا گیا ہے۔

ملک کی کھیلوں کی تنظیم ’ایتھلیٹکس آسٹریلیا‘ نے اپنے ایک بیان میں بتایا: ’ٹوکیو اولمپکس میں آسٹریلیا کی نمائندگی کرنے والی ٹریک اینڈ فیلڈ ٹیم کے تمام ممبران کو امریکی ٹیم میں ایک کرونا کیس رپورٹ ہونے کے بعد احتیاطی اقدام کے طور پر اپنے کمروں میں آئسولیٹ کر دیا گیا ہے۔‘

بیان میں مزید کہا گیا کہ ’آسٹریلین ٹریک اینڈ فیلڈ ٹیم کے ارکان ملکی پروٹوکول کے مطابق ٹیسٹنگ کے طریقہ کار سے گزر رہے ہیں۔‘

یہ پیشرفت امریکی اولمپک چیف کے بیان کے فوری بعد سامنے آئی ہے جس میں بتایا گیا تھا کہ سیم کینڈریکس کرونا کا مثبت ٹیسٹ آنے کے بعد اولمپکس سے باہر ہوگئے ہیں۔
دو روز قبل آسٹریلوی ٹیم نے امریکی ٹیم کا سامنا کیا تھا۔

اولمپکس میں شریک دو غیر ملکی اسپتال منتقل

علاوہ ازیں برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق ٹوکیو اولمپکس کے ترجمان نے جمعرات کو انکشاف کیا ہے کہ کرونا سے متاثرہ دو غیر ملکی افراد جو اولمپکس میں شریک تھے، انہیں ہسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔
تاہم اولمپکس ترجمان ماسا تاکیا نے بتایا کہ دونوں کیسز کی نوعیت سنگین نہیں ہے جب کہ ہسپتال میں داخل تیسرے فرد کو پہلے ہی ڈسچارج کیا جا چکا ہے۔

ترجمان نے ان تین افراد کی شناختے ظاہر نہیں کی البتہ یہ بتایا کہ جمعرات کو تین کھلاڑیوں سمیت 24 نئے کرونا کیسز سامنے آئے ہیں جس کے بعد یکم جولائی سے اب تک اولمپکس سے وابستہ افراد میں کرونا مثبت کیسز کی تعداد 193 ہوگئی ہے۔

23 جولائی سے 8 اگست تک جاری رہنے والے دنیائے کھیل کے اس سب سے بڑے ایونٹ میں کرونا کے حوالے سے سخت قواعد نافذ ہیں جہاں مثبت کیسز کو الگ تھلگ کیا جا رہا ہے۔

میڈل ٹیبل

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جمعرات 29 جولائی کو اب تک ہونے والے مقابلوں کے بعد میڈل ٹیبل کی تازہ ترین پوزیشن کے مطابق چین 14 طلائی، چھ چاندی اور نو کانسی کے تمغوں کے ساتھ مجموعی طور پر 29 تمغوں کے ساتھ پہلے نمبر پر براجمان ہے۔

اس کے علاوہ امریکہ اور جاپان 13، 13 طلائی تمغوں کے ساتھ بالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر موجود ہیں۔ حالانکہ امریکا کے مجموعی تمغوں کی تعداد 37 ہے لیکن گولڈ میڈلز کے اعتبار سے چین سر فہرست ہے۔

پاکستان اس ٹیبل پر سب سے نچلے ممالک میں شامل ہے جو ابھی تک کوئی میڈل جیتنے میں ناکام ہے اور اس کے زیادہ تر کھلاڑی ایونٹ سے باہر ہوگئے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی کھیل