اچھے عیسیٰ ہو مریضوں کا خیال اچھا ہے!

خیبر پختونخوا کے مختلف ہسپتالوں میں دوردراز سے آئے ہوئے مریضوں نے ڈیرہ ڈال رکھا ہے، جنہیں نہ کسی ہڑتال کا علم ہے اور نہ ہی یہ سمجھ بوجھ کہ آخر انہیں کیوں گھنٹوں انتظار کروایا جا رہا ہے۔

کینسر کی مریضہ آسیہ اپنے والد کے ہمراہ حیات  آباد میڈیکل کمپلیکس کے لاؤنج میں موجود (انڈپینڈنٹ اردو)

18 سالہ آسیہ بی بی کینسر کے مرض میں مبتلا ہیں اور گذشتہ سات روز سے پشاور کے حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں اپنے والد کے ہمراہ سارا سارا دن لاؤنج میں ڈاکٹر کا انتظار کرتی رہتی ہیں۔

’ہم رات کبھی ہوٹل تو کبھی ہسپتال کے لان میں گزار دیتے ہیں۔ دِیر جانے اور پھر واپس آنے کی طاقت اور استطاعت نہیں ہے ہماری۔ اچھا ہے یہیں ڈاکٹر کا انتظار کرتے رہیں۔‘

آسیہ کے والد نے اپنی بیٹی کی فائل مجھے پکڑاتے ہوئے کہا: ’آپ تو ڈاکٹر ہیں آپ خود دیکھ لیں کیا لکھا ہے۔‘

جس پر میں نے جلدی سے کہا: ’نہیں میں ڈاکٹر نہیں ہوں، میں تو صحافی ہوں۔ آپ پر جو بِیت رہی ہے میں اُس بارے میں لکھوں گی۔ کیا پتہ ہماری رپورٹ کے بعد حالات نارمل ہو جائیں اور آپ کی بیٹی کا علاج بھی جلدی شروع ہو جائے۔‘

دونوں باپ بیٹی  فوراً یوں سر ہلانے لگے جیسے میری بات ان کو بہت اچھی لگی ہو۔

آسیہ بھی ان مریضوں میں سے ایک ہیں، جو خیبرپختونخوا میں ڈاکٹروں کی کئی روزہ ہڑتال کے باعث متاثر ہوئی ہیں۔

یاد رہے کہ چند روز قبل خیبر پختونخوا کے وزیر صحت  ڈاکٹر ہشام انعام اللہ کی جانب سے ڈاکٹر ضیاء الدین پر مبینہ تشدد کی خبروں کے بعد صوبے بھر میں ڈاکٹروں نے احتجاج کے طور پر ماسوائے ایمرجنسی کے تمام او پی ڈیز بند رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ دوسری جانب حکومت کی جانب سے ڈاکٹروں کے ان کے آبائی اضلاع میں تبادلوں کے فیصلے پر بھی ڈاکٹر تشویش کا شکار ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

آسیہ کے مطابق ان کے پیٹ میں بہت بڑی رسولی تھی، جسے چند ہفتے قبل گاؤں کے ایک ہسپتال میں آپریشن کرکے نکالا گیا۔ بعد میں ٹیسٹ سے معلوم ہوا کہ ان کو کینسر ہے۔ ڈاکٹر نے انہیں فوری طور پر علاج کے لیے شوکت خانم جانے کا مشورہ دیا۔ تاہم شوکت خانم والوں نے انہیں یہ کہہ کر داخل کرنے سے انکار کر دیا کہ وہاں اُن مریضوں کا علاج نہیں کیا جاتا جن کا کسی اور ہسپتال میں آپریشن ہوا ہو۔

آسیہ نے بتایا کہ ’اس کے بعد ہم حیات آباد میڈیکل کمپلیکس آئے کیونکہ ہمیں بتایا گیا ہے کہ جتنی جلدی ممکن ہو علاج شروع کیا جائے- مجھے آپریشن کے بعد اٹھنے بیٹھنے اور چلنے پھرنے میں بہت دشواری ہوتی ہے۔ دن کے وقت نیند آتی ہے تو کسی کونے میں جاکر دیگر خواتین کے ساتھ فرش پر لیٹ جاتی ہوں۔‘

اس ہسپتال کے مختلف لاؤنجوں اور کوریڈورز میں دور دراز کے علاقوں سے آئی ہوئی دیگر خواتین بھی موجود تھیں، جن کو نہ کسی ہڑتال کا علم تھا اور نہ ہی یہ سمجھ بوجھ کہ آخر انہیں کیوں گھنٹوں انتظار کروایا جا رہا ہے۔ نہ ہی ان سے یہ فیصلہ ہو پا رہا تھا کہ اب انہیں واپس گھر چلے جانا چاہیے۔

کئی مریض اور ان کے خاندان والے رات ہسپتال کے لان میں گزارتے ہیں اور دن کے وقت لاؤنج میں پنکھے کے نیچے پائے جاتے ہیں۔ بنیادی وجہ یہی ہے کہ آنے جانے کے اخراجات اور جسمانی تکلیف سے بچنے کے لیے بہتر یہی سمجھا جاتا ہے کہ ہسپتال میں ہی ڈیرہ ڈال دیا جائے۔

حیات آباد میڈیکل کمپلیکس (ایچ ایم سی) پشاور کا ایک بڑا سرکاری ہسپتال ہے، جہاں افغانستان اور پشاور سے لے کر پورے خیبر پختونخوا سے روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں کی تعداد میں مریض علاج کرانے آتے ہیں۔

اس ہسپتال  کے ایک ملازم نے بتایا کہ تمام بڑے ڈاکٹر نہیں آرہے ہیں۔ معمولی بیمار مریضوں کو دیکھنے کے لیے چند ایک نوجوان ڈاکٹر اور نرسیں موجود ہیں جبکہ وارڈ میں داخل بہت سے مریضوں کو گھر بھیج دیا گیا ہے۔

مریضوں اور ان کے تیمارداروں سے بات کرنے کے لیے میں نے کئی مریضوں کا حال پوچھا۔ اول تو ان کو یہ تاثر ملتا کہ میں ڈاکٹر ہوں۔ کئی خواتین ہاتھ ملانے کے بعد اسے شفقت سے دبائے رکھتیں، یہاں تک کہ مجھے انہیں بتانا پڑتا کہ نہیں میں ڈاکٹر نہیں ہوں۔

ہسپتال سے واپسی پر مجھے امیر مینائی کا یہ شعر بار بار یاد آرہا تھا:

اچھے عیسیٰ ہو مریضوں کا خیال اچھا ہے

ہم مرے جاتے ہیں تم کہتے ہو حال اچھا ہے!

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان