آئس کریم سے نبرد آزما اسرائیلی قیادت

’ٹام اینڈ جیری‘ کارٹون سیریز دیکھنے والا کوئی بھی بچہ بتا سکتا ہے کہ انکل سام بالآخر امریکی آئس کریم کے خلاف بلی چوہے کی جنگ میں ہار جائے گا۔

21 جولائی 2021 کو بیر توویا میں امریکی آئس کریم بنانے والی کمپنی بن اینڈ جیری کی فیکٹری کے باہر ایک ڈلیوری ٹرک کے اوپر اسرائیلی پرچم لگا ہوا ہے(اے ایف پی)

ایک ٹھنڈی میٹھی مشہور زمانہ آئس کریم کے ساتھ ’تنازع‘ کی وجہ سے بڑھتی ہوئی سیاسی اور سفارتی حدت نے صہیونی قیادت اور عوام دونوں ہی کو پسینے میں شرابور کر رکھا ہے۔

اس تنازع کی وجہ امریکہ کے مشہور آئس کریم برانڈ ’Ben & Jerry‘ کی مقبوضہ فلسطین میں غیرقانونی یہودی بستیوں میں اپنی مصنوعات کی فروخت پر پابندی بتائی جاتی ہے، اسی لیے اسرائیلی قیادت نے بن اینڈ جیری کے خلاف دنیا پھر میں ہمہ جہت ’حملوں‘ کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم نفتالی بینٹ نے بن اینڈ جیری کے بائیکاٹ کو ’یہود مخالف‘ قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی، جبکہ صہیونی وزیر خارجہ یائر لپید نے آئس کریم  کمپنی کے فیصلے کو ’یہود مخالفت کے سامنے شرمناک سرنڈر‘ سے تعبیر کیا۔

اسرائیلی پارلیمنٹ کی بڑی اکثریت نے بن اینڈ جیری سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنا ’شرمناک اقدام‘ واپس لے۔

حتیٰ کہ نرم خو اسرائیلی صدر کو اس جنگ میں اپنا حصہ ڈالنے کے لیے بیان دینا پڑا کہ ’بن اینڈ جیری کا غرب اردن میں آئس کریم فروخت کرنے سے انکار معاشی دہشت گردی ہے۔‘

اس سب لعنت ملامت کو اکارت جاتا دیکھ کر اسرائیلی حکومت نے اپنے سفارت کاروں کو حکم دیا کہ وہ ترقی پسند آئس کریم کمپنی کے خلاف جنگ میں یہودی تنظیموں اور دنیا بھر کی یہودی برادری کو متحرک کریں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ آئندہ کوئی دوسری کمپنی ایسا کرنے کی جرات نہ کرسکے۔

بادی النظر میں لگتا ہے کہ آئس کریم فروخت کے بائیکاٹ سے متعلق غیر ضروری شور شرابا اٹھا کر اسرائیل  ’پیگاسس سکینڈل‘ سے پیدا ہونے والی اپنی بدنامی پر پردہ پوشی کی کوشش کر رہا ہے۔

اسرائیلی ٹیکنالوجی کمپنی نے صحافیوں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور اپوزیشن حتیٰ کہ مغربی رہنماؤں کی جاسوسی کے لیے ’پیگاسس‘ نامی سافٹ ویئر مطلق العنان طرز حکومت کے شوقین ملکوں اور اداروں کو فروخت کیا۔

اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں کہ اسرائیلی حکومت نے آئس کریم کمپنی کے بائیکاٹ کا ’سنگین‘ معاملہ امریکہ کے ساتھ براہ راست اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ امریکی حکومت میں شامل قانون دانوں کو اسرائیل اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کرے گا کہ وہ بائیکاٹ کے خاتمے میں اپنا اثر ورسوخ استعمال کریں۔

امریکہ کی ریاست ٹیکساس اور فلوریڈا پہلے ہی اس پر کام کر رہی ہیں، لیکن غالب امکان یہی ہے کہ حواس باختہ اسرائیلی مہم کامیابی سے ہم کنار نہ ہوسکے۔

اسرائیل اس مہم کے ذریعے امریکیوں سے مطالبہ کر رہا ہے کہ وہ سمندر پار مجرمانہ ٹریک ریکارڈ کی حامل استعماری انٹرپرائز (اسرائیل) کو مشہور امریکی کمپنی کی تیارکردہ آئس کریم فروخت نہ کرنے کے فیصلے پر انہیں سزا دے۔

طاقت کے مظاہرے اور ناقابل یقین تفاخر کو بروئے کار لاتے ہوئے امریکہ اپنے ہاں مقیم یہودی کمیونٹی کوغیرقانونی پالیسیوں کی حمایت پر مجبور کر رہا ہے۔ اس کی وجہ سے وہاں سخت ردعمل پیدا ہو رہا ہے۔ امریکی پہلی ترمیم سمیت اپنے تمام دستوری حقوق استعمال کرکے اسرائیل کو چھٹی کا دودھ یاد کرا سکتے ہیں۔

اسرائیل اپنے سیاسی رسوخ اور فوجی ہتھیاروں کی بنا پر طاقتور کہلاتا ہے، تاہم ’ٹام اینڈ جیری‘ کارٹون سیریز دیکھنے والا کوئی بھی بچہ با آسانی یہ بتا سکتا ہے کہ انکل سام بالآخر امریکی آئس کریم کمپنی کے خلاف بلی چوہے کی یہ جنگ ہار جائے گا۔

ایسے میں بن اینڈ جیری کی مادر کمپنی ’یونی لیور‘ کا موقف انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اینگلو ڈچ یونی لیور اپنی خودمختار ذیلی کمپنی کے خلاف کچھ زیادہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔

بن اینڈ جیری آئس کریم کے بانی بینیٹ کوہن اور جیری گرین فیلڈ نے تنازع کی حدت بڑھتا دیکھ کر ریکارڈ کی درستی کے لیے موقر امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز میں ایک مضمون تحریر کیا۔

انتہائی ٹھنڈے اور پرسکون طریقے سے انہوں نے اپنا ووٹ کمپنی کے حق میں استعمال کیا۔ کوہن اور گرین فیلڈ لکھتے ہیں: ’ہم مقبوضہ فلسطین میں غیرقانونی یہودی بستیوں کی مخالفت کے ساتھ اسرائیل کے لیے اپنی دیرینہ حمایت جاری رکھیں گے۔ ہمارا یہ موقف یہودی اقدار اور امریکہ کی سرکاری پالیسی سے ہم آہنگ ہے۔‘

بانیان بن اینڈ جیری نے یہ بھی واضح کیا کہ ان کی کمپنی اور وہ خود بھی اسرائیل کے مکمل قبضے کے خاتمے کی داعی عالمی مہم Boycott, Divestment and Sanctions (BDS) کی حمایت نہیں کرتے۔

اس کھلے تضاد کی وجہ دراصل یہ ہے کہ Boycott, Divestment and Sanctions (BDS) صرف یہودی بستیوں کا نہیں بلکہ پورے اسرائیل کے بائیکاٹ کا مطالبہ کرتی ہے۔ اس مہم میں شامل افراد فلسطینیوں کی ان اسرائیلی علاقوں میں واپسی (حق وطن واپسی)  کی حمایت کرتے ہیں جہاں سے انہیں بے دخل کیا گیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس تنظیم کا ڈھانچہ جنوبی افریقہ میں نسلی امتیاز کے خلاف کامیاب جدوجہد کی روشنی میں ترتیب دیا گیا ہے۔ یہودیوں سمیت کئی دوسرے لوگ جو اسرائیلی قبضے کی مخالفت کرتے ہیں لیکنBDSکے دوسرے بیان کردہ نکتہ نظر سے اتفاق نہیں کرتے۔

ایسا موقف اختیار کرنے میں کوئی مضائقہ بھی نہیں کیونکہ آئس کریم کے مختلف ذائقوں کی طرح بائیکاٹ کی بھی مختلف صورتیں ہو سکتی ہیں۔

آئس کریم بائیکاٹ سے متعلق اسرائیلی چیخیں سوشل میڈیا کے توسط سے آسمان سے باتیں کر رہی ہیں جن میں اسرائیل کے بائیکاٹ سے پیدا ہونے والے مضمرات اجاگر کیے جا رہے ہیں۔

بن اینڈ جیری کے یہودی بستیوں میں آئس کریم فروخت سے انکار پر فلسطینی انتہائی خوش ہیں کیونکہ ان کی نظر میں یہودی آباد کاروں کی اکثریت متشدد مجرموں، فلسطینیوں کی اراضی اور پانی جیسے بنیادی وسائل چرانے والے غاصبوں پر مشتمل ہے۔

امریکی آئس کریم کمپنی کے فیصلے کی تزویراتی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ فلسطینی اراضی میں قائم یہودی بستیوں کے خلاف زیادہ سے زیادہ امریکی یہودیوں اور مغربی دنیا کو اپنا ہمنوا بنا کر اسرائیل پر دباؤ بڑھا کر مقبوضہ اراضی پر بننے والی غیر قانونی یہودی بستیوں کا خاتمہ ممکن نہ ہو سکا تو کم از کم ان میں اضافہ ضرور رک جائے گا۔

مغربی دنیا میں فلسطین پر اسرائیل کے دیرینہ تسلط کو مسترد کرنے والوں اور صہیونیت مخالف اقدامات کو یہود مخالفت قرار دینے والوں کی تعداد ابھی کم ہے، تاہم حالیہ دنوں میں اس میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

رواں ہفتے سامنے آنے والے رائے عامہ کے جائزے کے مطابق 34 فیصد امریکی یہودی سمجھتے ہیں کہ فلسطینیوں کے ساتھ اسرائیلی سلوک امریکہ میں نسل پرستی کا پرتو ہے، تاہم مزید 30 فیصد لوگوں کا کہنا ہے کہ دونوں میں مماثلت تو نہیں، لیکن ایسا کہنا یہود مخالفت کے زمرے میں بھی نہیں آتا۔

رائے عامہ جائزے میں ایک بڑی اکثریت نے اس بات کو بھی شد ومد سے مسترد کیا کہ جب بھی اسرائیل کی استعماریت کی مذمت کی جاتی ہے تو ایسے میں سوال داغ دیا جاتا ہے کہ چین اور شام کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ وہاں کیا ہو رہا ہے؟

اس حقیقت سے آنکھیں چرانا ممکن نہیں کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث چین، روس اور دوسرے کئی ملکوں پر امریکہ اور دوسرے مغربی ملکوں نے پابندیاں عائد کر رکھی ہیں جبکہ فلسطین میں بنیادی انسانی حقوق کی مخالفت کے علی الرغم امریکہ اور اس کے حواری اسرائیل کو سالانہ اربوں ڈالروں سے نواز رہے ہیں۔

اسرائیل کئی مغربی اور دنیا کی دوسری حکومتوں پر حاوی اور کامیاب دکھائی دیتا ہے، تاہم اس کے باوجود فلسطینیوں کی حمایت میں اور اسرائیلی تسلط کے خلاف رائے عامہ تبدیل ہو رہی ہے ۔

مقبوضہ بیت المقدس میں نسلی تطہیر کی حالیہ لڑائی میں اسرائیل ’ہیش ٹیگ وار‘ بری طرح ہارا ہے۔ نیز رواں برس جون میں اسے غزہ کی جنگ میں شکست کے زخم چاٹنے پڑے۔

یہ ایک حوصلہ افزا تبدیلی ہے کیونکہ عوامی دباؤ کے بغیر مغربی دنیا فلسطین میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے سے متعلق ایک موثر اور اصولی موقف اختیار نہیں کرے گی۔

بن اینڈ جیری کی ترقی پسند سیاست نے کمپنی کو متنوع کامیابی دلوائی ہے۔ تادم تحریر کمپنی کے دنیا بھر میں پانچ ہزار سے زیادہ سٹور کھل چکے ہیں۔

امریکی آئس کریم کمپنی کو اس بات کی پروا نہیں کہ اسرائیلی قیادت کے جسم میں ان کی پراڈکٹ کھا کر جھرجری آتی ہے یا نہیں؟

وہ صارفین کو بتانا چاہتے ہیں کہ ماحولیاتی تبدیلی اور وال سٹریٹ میں نمایاں کامیابی کی طرح ’اصولی موقف‘ اپنا کر بن اینڈ جیری خود کو’تاریخ میں درست سمت‘ پر دیکھنا چاہتی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ