کرونا کی پابندیوں میں نرمی سے سالسہ ڈانس کی رونقیں بحال

برطانیہ میں کرونا کی وبا کے دوران سب سے پہلے لگنے والی پابندیوں کا شکار ہونے والی انڈور سرگرمیوں میں سالسہ ڈانس بھی شامل تھا۔

برطانیہ میں کرونا وبا کے دوران سب سے پہلے لگنے والی پابندیوں کا شکار ہونے والی انڈور سرگرمیوں میں سالسہ ڈانس بھی شامل تھا اور قریبی رابطوں کی ان بندشوں میں بھی اس پر پابندی کو سب سے آخر میں اٹھایا گیا ہے۔

لیکن اب جب کہ اس پر سے پابندی اٹھا لی گئی ہے، پیئر ڈانس کی تکنیک کے شوقین افراد نے لاطینی دھنوں پر رقص کرنے کے لیے ڈانس فلور پر واپسی میں کوئی وقت ضائع نہیں کیا۔

لندن کے ایک سٹوڈیو میں ڈانس ٹیچر دانی کے اپنے سٹوڈنٹس سے کہتی ہیں کہ ’باہر نکلو اور ڈانس کرو کیوں اب اس کی اجازت ہے اور ایسا کرنا غیر قانونی بھی نہیں ہے۔‘

شمالی لندن کے علاقے اینجل میں ایک شام کی کلاس میں 40 سالہ فرانسیسی شخص اور ان کی 32 سالہ ساتھی سارہ روے گذشتہ 15 ماہ کی مشکلات پر روشنی ڈالتے ہیں۔

پلم سولز پہنے ہوئے ڈانس سٹوڈنٹس ڈانس فلور پر اپنے پارٹنرز کو گھوماتے ہیں اور ہر ڈانس کے بعد ایک دوسرے کو پرجوش انداز میں ہائے فائے کرتے ہیں۔

سٹوڈیو میں ایئر کنڈیشنگ ہے لیکن یہاں کوئی بھی ماسک نہیں پہنتا۔

29 سالہ سسٹم انجینئر وٹالی زازیڈنی کا کہنا ہے کہ ’لوگوں کے درمیان دوبارہ شامل ہونا بہت اچھا لگتا ہے۔ سالسہ ایک سماجی رقص ہے اور لوگوں کے بغیر سالسہ نہیں ہو سکتا بلکہ آپ خود ہی رقص کر رہے ہوتے ہیں۔‘

برطانیہ میں 19 جولائی سے انڈور ایونٹس پر پابندیاں ختم کر دی گئی تھیں جس سے شراب خانوں میں گھل مل جانے سے لے کر ریستورانوں میں بیٹھنے تک کئی سرگرمیاں دوبارہ شروع کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔

اس سے پہلے دانی کو کچھ کلاسز میں ڈانس سٹوڈنٹس کو خود سے اور ساتھی کے بغیر اس رقص کے بنیادی سٹیپس سکھانے کے لیے جدوجہد کرنی پڑی تھی۔

انہوں نے اے ایف پی کو بتایا: ’پارٹنر ڈانس زیادہ مشکل ہے کیونکہ اس میں ہمیں اپنے ساتھی کو چھونے کی ضرورت ہوتی ہے۔یہ اس لیے بھی مشکل تھا کیونکہ میں سٹوڈنٹس کی مایوسی محسوس کر سکتا تھا۔‘

سماجی فاصلے کے حوالے سے ڈانس کی کلاس لینے والی ایک اور ٹیچر جوانا کاسترو بدھ کی کلاس میں شامل ہوئی ہیں۔

پرتگالی نژاد خاتون جو نرس بھی ہیں، نے مسکراتے ہوئے بتایا: ’یہ میری پہلی کلاس ہے جس میں ساتھی کو چھونے کی اجازت ہے۔ کسی کی رہنمائی کرنا مشکل ہے لیکن اس میں بہت زیادہ مزہ ہے۔ میں واقعی اس سے لطف اٹھا رہی ہوں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دونوں ڈانس اساتذہ نے آن لائن کلاسز کے ذریعے بھی گھروں پر رہنے والے سٹوڈنٹس کی رہنمائی کی ہے۔

اس ڈانس کے محدود فارمیٹ کے باوجود سارہ روے نے ورچوئل کلاسز کو اپنے لیے ’ذہنی اور مالی طور پر لائف لائن‘ قرار دیا ہے۔

جلد اپنے بچے کا اس دنیا میں استقبال کی تیاری کرنے والے جوڑے کا کہنا ہے کہ مارچ 2020 سے نافذ ہونے والا لاک ڈاؤن ان کے لیے ایک بہت بڑا دھچکا تھا۔

اسی حوالے سے پیش آنے والی مشکلات کے بارے میں دانی کا کہنا ہے کہ ’آمدنی 100 فیصد سے شاید 5 فیصد تک رہ گئی جبکہ آپ کا کرایہ اور دیگر اخراجات کم نہیں ہوئے۔‘

سارہ روے کا کہنا ہے کہ وہ اپنی پہلی کلاس کے لیے باہر آنے کے بارے میں خوفزدہ تھیں۔

لیکن سیشن کے اختتام تک وہ دانی کے ساتھ سٹیپس کرنے اور سٹوڈنٹس کے ساتھ رقص کرنے میں کافی سکون محسوس کر رہی تھیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا