ایم جی 5 کے ساتھ ایم جی 3 بھی پاکستان لائی جائے گی: ایم جی موٹرز

تھائی لینڈ میں ایم جی فائیو گاڑی اس وقت تقریباً ساڑھے 27 لاکھ پاکستانی روپے میں دستیاب ہے۔

تاحال ایم جی موٹرز کا اسمبلی پلانٹ فعال نہ ہونے کی وجہ سے مکمل تیار گاڑیاں باہر سے منگوائی جا رہی ہیں(تصویر: ایم جی موٹرز تھائی لینڈ)

کار ساز کمپنی ایم جی موٹرز کے ایک نمائندے نے بتایا ہے کہ ایم جی فائیو اور ایم جی کے ساتھ ساتھ گلوسٹر اور ایکسٹینڈر بھی پائپ لائن میں ہیں اور یہ سب گاڑیاں پاکستان میں امپورٹ کی جائیں گی۔

ایم جی موٹرز کے نمائندے افتخار نذیر کے مطابق: ’یہ مسئلے ایم جی گاڑیوں کی ڈیلیوریز لیٹ ہونے کی وجہ سے چل رہے ہیں اور وہ دنیا بھر میں ہر گاڑی بنانے والی کمپنی کے ساتھ موجود ہیں، کیونکہ سیمی کنڈکٹرز نہ ملنے کا معاملہ تمام جگہ یکساں ہے۔‘

ایک روز قبل ایم جی موٹرز کے مالک جاوید آفریدی نے اپنے ٹوئٹر اور فیس بک اکاؤنٹ پر ایم جی فائیو کی ایک ویڈیو اپ لوڈ کرکے ساتھ میں لکھا تھا: ’کیا آپ ایم جی فائیو کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں؟‘

ان کی اس ٹویٹ کے بعد سے پاکستانی آٹو موبائل مارکیٹ میں ہر جگہ اس بارے میں قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔ کچھ ویب سائٹس پر ایک ویڈیو بھی دیکھی جا سکتی ہے جس میں ٹیسٹ ڈرائیو کے لیے ایم جی فائیو ایک ٹریلر پر سوار موٹروے کے ذریعے کسی پاکستانی شوروم کے لیے پہنچائی جا رہی ہے۔

ایم جی فائیو سے پہلے ایم جی تھری کے بارے میں بھی خوب چرچا رہا اور کئی لوگ اب تک اس کی آمد کے  منتظر ہیں۔ اس بارے میں جب افتخار نذیر سے پوچھا گیا تو انتہائی خوشگوار لہجے میں ان کا کہنا تھا کہ لیٹ ڈیلیوریز کے مسائل حل ہوتے ہی ایم جی موٹرز دونوں گاڑیوں کو پاکستانی عوام تک پہنچانے کا ارادہ رکھتی ہے۔

تاحال ایم جی موٹرز کا اسمبلی پلانٹ فعال نہ ہونے کی وجہ سے مکمل تیار گاڑیاں (سی بی یو۔ کمپلیٹ بلٹ یونٹ) باہر سے منگوائی جا رہی ہیں جبکہ ایم جی تھری اور ایم جی فائیو بھی فی الحال سی بی یونٹس سے ہی منگوائی جائیں گی۔

موجودہ کسٹمرز کی گاڑیاں لیٹ ڈیلیور ہونے کے حوالے سے افتخار نذیر کا کہنا تھا کہ ’اگر آج آپ ایم جی کی کوئی گاڑی بک کرواتے ہیں تو ڈیلیوری کے لیے آپ کو جنوری کی تاریخ دی جائے گی۔ ڈیلر شپ کی بجائے اگر کمپنی کی ہیلپ لائن سے رابطہ کریں گے تو آپ کو مکمل تصدیق شدہ اور درست معلومات فراہم کی جائیں گی، انہیں مدنظر رکھتے ہوئے اگر آپ گاڑی بُک کروائیں گے تو ایسی شکایات کم ہوں گی۔‘

مقررہ تاریخ پر ایم جی گاڑیوں کی عدم فراہمی کے حوالے سے ان کا مزید کہنا تھا کہ غلط معلومات یا منفی خبروں کو سوشل میڈیا پر وائرل کر دیا جاتا ہے اور اگر ہیلپ لائن یا آفیشل نمائندہ کوئی درست خبر دے تو اسے لوگوں تک نہیں پہنچایا جاتا۔ ’ہم لوگ ٹھیک ٹھیک بتاتے ہیں کہ گاڑی کس ماہ ڈیلیور ہوگی، جس نے لینی ہوتی ہے وہ تب بھی بُک کرواتا ہے۔ بعض ڈیلر شپس پر غلط طریقے سے جلد ڈیلیوری بتائی جاتی ہے اور بعد میں کسٹمرز کو ہماری طرف بھیج دیتے ہیں۔‘

ان کا اصرار تھا کہ ایم جی موٹرز کے حوالے سے کسی بھی خبر کی تصدیق کمپنی نمائندوں سے ضرور کی جائے۔ ’دیکھیے آج چھٹی کا دن ہے لیکن کال سینٹر آج بھی چل رہا ہے اور رسپانس آپ کے سامنے ہے۔‘

 ایم جی فائیو کا مقابلہ کس سے ہوگا؟

ایم جی فائیو سی لیول سیڈان گاڑی ہے، یعنی وہ براہ راست کرولا، سوک، الانٹرہ اور اس کلاس کی دوسری گاڑیوں کو ٹکر دینے جائے گی۔

جاوید آفریدی کی جانب سے شیئر کیا گیا ایم جی فائیو ماڈل اپنی کلاس میں سیکنڈ جنریشن ہے اور اسے 2020 میں لانچ کیا گیا تھا۔ فرنٹ گرل وہی شہد کی مکھیوں کے چھتے والے ڈیزائن کی ہے جو آج کل ہر نئے ماڈل میں یکساں ہے اور سائیڈ پروفائل میں دو ہموار لائنوں کی موجودگی اسے نئی گاڑیوں کے مقابلے میں جدید لُک دیتی ہے۔ پچھلی لائٹیں کچھ کچھ مرسیڈیز کی یاد دلاتی ہیں جب کہ انٹیریئر میں ایم جی فائیو کسی بھی جرمن گاڑی کا مقابلہ کرتی دکھائی دیتی ہے۔

چھ ایئر بیگ، فور وہیل ڈسک بریک، بلائنڈ سپاٹ وارننگ، تھری ڈی سراؤنڈ کیمرہ، الیکٹرانک سٹیبلیٹی کنٹرول اور وہیکل سٹیبلیٹی کنٹرول سمیت ہل اسسٹ فیچر اس گاڑی کی سیفٹی تسلی بخش بناتے ہیں۔

ایم جی فائیو 1.5 لیٹر نیچرلی ایسپائریٹڈ اور ٹربو، دونوں انجن کے ساتھ مارکیٹ میں موجود ہے۔

تھائی لینڈ میں اس گاڑی کے تین ویرینٹ ساڑھے 27 لاکھ سے 34 لاکھ پاکستانی روپے میں موجود ہیں۔ یہاں قیمت کیا رکھی جاتی ہے، اسی سوال پر اس گاڑی کے مستقبل کا دارومدار ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان