’اب مقتول سماجی کارکن نور اسلام انصاف کا منتظر رہے گا‘

پولیس کا کہنا ہے کہ وہ جمعے کو قتل ہونے والے شمالی وزیرستان کے سماجی کارکن نور اسلام داوڑ کے ٹارگٹ کلرز کو تلاش کر رہی ہے۔

نور اسلام داوڑ  ’یوتھ آف وزیرستان ‘  تنظیم کے بانی  صدر تھے  ( نور اسلام داوڑ/ٹوئٹر)

نوجوانوں کی تنظیم ’یوتھ آف وزیرستان‘ کے بانی صدر اور سماجی کارکن نور اسلام داوڑ کا جنازہ ہفتے کو ان کے آبائی گاوں ملاگان میں ادا کردیا گیا۔

پولیس کے مطابق انہیں خیبر پختونخوا کے ضلع شمالی وزیرستان میں نامعلوم افراد نے جمعے کو قتل کر دیا تھا۔

نور اسلام داوڑ شمالی وزیرستان کے میر علی بازار سے اپنے گھر ملاگان جا رہے تھے کہ راستے میں ان کو فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا۔ حملہ آور موقعے سے فرار ہونے میں کامیاب رہے تھے۔ 

شمالی وزیرستان کے پولیس سربراہ (ڈی پی او) شفیع اللہ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ نور اسلام کے قتل کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

شفیع اللہ نے بتایا کہ قانونی کارروائی اور پوسٹ مارٹم مکمل ہو چکا ہے اور ’ہر ایک زاویے سے اس کیس کی تحقیقات کے لیے ٹیم کو بتا دیا ہے۔ تفتیش کی نگرانی میں خود کر رہا ہوں۔‘

انھوں نے بتایا کہ سول پولیس اور انسداد دہشت گردی پولیس بھی اس کیس میں معاونت فراہم کرے گی۔

’یہ ایک افسوس ناک واقعہ ہے۔ اس کیس کی انتہائی باریک بینی سے تفتیش کی جائے گی۔ تفتیش ابتدائی مراحل میں ہے اور یہی وجہ ہے کہ محرکات کے حوالے سے کچھ کہنا قبل ازوقت ہے لیکن مقدمے کو جلد از جلد نمٹایا جائے گا اور قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔‘

شمالی وزیرستان سے منتخب رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ نے نور اسلام کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ نور اسلام وزیرستان کے لوگوں کی آواز تھے اور انتہائی بہادری سے عوام کے حقوق کے لیے آواز اٹھاتے تھے۔ 

’نور اسلام کا واحد جرم یہی تھا کہ وہ اپنے وزیرستان کے لوگوں کے لیے آواز اٹھاتے تھے۔‘

نور اسلام کون تھے ؟

نور اسلام کا تعلق شمالی وزیرستان کی تحصیل میر علی کے گاؤں ملاگان سے تھا۔ وہ نوجوانوں کی تنظیم ’یوتھ آف وزیرستان‘ کے بانی صدر تھے۔

یہ تنظیم مختلف مواقع پر وزیرستان کی عوام کے حقوق کے لیے آواز اٹھاتی تھی اور عوام کو درپیش مسائل کی نشان دہی حکام بالا کو کرتی تھی۔

تنظیم کی بنیاد 2014 میں رکھی گئی اور نور اسلام اس کے بانی صدر منتخب ہوئے۔ تنظیم کے موجودہ نائب صدر وقار احمد داوڑ نے بتایا کہ جب وزیرستان میں شدت پسندوں کے خلاف فوجی آپریشن ضرب عضب کا آغاز ہوا تو اس وقت لاکھوں افراد بے گھر ہوئے اور عوام کو درپیش مسائل کی نشاندہی کے لیے ہم نو دوستوں نے اس تنظیم کی بنیاد رکھی۔

انھوں نے بتایا کہ اس وقت سے اب تک ہم نے عوام کے حقوق اور مسائل کو حل کرنے کے لیے مختلف دھرنے اور مظاہرے کیے جب کہ مختلف مواقع پر ٹارگٹ کلنگ کے خلاف بھی آواز اٹھائی۔

وقار نے بتایا ’علاقے میں جس ٹارگٹ کلنگ کے خلاف نوراسلام آواز اٹھاتے تھے، اسی ٹارگٹ کلنگ میں ان کو قتل کیا گیا۔ ہم نے ان کا جنازہ پڑھایا اور اب مقتول انصاف کا منتظر رہے گا۔‘

وقار سے جب پوچھا گیا کہ کیا تنظیم کے کسی رکن یا نور اسلام کو کسی قسم کی دھمکی تو نہیں ملی تھی، تو وقار کا کہنا تھا کہ ’ہمیں کسی قسم کی دھمکی ملی اور نہ ہی نور اسلام نے کسی قسم کی دھمکی کے حوالے سے کچھ بتایا۔‘

’ہماری تنظیم کا اپنا ایک منشور ہے اور ہم صرف عوام کے حقوق کے لیے آواز اٹھاتے ہیں، یہ تنظیم زیادہ تر نوجوانوں پر مشتمل ہے۔‘

وزیرستان میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات پر عوام کی تشویش

وزیرستان میں گذشتہ کافی عرصے سے ٹارگٹ کلنگ کے پے درپے واقعات سامنے آرہے ہیں جن کی وجہ سے عوام میں تشویش پائی جاتی ہے۔

پولیس کے مطابق 24 اگست کو بھی چار افراد کو وزیرستان کے مختلف علاقوں میں نامعلوم افراد نے قتل کر دیا تھا۔

اسی طرح رواں سال جولائی میں میران شاہ میں دو قبائلی مشیران کو پولیس کے مطابق ٹارگٹ کلنگ میں قتل کیا گیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ماضی میں عام لوگوں کے علاوہ سیکورٹی فورسز کو بھی ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

چار اگست کو شمالی وزیرستان پولیس کے مطابق شیوا پولیس سٹیشن کے ایس ایچ او کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا تھا جب وہ اپنے دفتر جا رہے تھے۔

تاہم خیبر پختونخوا پولیس کی 2021 کی پہلی ششماہی رپورٹ کے مطابق قبائلی اضلاع میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں 80 فیصد کمی آئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر گذشتہ سال کے اسی دورانیے کے مقابلے میں رواں سال کے پہلے پانچ مہینوں کے دوران دہشت گردی کے واقعات میں بھی 50 فیصد کمی آئی۔

وزیرستان سے تعلق رکھنے والے صحافی رسول داوڑ نے بتایا کہ وزیرستان میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات پر عوام کو سخت تشویش ہے کیونکہ ماضی میں مختلف قبائلی مشیران بھی ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنائے گئے۔

انھوں نے بتایا کہ حکومت اور سیکورٹی اداروں کو اس مسئلے کو سنجیدگی سے حل کرنے کی ضرورت ہے اور اس نوعیت کے مقدمات کی درست طریقے سے تفتیش کرنے کی ضرورت ہے تاکہ قاتلوں کا پتہ لگایا جا سکے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان