لینڈ مافیا کا ٹیکس احتساب نہ ہونے پر معیشت لڑکھڑا رہی ہے

’اگر یہ غیر منصفانہ نظام جاری رہا تو دیگر سرمایہ کار بھی صنعتیں لگانے کی بجائے ریئل سٹیٹ میں سرمایہ لگا دیں گے جس سے نوکریاں پیدا ہونا بند ہو جائیں گی۔‘

 

 
 
کسی بھی ہاؤسنگ سوسائٹی کو یہ اجازت نہیں دی جانی چاہیے کہ وہ اوپن فائلیں جاری کرے‘ (اے ایف پی)

وقاص ایک نجی کمپنی میں ملازم ہے۔ اس کی تنخواہ سے ہر ماہ ٹیکس کٹتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ وہ اس ملک کا باعزت شہری ہے، کیونکہ وہ جتنا پیسہ کماتا ہے حکومت کو باقاعدگی سے ٹیکس ادا کرتا ہے اور سالانہ گوشواروں میں انھیں ظاہر بھی کرتا ہے۔

جب اس کی تنخواہ بڑھی تو اس پر ٹیکس بھی بڑھ گیا۔ اسے پتہ چلا کہ جب آمدن بڑھتی ہے تو ٹیکس بھی بڑھتا ہے۔ یعنی کہ جو زیادہ کماتا ہے وہ ٹیکس بھی زیادہ دیتا ہے۔

لیکن چند دنوں بعد وہ اپنے دوست سے ملا تو شش و پنج کا شکار ہو گیا۔ اس کا دوست پراپرٹی کا کاروبار کرتا ہے، اس کے پاس مہنگی گاڑی، بڑا گھر اور مہنگا موبائل فون ہے۔

وقاص سوچنے لگا کہ اس کا دوست زیادہ قابل عزت ہے کیونکہ وہ زیادہ کماتا ہے اور ظاہر ہے کہ جب زیادہ کماتا ہے تو ٹیکس بھی زیادہ دیتا ہو گا۔

اس نے جب ٹیکس کا ذکر کیا تو دوست نے بتایا کہ ’میں پراپرٹی کے کاروبار سے کروڑوں روپے کماتا ہوں لیکن ایک روپے کا بھی ٹیکس نہیں دیتا۔‘

وقاص نے حیرت سے پوچھا، ’وہ کیسے؟‘

اس کے دوست نے بتایا کہ ’جب بھی کوئی نئی ہاؤسنگ کالونی شروع ہوتی ہے یا نئی ڈیل آتی ہے تو میں کروڑوں روپوں کی اوپن فائلیں خرید لیتا ہوں۔ یعنی کہ ان فائلوں پر میرا نام نہیں ہوتا۔ ایک سے دو ماہ میں تمام فائلیں کسٹمرز کو بیچ دیتا ہوں۔ اسی سے کروڑوں روپے منافع کماتا ہوں۔‘

وقاص نے پوچھا، ’بینک سٹیمنٹ میں جب یہ پیسہ آتا جاتا ہے تو سرکار تم سے اس کا حساب نہیں مانگتی؟‘

اس نے بتایا کہ ’میں سرکار کی نظروں سے بچنے کے لیے سارا پیسہ کیش میں رکھتا ہوں۔‘

وقاص نے پوچھا کہ ’ہاؤسنگ سوسائیٹیاں تمہیں فائلیں یا پلاٹ دیتے وقت ٹیکس نہیں کاٹتیں؟‘

اس نے جواب دیا، ’اوپن فائلیں لینے کا یہی تو فائدہ ہے کہ ہاؤسنگ سوسائٹیاں ٹیکس نہیں کاٹتیں۔‘

وقاص نے پوچھا، ’کیا سرکار کو ان حقائق کا علم نہیں ہےکہ کس طرح کروڑوں اربوں روپے کمائے جا رہے ہیں اور حکومت کو ایک روپیہ ٹیکس بھی نہیں دیا جا رہا؟‘

اس کے دوست نے جواب دیا، ’سرکار کو سب پتہ ہے، اس نے جان بوجھ کر آنکھیں بند کی ہوئی ہیں۔ کیونکہ سیاست دان، بیوروکریٹ اور اس ملک کی اشرافیہ آج کل اسی طریقے سے پیسے کما رہے ہیں۔‘

وہ ابھی یہ گفتگو کر ہی رہا تھا کہ سوشل میڈیا پر اس کے سامنے چیئرمین نیب کا بیان گزرا جس میں وہ فرما رہے تھے کہ ’گلہ کیا جاتا ہے کہ نیب کاروباری لوگوں خصوصا ہاؤسنگ سوسائیٹیوں کو تنگ کر رہی ہے۔

’آپ خود بتائیں اگر نیب آپ کے خلاف ایکشن لے رہی ہوتی تو آپ کی پراپرٹی کا کاروبار اتنا زیادہ چل رہا ہوتا۔ ہمیں پتہ ہے کہ کون کیا کر رہا ہے لیکن مصلحتا خاموش ہیں۔‘

وقاص سوچنے لگا کہ یہ کیسا اصول ہے کہ میری چند ہزار تنخواہ پر سرکار فوراً ٹیکس کاٹ لیتی ہے لیکن ہاؤسنگ کالونیاں بنانے والوں اور پراپرٹی کا کاروبار کرکے اربوں روپے کمانے والوں سے نہ تو ٹیکس لیا جا رہا ہے اور نہ ہی پوچھا جا رہا ہے کہ پیسہ کیسے کمایا۔

اس حوالے سے جب اس نے سابق نائب صدر پاکستان ٹیکس بار ایسوی ایشن منشا سکھیرا صاحب سے رابطہ کیا تو انھوں نے بتایا کہ ’عمومی طور پر فائلوں کے ذریعے جو کاروبار ہوتا ہے اس میں بینکوں سے حاصل شدہ سٹامپ پیپر استعمال کیا جاتا ہے جو ٹیکس چھپانے والوں کو ٹریک کرنے کا بہتر ذریعہ ثابت ہو سکتا ہے۔

’جس طرح ٹیکس ریٹرن میں ظاہر کیے گئے ڈیٹا کو بنیاد پر ایف بی آر کاروائی عمل میں لاتا ہے، اسی طرح سٹامپ پیپر پر چیک اینڈ بیلنس سخت کر کے پراپرٹی کا کاروبار کرنے والوں کو پکڑا جا سکتا ہے۔

’اس کے علاوہ کسی بھی ہاؤسنگ سوسائٹی کو یہ اجازت نہیں دی جانی چاہیے کہ وہ اوپن فائلیں جاری کرے۔ بڑی ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں دیکھا گیا ہے کہ چھ ماہ سے ایک سال تک فائل ٹرانسفر نہیں کرتے بلکہ اسے اوپن رہنے دیتے ہیں۔

’اس دوران وہ دس پندرہ ہاتھوں میں بک چکی ہوتی ہے۔ اور تمام خریدار اس پر منافع کما رہے ہوتے ہیں لیکن ٹیکس ادا نہیں کرتے جو کہ تشویش ناک ہے۔‘

وقاص سوچنے لگا کہ پراپرٹی مافیا کو کنٹرول کرنے کا آسان حل موجود ہے۔ اگر ماہر معیشت یہ جانتے ہیں تو کیا حکومتی ٹیکس ماہرین اس بارے میں آگاہ نہیں ہیں۔ یا وہ جان بوجھ کر معاملے کو نظر انداز کیے ہوئے ہیں۔ جو کہ پراپرٹی مافیا کی سپورٹ کے مترادف ہے۔

وقاص سوچنے لگا کہ ٹیکس ادا نہ کر کے یہ لوگ کئی گھروں کے مالک بن گئے ہیں اور میں ٹیکس ادا کر کے بھی اپنی ساری زندگی میں ایک ذاتی گھر نہیں بنا سکتا۔

پچھلے ایک سال میں پراپرٹی مافیا نے ریئل اسٹیٹ کی قیمتیں جس قدر بڑھا دی ہیں عام آدمی کے لیے اپنے گھر کے بارے میں سوچنا بھی ایک خواب بن گیا ہے۔ یہ کیسا نظام ہے جہاں مجھ جیسے ایماندار لوگوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔

پراپرٹی کا کاروبار کرنے والے دوست نے وقاص سے کہا کہ پاکستان ٹیکس چوروں کےلیے جنت سے کم نہیں ہے۔ وقاص کا کہنا ہے کہ شاید وہ ٹھیک ہی کہہ رہا ہے۔

اس کے دوست نے بتایا کہ ’میں نے ان پیسوں سے ایک پلازہ بھی تعمیر کر لیا ہے جسے میں نےایمنسٹی سکیم میں کلیم کر لیا ہے۔ اب مجھ سے کوئی یہ بھی نہیں پوچھ سکتا کہ پیسہ کیسے کمایا، کتنا ٹیکس دیا اور ملک کو کیا فائدہ پہنچایا۔‘

وقاص سوچنے لگا کہ ایک طرف یہ ٹیکس چوری کر رہا ہے اور دوسری طرف اسے کوئی شرمندگی بھی نہیں ہے بلکہ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر، سینہ تان کر اور فخر یہ انداز میں دوستوں کو اس بارے میں بتاتا ہو، جیسے چوری نہ کی ہو بلکہ کوئی تمغہ حسن کارکردگی حاصل کر لیا ہو۔

وقاص کے مطابق اس کی وجہ شاید کمزور معیشت اور حکومتی نظام ہے۔ وقاص کہتا ہے کہ وزیراعظم صاحب چوروں کو نہیں چھوڑوں گا کا دعوی کرتے ہیں لیکن دوسری طرف خود ہی ٹیکس چوروں کو سپورٹ بھی کر رہے ہیں۔

جب اس نے ماہر معیشت ظفر پراچہ سے رائے طلب کی تو انھوں نے بتایا کہ ’لینڈ مافیاز کا ٹیکس احتساب نہ ہونے کی وجہ سے پاکستانی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

’دیگر صنعتتیں بھی اس بارے سوال اٹھا رہی ہیں کہ غیر منصفانہ نظام کیوں رائج کیا جا رہا ہے، اس سے کاروباری ماحول کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ سرمایہ کار صنعتیں لگانے کی بجائے ریئل اسٹیٹ میں سرمایہ لگا دیں گے جس سے نوکریاں پیدا ہونا بند ہو جائیں گی اور تحریک انصاف کی تین سالہ مبینہ محنت ضائع ہو سکتی ہے۔‘

اس نے میڈیا پر یہ خبر سنی کہ زمیندار مبینہ طور پر غلط بیانی کر کے اربوں روپے سالانہ کی زرعی آمدن پر ٹیکس چھوٹ حاصل کر رہے ہیں اور حکومت کے سر پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔

وقاص کے لیے یہ خبر حیران کن تھی سابق نائب صدر پاکستان ٹیکس بار ایسوسی ایشن منشا سکھیرا صاحب سے اس بارے بتایا کہ ’یہ زمیندار دو اطراف سے فائدہ حاصل کر رہے ہیں۔ زرعی آمدن صوبائی معاملہ ہے اور اس پر صوبائی ٹیکس ادا کرنا ہوتا ہے۔ اسی صورت میں وفاق کے ٹیکس سے بچا جا سکتا ہے۔

’اکثر زمیندار وفاق سے ٹیکس چھوٹ تو حاصل کر رہے ہیں لیکن صوبوں میں مطلوبہ ٹیکس جمع نہیں کروا رہے۔ ایسی صورت حال میں وفاق کاروائی کر سکتا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’بعض ماہرین کے مطابق یہ غیر قانونی ہے لیکن اکثریت اس بات پر متفق ہے کہ وفاق کے پاس کارروائی کا اختیار ہے۔ اس مسئلے کو احسن انداز میں حل کرنے کے لیے وفاق اور صوبوں کے درمیان بہتر رابطوں کی ضرورت ہے۔

’ایف بی آر اگر سالانہ ڈیٹا کو صوبوں کے ساتھ شیئر کر کے کراس چیک کروا لے تو ٹیکس ادا نہ کرنے والوں کے گرد گھیرا تنگ کیا جا سکتا ہے۔‘

وہ سوچنے لگا کہ وزیراعظم عمران خان ٹیکس ریفارمز کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن حقائق اس کے برعکس دکھائی دیتے ہیں۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہے۔ جس کی آمدن کا سب سے بڑا اور اہم ذریعہ زراعت ہے۔ اتنے اہم سیکٹر پر ٹیکس نظام کی یہ صورت حال ہے تو بقیہ شعبوں میں کیا صورت حال ہو گی؟

اس نے مزید پڑھا کہ پنجاب میں زرعی آمدن پر ٹیکس کی شرح تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کی شرح سے بھی کم ہے۔ پچھلے سالوں میں پنجاب کا زرعی آمدن پر ٹیکس صرف دو ارب روپے تھا جو کہ وفاق میں ظاہر کی گئی آمدن سے مطابقت نہیں رکھتا تھا۔

وقاص سوچنے لگا کہ اربوں روپے آمدن کمانے والوں کو سرکار ٹیکس چھوٹ دے رہی ہے جبکہ وہ ٹیکس ادا کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں اور میرے جیسے کروڑوں عوام ایسے ہیں جن کی آمدن سے زندگی کے دن بمشکل گزر رہے ہیں لیکن انھیں کوئی ٹیکس چھوٹ حاصل نہیں ہے، بلکہ ہماری تنخواہ آنے سے پہلے ہی اس پر ٹیکس کاٹ لیا جاتا ہے۔

یہ کیسا نظام ہے جس میں غریب کو مزید دبایا جا رہا ہے اور امیر کو آزاد اڑنے کے لیے چھوڑ دیا گیا ہے؟

اس نے ایف بی آر سے تعلق رکھنے والے ایک دوست سے اس بارے استفسار کیا تو اس نے بتایا کہ ایف بی آر اس حوالے سے آگاہ ہے اور جب سے اشفاق احمد صاحب چیئرمین ایف بی آر بنے ہیں اس معاملے کو سنجیدہ لیا جا رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں بڑی کارروائیاں متوقع ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تمام صوبائی ٹیکس اداروں کو نوٹس بھیج کر ان سے پوچھا جا رہا ہے کہ جن لوگوں نے وفاق میں زرعی آمدن پر ٹیکس چھوٹ حاصل کی ہے کیا صوبے میں ان کا ٹیکس جمع ہے، جو لوگ خلاف ورزی کے مرتکب پائے جائیں گے ان پر وفاق اپنے ریٹ کے مطابق ٹیکس لگائے گا۔

عمومی طور پر وفاق کا ٹیکس ریٹ صوبوں سے زیادہ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ ان کے خلاف قانونی کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔

وقاص کہتا ہے کہ حکومت نے تین سالوں میں سات چیئرمین ایف بی آر تعینات کیے ہیں۔ اوسطاً ایک چیئرمین کو پانچ ماہ 15 دن کام کرنے کا موقع ملا۔ اشفاق احمد صاحب کتنے دن چیئرمین رہتے ہیں کچھ کہا نہیں جا سکتا۔

سرکاری اداروں میں کام کرنے کے لمبے چوڑے منصوبے تو بنا کر پیش کر دیے جاتے ہیں لیکن عمل درآمد ہوتے سالوں بیت جاتے ہیں۔اس مدعے پر نتائج کب سامنے آئیں گے کچھ کہا نہیں جا سکتا ہے۔

وقاص کہتا ہے کہ وزیراعظم صاحب چاہے جتنے بھی احتساب کے دعوے کر لیں میں ان کی بات پر یقین اس وقت تک نہیں کروں گا جب تک پراپرٹی مافیا اور ٹیکس چھپانے والوں کا احتساب نہیں ہو گا اور ملک میں ریئل اسٹیٹ کی قیمت اپنی اصل حدود میں نہیں آئیں گی۔

جب تک مجھ جیسے مناسب آمدن والے آدمی کے لیے گھر بآسانی میسر نہیں ہو گا تب تک حکومتی دعوے کھوکھلے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت