’رحیم اللہ کی خبروں کے لیے بھوک نہ ختم ہونے والی تھی‘

سب کے خیال میں ملا محمد عمر اور اسامہ بن لادن سے ملاقاتوں کے بعد رحیم اللہ یوسف زئی پر تاریخ کا حق بنتا تھا کہ وہ کچھ یاداشتیں یکجا کرکے چھوڑ جاتے لیکن ان کی تمام عمر ایک منجھے ہوئے اصل صحافی کی طرح روزانہ کے واقعات کو کور کرنے میں صرف ہوئی۔

رحیم اللہ یوسفزئی اتنے قدآور صحافی تھے کہ انہیں کہیں اپنے تعارف کی ضرورت پیش نہیں آتی تھی (فوٹو حیدر شاہ)

ایک زمانہ تھا جب ان کی رپورٹ کی بنیاد پر اس ملک کی قومی کرنسی اوپر نیچے ہوا کرتی تھی۔ انہیں اس دن کے تجزیے کے نشر ہونے سے قبل اپنی باتیں پشاور کے افغان صراف کو آگاہ کرنے کے بدلے لاکھوں روپے معاوضے کی پیش کش بھی کی گئی تھی لیکن اس نیک صحافی نے ہر ایسی آفر کو ٹھکرا دیا جس سے ان کی پیشہ ورانہ کارکردگی متاثر ہوتی ہو۔

میں بات کر رہا ہوں مرحوم رحیم اللہ یوسفزئی کی۔ ‎إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعون

یہ بات ہے 90 کی دہائی کی جب افغانستان اپنے بحران کی دوسری مشکل دہائی سے گزر رہا تھا۔ افغانستان میں جاری جنگی حالات سے متعلق جاننے کا واحد بڑا طاقت ور میڈیم ریڈیو تھا۔

ان کے تجزیے کی بنیاد پر اگلے 24 گھنٹے کے لیے افغانی کی قدر کا تعین ہوتا تھا۔ وہ کہتے کہ حالات اچھے ہو رہے ہیں تو افغانی چڑھ جاتی اور نہ کہتے تو گر جاتی۔ یہ ان کی بات کی طاقت تھی اور کیوں نہ ہوتی وہ 1979 سے افغانستان کو بحیثیت ایک ’وار کارسپانڈنٹ‘ کور جو کر رہے تھے۔

بی بی سی ورلڈ کے ایک سابق بہترین نامہ نگار میٹ فرائی سے 2001 میں کوئٹہ میں افغان کوریج کے دوران گپ شپ میں معلوم ہوا کہ وہ رحیم اللہ کے ساتھ پشاور سے اندرون ملک کسی پرواز کے لیے ایئرپورٹ پر تھے۔

رحیم اللہ کچھ لیٹ تھے تو انہوں نے پی آئی اے کے ڈیسک پر انچارج سے کہا کہ کیا پرواز میں تاخیر کا کوئی امکان ہے تو مینجر نے جواب دیا: ’آپ فکر نہ کریں سر جہاز اس وقت تک نہیں جائے گا جب تک رحیم اللہ صاحب پہنچ نہیں جاتے۔‘

رحیم اللہ یوسفزئی اتنے قدآور صحافی تھے کہ انہیں کہیں اپنے تعارف کی ضرورت پیش نہیں آتی تھی۔ وہ جوں ہی بولتے تو لوگ انہیں ان کی آواز کی وجہ سے پہچان لیتے تھے۔

دی انڈپینڈنٹ کے سینیئر صحافی رابرٹ فسک نے، جو گذشتہ دنوں انتقال کر گئے، ان کے بارے میں لکھا کہ رحیم اللہ کی خبروں کے لیے بھوک نہ ختم ہونے والی تھی۔ وہ رات 2 بجے بھی اپنے اخبار کے لیے خبر فائل کرتے پائے گئے تھے۔

وہ تمام خطرات کو بالائے طاق رکھ کر افغانستان کے میدان جنگ سے بھی رپورٹنگ کرتے رہے۔ انہوں نے رابرٹ فسک کو بتایا کہ وہ اکثر گھر میں کابل کا کہہ کر قندھار پہنچ جایا کرتے تھے۔ 1989 میں جلال آباد پر مجاہدین کے پہلے حملے کے دوران وہ لڑائی کے فرنٹ لائن پر کئی دن تک رہے۔ انہوں نے بتایا تھا: ’ہم پر بمباری اور گولہ باری ہوئی اور ہم بارودی سرنگوں سے محفوظ رہے۔‘

 

فوٹوگرافر حیدر شاہ ان کے ساتھ کئی مرتبہ افغانستان جاتے رہے اور ہمیں ان کے قصے سناتے رہتے تھے۔

وہ پہلے صحافی تھے جو مارچ 1995 میں ملا محمد عمر سے ملے تھے۔ وہ دو مرتبہ اسامہ بن لادن سے بھی ملے۔ اس کے علاوہ ترکئی، امین، کارمل اور نجیب اللہ جیسے افغان رہنماؤں اور مجاہدین کمانڈر حکمت یار، ربانی، دوستم اور احمد شاہ مسعود سے ملاقاتیں کرتے رہے تھے۔

وہ بتاتے تھے کہ ’وہ میری بہترین سٹوریاں شاید نہ ہوں لیکن وہ انتہائی اہم تھیں۔‘

پشاور میں صحافت کی وجہ سے جان پہچان تو ان سے تھی لیکن انہوں نے 1993 میں دی نیوز انٹرنیشنل کے پشاور بیورو کے لیے ملازمت کی پیشکش کی۔ اس وقت میں اسلام آباد میں پاکستان آبزرور کے ساتھ منسلک تھا۔

اپنے آبائی شہر واپسی اور اچھے ادارے کے سینیئر ترین صحافی کے ساتھ کام کرنے کا موقع، اس سے بہتر آفر اور کیا ہوسکتی تھی!

بھاگم بھاگ پشاور پہنچے اور بغیر کسی چوں چرا کے پیشکش قبول کرلی۔ پھر کیا تھا رحیم اللہ صاحب کی سرپرستی اور شفقت میں صحافت اور محنت کے اصل گُر سیکھے۔

پشاور صدر کے اپنے دفتر میں ایپل میکنتاش کمپوٹر کے سامنے انہیں صبح سے لے کر رات گئے بیٹھے دیکھتا۔ شام کو وہ عالمی ریڈیو براڈکاسٹس بھی ضرور اپنے لال رنگ کے چمڑے کے کور والے سونی ٹرانسسٹر پر سنتے تھے۔

بیورو سے فائل کی جانے والی ہر خبر اور فیچر کو بھیجنے سے قبل ایک نظر دیکھتے ضرور تھے۔ مجھے یاد ہے کہ کوئی بھی پریس ریلیز پھینکا نہیں کرتے تھے بلکہ انگریزی میں ترجمے کے لیے رپورٹر کا نام لکھ کر بھیج دیتے تھے۔

ہم پوچھتے تھے کہ کون پڑھتا ہے یہ بیانات تو ان کا جواب ہوتا تھا پڑھے نہ پڑھے، جس کی پریس ریلیز شائع ہوتی ہوگی وہ کم از کم ایک اخبار خریدتا تو ضرور ہوگا۔

لوگ پشاور کے صحافیوں کو اکثر افغان امور کے ماہر کے طور پر زیادہ جانتے ہیں لیکن وہ جنوبی ایشیا اور خود پاکستانی قومی سیاست اور ہر دوسرے شعبے کے بھی حقیقی ماہر تھے۔ ان سے اہم شخصیات کے خاندان کے پس منظر اور شجرہ نسب سے متعلق معلومات پر میں حیران ہوتا تھا کہ انہیں یاد کیسے رہتی ہیں۔

الیکشن ہوں یا احتجاج ہر موقع پر ان کی خبر اور تجزیہ زبردست ہوتا تھا۔ کبھی کبھی رپورٹروں کے کمرے میں آ کر کسی سیاسی یا دوسرے موضوع پر دیر تک تبادلہ خیال کیا کرتے تھے۔ اس سے ان کے خیالات فائن ٹیون ہوں نہ ہوں ہماری تعلیم ضرور ہو جایا کرتی تھی۔

ان کے پاس غیرملکی صحافیوں، ادیبوں اور ماہرین کا بھی تانتا بندھا رہتا تھا۔ ہر کوئی افغانستان کی صورت حال کی الف بے سمجھنے کے لیے سب سے پہلے ان کے پاس آتا تھا۔ ان کے طفیل ہی بکر پرائز پانے والے وی ایس نئیپال جیسے معروف برطانوی مصنف سے ملاقات ہوئی۔

ایک بین الاقوامی خاتون صحافی تو ہم سے ان کے ساتھ شادی پر رضامندی بھی ظاہر کرچکی تھیں۔ ہم انہیں اس پر چھیڑا کرتے تھے لیکن وہ مسکرا کر بات ٹال دیتے تھے کبھی جواب نہیں دیا۔

وہ اس وقت نقل مکانی پر تحقیق اور تحریر کر رہے تھے۔ کون سے بڑے بین الاقوامی صحافی نہیں جو ان کے دفتر کے باہر ملاقات کے منتظر نہ دیکھے۔ ان کے ذریعے ہمیں بھی کبھی کبھی فکسنگ یا مترجم کا کام مل جاتا تھا۔

1996 میں برطانوی حکومت کی سکالرشپ ملی تو ایک سال کے لیے صحافت کے لیے لندن چلا گیا۔ واپسی پر بی بی سی اردو کی بلوچستان میں نمائندہ بننے کی زبانی پیشکش ملی، لیکن جب کئی دن پشاور واپسی پر بھی کوئی سگنل نہیں ملا تو واپس رحیم اللہ صاحب کے پاس پہنچ گیا۔

کہنے لگے اگر بی بی سی نے کہا ہے تو انتظار کرو ورنہ دوبارہ رکھنے میں انہیں کوئی مشکل نہیں۔ ان کے مشورے پر صبر کیا تو آج جہاں ہوں ان کی حوصلہ افزائی کی وجہ سے ہوں۔

ان سے تمام وقت دفتر میں سب لوگ افغانستان پر کتاب لکھنے کا تقاضہ کیا کرتے رہتے تھے۔ سب کے خیال میں ملا محمد عمر اور اسامہ بن لادن سے ملاقاتوں کے بعد ان پر تاریخ کا یہ حق بنتا تھا کہ وہ کچھ یاداشتیں یکجا کرکے چھوڑ جاتے لیکن ان کی کوشش تمام عمر ایک منجھے ہوئے اصل صحافی کی طرح روزانہ کے واقعات کو کور کرنے کی رہتی تھی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مجھے شک ہے کہ اخبار میں چھپنے والی اپنی بائی لائن سے انہیں بہت پیار تھا۔ آخر پروف ریڈنگ سے صحافت میں آنے والے اس شخص کے لیے یہ یقیناً ایک بڑا اعزاز تھا۔ وہ کسی کی سفارش پر نہیں بلکہ اپنی محنت کے بل بوتے پر اس مقام پر پہنچے تھے۔

وہ بتایا کرتے تھے کہ صحافت میں ان کی جان تھی۔ ’میں اپنے کتنے سوشل فنکشن اور اپنی پسند کی چیزیں اپنے کام کی وجہ سے چھوڑ دیتا تھا۔ ان کے لیے وقت کہاں تھا۔ اپنے خاندان کو وقت نہیں دے پاتا تھا۔‘

ان کی والدہ نے ایک مرتبہ ان سے شکایت کی کہ ’ایک دن میں مر جاؤں گی اور تم کہو گے کہ اماں پہلے مجھے اپنا آرٹیکل ڈیڈلائن کے اندر مکمل کرنا ہے اور پھر تم جنازے کے لیے لیٹ ہو جاؤ گے۔‘

موٹے شیشوں کی عینک پہننے والے چھ فٹ کے اس لمبے شخص رحیم اللہ یوسفزئی کی اپنی ایک شخصیت تھی۔ انتہائی نفیس انسان، جنہیں میں نے کبھی اونچی آواز میں بات کرتے نہیں دیکھا۔

ان سے آخری بات گذشتہ اگست میں مانسہرہ یونیورسٹی کے شعبہ صحافت کے بورڈ آف سٹیڈیز کے اجلاس میں سکائپ پر ہوئی۔ وہ اتنے زیادہ لاغر تھے کہ بات نہیں کر پا رہے تھے لیکن اجلاس میں شرکت ضرور کی۔ وہاں ان سے وعدہ کیا کہ پشاور آ کر ان سے حال احوال کروں گا لیکن تقدیر نے اس کی اجازت نہیں دی۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان